پلوامہ حملہ : پاکستان نے دھماکہ خیز اعلان کردیا ، انڈیا کو لینے کے دینے پڑ گئے

2019 ,فروری 15



اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکہ کی جانب سے پلوامہ حملہ میں پاکستان پر بے جا الزام تراشی پرسخت احتجاج کیا گیا ہے ، اس حوالے سے سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے امریکی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا ہےاور کہا اس کا پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے. امریکہ کی جانب سے پلوامہ حملہ میں پاکستان پر بے جا الزام تراشی پر سخت احتجاج کیا گیا ہے ، اس حوالے سے سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے امریکی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا ہے ۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ جیش محمد کالعدم جماعت ہے ، اس کا پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، امریکہ نے اپنے مذمتی بیان میں مقبوضہ کشمیر میں حملہ کرنیوالی کالعدم جماعت کو پاکستانی دہشت گرد جماعت ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے دوطرفہ تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں ۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اپنی سرزمین سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا، پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اہم کردار کیا جسے امریکہ نے بھی تسلیم کیا ہے۔ خیال رہے پاکستان اور بھارت کے زیرِ اتنظام رہنے والے کشمیریوں کا کہنا ہے گو کہ پاکستان کا کشمیر کی عسکریت پسندی میں ہاتھ رہا ہے لیکن بھارتی جارحانہ اقدامات بھی کشمیر میں عسکریت پسندی کو ہوا دے رہے ہیں اور ایسے حملے بھارتی ریاستی جبر کا ردِ عمل ہیں۔
واضح رہے کہ کل بروز جمعرات کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والے خود کش حملے کی ذمہ داری پاکستانی عسکریت پسند تنظیم جیشِ محمد نے قبول کر لی ہے۔ نئی دہلی نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے سخت ردِعمل کا انتباہ دیا ہے اور اسلام آباد کو دھمکی دی ہے کہ اس کو سفارتی سطح پر تنہا کیا جائے گا۔ کئی دہائیوں تک پاکستان کے اتحادی رہنے والے امریکاہ اہلکار، جو اسلام آباد کی مدد سے طالبان سے مذاکرات کر رہے ، نے بھی پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرے اور دہشت گردوں کو نہ محفوظ پناہ گاہیں دیں اور نہ ہی ان کی حمایت کرے۔پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھارتی الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ جب کہ پاکستانی تجزیہ نگار اس حملے کے پیچھے نئی دہلی کا ہاتھ دیکھتے ہیں۔ دفاعی تجزیہ نگار جنرل امجد شیعب نے اس حملے کا الزام بھارتی جاسوسی تنظیم را پر لگاتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میں نے یہ پیشن گوئی کی تھی کہ اگر بھارت اس طرح ظلم کرے گا تو بہت سارے کشمیری نوجوان ایسی ذلت کی زندگی سے عزت کی موت کو ترجیح دیں گے۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی نے ایسے ہی کسی کشمیری نوجوان کو اس کام کے لیے استعمال کیا تاکہ پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دیا جائے اور اس میں ہونے والی اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کو روکا جائے، اسے سفارتی طور پر تنہا کیا جائے، اس حملے کو جواز بنا کر کشمیری عوام کو کچلا جائے، کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ظلم و ستم کو دہشت گردی کے خلاف جنگ قرار دیا جائے اور فاٹا میں گڑ بڑ کر کے پاکستان کی توجہ افغان امن عمل سے ہٹائی جائے۔‘‘

متعلقہ خبریں