جب زندگی شروع ہوگی

2018 ,فروری 9



یہ ایک اور الف لیلوی جگہ تھی۔ میں اس سے پہلے صالح کے ساتھ یہاں کئی دفعہ آچکا تھا۔ مگر ہر دفعہ یہاں نت نئی چیزیں موجود ہوا کرتی تھیں۔ اس جگہ کے لیے شاپنگ سنٹر یا بازار جیسی اصطلاحات قطعاً غیر مناسب تھیں۔ یہ سیکڑوں میل تک پھیلا ہوا ایک علاقہ تھا جو رنگ و نور کے سیلاب سے روشن تھا۔ یہاں رات کا وقت ہی طاری رہا کرتا تھا۔ کھانے پینے، پہننے اور برتنے کی یہاں اتنی اشیا تھیں کہ ان کی تعداد تو دور کی بات ہے، ان کی مختلف اقسام اور ورائٹی ہی کروڑوں کی تعداد میں تھی۔ ہر جگہ یہاں فرشتے تعینات تھے۔ لوگ ڈسپلے سے چیز پسند کرلیتے اور پھر فرشتوں کو نوٹ کرادیتے۔ جس کے بعد یہ چیزیں لوگوں کے گھروں میں پہنچادی جاتیں۔ فرشتے ہر شخص کا ریکارڈ چیک کرکے اس کے بارے میں سب کچھ جان لیتے۔ اس بازار کے دو حصے تھے ایک حصے میں عام جنتی خریداری کرسکتے تھے۔ دوسرا حصہ خواص کے لیے مخصوص تھا۔ عام لوگ یہاں جا تو سکتے تھے، مگر یہاں خریداری کی اجازت صرف اعلیٰ درجے کے جنتیوں کو تھی۔
یہ سب پہلی دفعہ یہاں آئے تھے۔ میں پہلے انہیں عوام والے حصے میں لے کر گیا۔ یہ لوگ اس کو دیکھ کر ہی خوشی سے پاگل ہوگئے۔ اس کے بعد انھوں نے جو دل چاہا خریدنا شروع کردیا۔ البتہ ناعمہ سارا وقت میرے ساتھ ہی رہی۔ وہ خریداری سے فارغ ہوگئے تو میں نے کہا کہ میں تمھیں کھانا کھلانے لے جاتا ہوں۔ کھانے کے لیے میں انہیں اوپر لے گیا۔ یہاں چھت سے دور دور تک خوبصورت روشنیاں نظر آرہی تھیں۔ جبکہ اوپر تاروں بھرا آسمان تھا۔ دنیا کے برخلاف جہاں شہر کی روشنیاں تاروں کی چمک کو ماند کردیتی تھیں یہاں زمین و آسمان پر یکساں جگمگاہٹ تھی۔
تاروں کی دودھیا روشنی اور ٹھنڈی ہوا میں کھانے کی اشتہا انگیز خوشبو نے فضا کو بے حد موثر بنارکھا تھا۔ بازار کی طرح یہاں بھی پس منظر میں دھیمی سی موسیقی چل رہی تھی۔ کھانے کی اتنی ورائٹی تھی کہ کسی کو سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کھائیں۔ جو چیز لیتے وہ اتنی لذیذ ہوتی کہ چھوڑنے کا دل ہی نہیں چاہتا تھا۔ مگر شکر خدا کا کہ یہاں پیٹ بھرنے کا کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا جس کی بنا پر جب تک دل چاہتا رہا ہم لوگ بیٹھ کر کھاتے رہے۔
واپسی پر میں جان بوجھ کر ان لوگوں کو بازار کے اس علاقے سے لے گیا جہاں صرف اعلیٰ درجے کے جنتی خریداری کرسکتے تھے۔ اسے دیکھ کر ان لوگوں کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ جمشید نے کہا:
”یہ بھی شاپنگ سنٹر کا حصہ ہے؟“
”ہاں یہ بھی شاپنگ کا علاقہ ہے۔“، میں نے جواب دیا۔
میری بات پوری طرح سنے بغیر ہی یہ سب لوگ شاپنگ کے لیے بکھر گئے۔ میرے ساتھ صرف ناعمہ ہی رہ گئی۔
”کیوں تم کچھ نہیں خریدوگی؟ پہلے بھی تم نے کچھ نہیں لیا اور اب بھی یہیں کھڑی ہو۔“
میری بات سن کر ناعمہ دھیرے سے مسکراکر بولی:
”میرے لیے سب سے زیادہ قیمتی چیز آپ کا ساتھ ہے۔ یہ انمول چیز آپ کے قرب کے سوا کہیں اور نہیں ملے گی۔“، یہ کہتے ہوئے ناعمہ کا روشن چہرہ اور روشن ہوگیا۔
ہم دونوں ایک جگہ ٹھہر کر خواب و خیال سے زیادہ حسین اس جگہ اور اس کے ماحول کو انجوائے کرنے لگے۔ وسیع و عریض رقبے پر پھیلا ہوا یہ بازار اپنے اندر ہر قسم کی دکانیں لیے ہوئے تھا۔ ملبوسات، فیشن، جوتے، آرائش، تحائف اور نجانے کتنی ہی دیگر چیزوں کی دکانیں یہاں تھیں۔ ہر دکان اتنی بڑی تھی کہ کئی گھنٹوں میں بھی نہیں دیکھی جاسکتی تھی۔ دنیا کا بڑے سے بڑا شاپنگ سنٹر بھی ان دکانوں کے سامنے کچھ نہ تھا۔ لیکن یہاں کی اصل کشش یہ دکانیں نہیں بلکہ وہ مسحور کن ماحول تھا جو ہر سو چھایا ہوا تھا۔ دل و دماغ کو اپنی طرف کھینچتی چیزوں سے بھری دکانیں، ان میں جگمگ جگمگ کرتی روشنیاں، معطر فضا، خنک ہوا، دھیمی دھیمی موسیقی، خوبصورت فوارے، رنگ و نور کی ہزارہا صناعیاں، طرح طرح کے دیگر ڈیزائنز، دلکش مناظر اور حسین ترین لوگوں کی چہل پہل؛ سب مل کر ایک انتہائی متاثر کن ماحول پیدا کررہے تھے۔ یہاں کا ماحول آنے والوں کی دیکھنے، سننے، سونگھنے اور دوسری ہر ا±س قوت پر جس سے اس کا ذہن کوئی تاثر قبول کرتا ہے اس طرح حملہ کررہا تھا کہ اسے گنگ کردیتا۔ دوسروں کے لیے یہ جگہ خریداری کی جگہ تھی جب کہ میرے لیے یہ ذوقِ جمال کی تسکین کا ایک اعلیٰ ذریعہ تھی۔ مگر سر دست ناعمہ کے قرب نے یہاں کے ہر رنگ کو میری نظر میں پھیکا کردیا تھا۔ لیکن ہماری تنہائی کے لمحات بہت مختصر رہے کیونکہ تھوڑی ہی دیر میں لیلیٰ لوٹ آئی اور کہنے لگی:
”ابو وہ جو ہیروں کا تاج ہے مجھ پر کیسا لگے گا؟“
”بہت پیارا لگے گا۔“
”مگر ابو یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ آپ اسے خرید نہیں سکتیں۔“
”اچھا!“، میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ باقی لوگ بھی منہ لٹکائے لوٹ آئے۔ انور نے کہا:
”ابو چلیں یہاں زیادہ اچھی چیزیں نہیں ہیں۔“
”دوسرے الفاظ میں انگور کھٹے ہیں۔“، ناعمہ ہنستے ہوئے بولی۔
”نہیں یہ انگور اتنے کھٹے بھی نہیں ہیں۔ چلو میرے ساتھ چلو۔“
میں ان سب کو لے کر اس جگہ گیا جہاں فرشتہ موجود تھا۔ میں نے اس سے کہا:
”میرا نام عبد اللہ ہے۔ یہ میرے بیوی بچے ہیں۔ انہیں جو چاہیے آپ دے دیجیے۔“
فرشتے نے مسکراتے ہوئے کہا:
”سردار عبد اللہ! میں معذرت چاہتا ہوں آپ کو خود آنے کی زحمت کرنی پڑی۔ انہیں جو چاہیے یہ لوگ لے سکتے ہیں۔“
ان سب کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا اور یہ لوگ ایک دفعہ پھر خریداری مشن پر نکل کھڑے ہوئے۔

(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

متعلقہ خبریں