بڑے مسلمان ملک کی خاتون جج نے تعلیمی اداروں میں چھپے بھیڑیوں کو بے نقاب کردیا

2018 ,دسمبر 18



ابوجہ (مانیٹرنگ رپورٹ) نائجیریا کی ایک عدالت کی جانب سے اس پروفیسر کو جیل بھجوادیا گیا ہے جس نے ایک طالبہ کو نمبر بڑھانے کیلئے جنسی تعلق استوار کرنے کی آفر کی تھی۔ جج نے فیصلے میں کہا کہ ہم اپنے بچوں کو سکول میں پڑھنے کیلئے بھیجتے ہیں لیکن وہ ہمیں آکر بتاتے ہیں کہ لیکچرر ان کے ساتھ سونا چاہتا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں اس طرح کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔

نائجیریا کے شہر اوسوگبو کی فیڈرل ہائیکورٹ کی خاتون جج مورین انتونیو نے اوبافیمی اوولوو یونیورسٹی کے پروفیسر رچرڈ اکینڈیل کو کرپشن اور جنسی ہراسانی کے جرائم میں جیل بھجوایا ہے۔ یونیورسٹی کے پروفیسر کو ایک طالبہ سے امتحان میں نمبر بڑھانے کیلئے جنسی تعلق استوار کرنے کا کہنے پر 4 الزامات کا سامنا تھا۔ پروفیسر کو عدالت کی جانب سے مجموعی طور پر 6 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ دو جرموں میں اسے 2،2 سال اور دو جرائم میں اسے ایک ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

خاتون جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ’ہم اپنے بچوں کو سکول میں پڑھنے کیلئے بھیجتے ہیں لیکن وہ ہمیں آکر بتاتے ہیں کہ لیکچرر ان کے ساتھ سونا چاہتا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں اس طرح کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ ہم اسے مزید برداشت نہیں کرسکتے، ہمیں کسی نہ کسی کو نشانِ عبرت بنانا ہوگا کیونکہ اب تو پرائمری سکولوں کے بچے بھی جنسی ہراسانی کی شکایات کر رہے ہیں‘۔جج نے مزید کہا کہ عدالت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے حقوق بالخصوص خواتین سٹوڈنٹس کے حقوق کا تحفظ کرے۔

خیال رہے کہ مذکورہ یونیورسٹی کی ایک خاتون طالبہ نے اپریل میں ایک ریکارڈنگ پیش کی تھی جس میں انتظامیہ اور اکاﺅنٹنگ کے لیکچرر کی جانب سے اسے جنسی تعلق استوار کرنے کا کہا جارہا تھا ۔ پروفیسر نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر طالبہ اس کی شیطانی خواہش کی تکمیل نہیں کرے گی تو اسے فیل کردیا جائے گا۔واقعہ سامنے آنے کے بعد پروفیسر کو جون میں نوکری سے ہٹادیا گیا تھا اور پیر کو (17 دسمبر) اسے 6 سال کی سزا سنادی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں