تصوف صوفی ازم اور مزارات

2019 ,اپریل 5



طریقت اور تصوف دین کا باطنی پہلو ہے ۔تصوف میں باطن کی آوازاور وجدان کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی نے شریعت اور طریقت کی بڑی عمدہ وضاحت فرمائی ہے۔’’ طریقت ، بے شریعت خدا کے گھر مقبول نہیں۔ صفائی قلب کفار کو بھی حاصل ہوتی ہے۔ قلب کا حال مثل آئینہ ہے۔ آئینہ زنگ آلود ہو تو پیشاب سے صاف ہوجاتا ہے اور گلاب سے بھی لیکن فرق نجاست اور طہارت کا ہے۔ شریعت و طریقت کے تعلق سے شیخ ابوطالب مکی فرماتے ہیں :

’’یہ دونوں علوم بنیادی علوم ہیں جو ایک دوسرے سے بے نیاز نہیں ہوسکتے۔ اور امام مالک فقہی انداز میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’جس نے فقہ (شریعت ) حاصل کی اور تصوف (طریقت) حاصل نہ کیا اس نے فسق کیا۔ اور جس نے تصوف حاصل کیا اور فقہ حاصل نہ کی وہ زندیق ہوا اور جس نے یہ دونوں علوم حاصل کئے ، اْس نے حقیقت کو پالیا‘‘۔

شیخ زروق فرماتے ہیں : ’’تصوف کی نسبت دین کے ساتھ ایسی ہے جیسے روح کی نسبت جسم کے ساتھ‘‘۔

پنجاب کے وزیر اوقاف و مزارات پیرسیدسعیدالحسن شاہ اپنی وزارت میںبہت کچھ کرنے کا عزم اوراصلاحات کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔لاہور میں صوفی یونیورسٹی کے قیام کو مشن کے طور پر لے کر چل رہے ہیں۔ہمارے دوست معاذ حسن ہاشمی اپنے طور پر ادارہ صوفی ازم بنا رہے ہیں۔ صوفی کانفرس کرارہے ہیں۔پیر سعیدالحسن شاہ ظاہروباطن صوفی ہیں۔ معاذ ہاشمی اندر سے صوفی ہیں۔دونوں کا مشن ایک جیسا ہے، ایسے دیگر ہم خیال،ہم کمال اورہم جمال مل بیٹھیں تو صوفی ازم کا فروغ ممکن ہے۔پاکستان میں تصوف کا فروغ کہنے کی حد تک آسان ہے مگر اس کی جس حد اور سطح پر مخالفت ہوتی ہے کوئی انسٹیٹیوٹ بنانا اور پھر اسے خوش اسلوبی سے چلانا کاردارد ہے۔کئی لوگ تصوف کی فی سبیل اللہ دشمنی کی حد تک مخالفت کوایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ان میں ایسے بھی ہیں جودرگاہوں پر منتوں کا وسیلہ ہیں۔یہ مخلوق رکاوٹ بنے گی مگر عزم راسخ ہو تو جن ہستیوں کی تعلیمات کے فروغ کیلئے یہ بیڑہ اٹھایا جارہا ہے انکی تائید سے تمام رکاوٹیں اور سازشیں طوفانوں کے سامنے خش و خشاک کی طرح بہہ جائیں گی۔

بچپن میں معاذہاشمی آزاد کشمیر میں دادا کے ساتھ گھر سے باہر گئے ۔ایک جوگی چند لوگوں کے درمیان بیٹھا تھا انکے دادا نے اسکی کمر میں چھڑی چبھوتے ہوئے کہا، میں نے تمہیں اس علاقے میں آنے سے منع کیا تھا،یہ سن کر وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا، اس کی موٹی موٹی سرخ آنکھیں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔ وہ شدیدغصے میں تھا، اس نے سامنے پہاڑ کی طرف اپنے بازو کئے، پہاڑ کو اٹھانے کے انداز میں پورا زور لگاتے ہوئے گھوں گھوں کی آواز نکالی تو پہاڑ چھ سات فٹ اونچا اٹھ گیا اور دوسری طرف کا منظر نظر آنے لگا۔ اسکے بعد اس نے اپنے ہاتھ نیچے کر لیے اور پہاڑ اپنی جگہ پر آ گیا۔ اسکے ساتھ ہی وہ بھاگ گیا۔ یہ سارا اسکے جادو کا کمال تھا لیکن جادو کو کس نے ناکام بنایا وہ تصوف کا حسن و جمال تھا۔تصوف کی بات کرتے ہوئے سعید الحسن شاہ نے بھی مثالیں دیں۔حضرت عمر جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے تو فرمایا ساریۃ الجبل،صوفی وہ کچھ دیکھ رہا ہوتا ہے اور وہ کچھ کرسکتا ہے جو عام آدمی کے بس کی بات ہے نہ اسے اسکا ادراک ہوسکتا ہے۔ ملکہ بلقیس کا تخت دوسری طرف دیکھنے سے پہلے آصف بن برخیا حضرت سلیمان ؑ کے دربار میں لے آیا تھا۔

گزشتہ دنوں ضیاء الحق نقشبندی کچھ صحافیوں کو وزیر اوقاف سے ملانے داتا دربار لے گئے۔ پیر سعید الحسن شاہ اپنی وزارت میں بہت سی اصطلاحات لانا چاہتے ہیں بہت کچھ کر گزرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ صحافیوں کے داتا دربار پر حاضری اور پیر سعید الحسن شاہ صاحب سے گفتگو کے بارے میں عامر خاکوانی،عقیل انجم اعوان اور واصف ناگی نے بڑی تفصیل کے ساتھ لکھا ہے اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔وزیر اوقاف ہمت سے کام لیں تو مزارات کو بڑے فلاحی اداروں اور کمیونٹی سینٹرز میں بدلہ جاسکتا ہے۔ مزارات کی آمدنی بے حد و حساب ہے۔ داتا دربار کا جوتوں کا ٹھیکہ پانچ کروڑ تک جاتا ہے، مزاروں پر چڑھاوے چڑھتے غلے بھرتے مزاروں کے نام جائیدادیں ہیں اور دکانیں،ان ذرائع کو فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مزاروں کے ساتھ ہسپتال اور سکول و مدارس بن سکتے ہیں۔مساجدمیں اور مزارات پر شادیوں بارے میں کم کم سنا گیا۔یہ روایت قائم کی جاسکتی ہے۔وزیر اوقاف نے 17 نکاتی ایجنڈے سے بھی آگاہ کیا پہلا نکتہ محکمہ اوقاف سے کرپشن کاہر حال میں خاتمہ کرنا ہے۔اس مقصد کیلئے روایتی گلہ کی جگہ پر الیکٹرانک کیش ڈیپازٹ باکسز کی مزارات میں تنصیب، مزار پر موجود ملازمین کی مانیٹرنگ اور ٹریکنگ کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال،اوقاف کی زمینوں پر درخت لگوانا،قبضہ جات کا خاتمہ،مزید سہولتوں کی فراہمی، موجودہ سہولتوں کواپ گریڈ کرنا،پنجاب کے تمام مزارات پر زائرین کیلئے شیلٹر ہائوسز کی تعمیر،مزارات میں تصوف اکیڈیمیز شروع کرانا،محکمہ کی ویب سائیٹ کو بھرپورانداز میں اپ ڈیٹ کرنا،سٹاف کی ریکروٹمنٹ کا شفاف طریقہ کار وغیرہ۔ ان نکات میں سے کچھ پر پیش رفت ہوچکی ہے۔ سب سے اہم نقطہ مزارات پر جوتوں کا ٹھیکہ ختم کرنا ہے پاپوش مافیا بہت گہری جڑیں رکھتا ہے اگر اس پر قابو پا لیا جائے تو بڑی کامیابی ہو گی۔ اسی محفل میں وزیر اوقاف نے بتایا کہ ترکی میں مزارات پر دو دو گھنٹے کیلئے بڑے بڑے افسر درخواست دے کے جوتے سنبھالنے کی ڈیوٹی کرتے ہیں جبکہ گردواروں میں جائیں تو وہاں جوتے بڑے قرینے اوراہتمام سے رکھے جاتے اور واپسی پر پالش کئے ہوتے ہیں۔مزارات پر جوتوں کے ٹھیکے ختم ہوجائیں، اول تو جوتے سنبھالنے کیلئے بہت سے رضاکار مل جائینگے اگر ایسا نہیں بھی ہوتا توملازم رکھے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں