ٹیکس بڑھانے کی کیا ضرورت ہے؟ معیشت بہتر کرنی ہے تو صرف یہ کام کرو ۔۔ ورلڈ بینک نے پاکستان کو شاندار ہدایت کر دی

2019 ,مئی 7



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی آمدن میں کمی کو پورا کرنے کے لیے اضافی ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں ہے، پاکستان نئے ٹیکس عائد کرنے اور اس کی شرح بڑھائے بغیر معقول ٹیکس اکھٹا کر سکتا ہے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعان کی کمی کا بھی ذکر کیا ہے، وفاق اور صوبوں میں تعاون کی کمی سے بھی ملک کے مجموعی ٹیکسوں سے ہونے والی آمدن پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ورلڈ بینک کے پاکستان ریونیو موبلائیزیشن پراجیکٹ کی طرف سے تیار کردہ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پاکستان اگر ٹیکس وصولی 75 فیصد تک بڑھائے تو اس کی آمدن جی ڈی پی کے 26 فیصد تک ہوجائے گی جو ایک متوسط آمدن والے ملک کے لیے حقیقت پسندانہ سطح ہے۔پاکستان میں ٹیکس حکام صلاحیت کا صرف 50 فیصد ٹیکس حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو ایک منظم ادارہ نہیں ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کی پورے ملک میں موجودگی ہے جہاں اس کے پاس مجموعی طور پر 21 ہزار ملازمین موجود ہیں جن میں سے 2 تہائی حصہ ان لینڈ ریونیو سروس کے لیے جبکہ ایک تہائی حصہ پاکستان کسٹمز کے لیے کام کرتا ہے۔عالمی بینک نے وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون کی کمی کا بھی انکشاف کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے علیحدہ علیحدہ قواعد و ضوابط لاگو کرنے سے تنازعات جنم لیتے ہیں۔پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مالی استحکام اور سرمایہ کاری کی فضا قائم کرنے کے لیے ٹیکس کے ذریعے اپنی آمدن بڑھائے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت صوبوں کو ٹیکس آمدن میں ملنے والا حصہ بہت کم ہے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہورہا ہے۔ اور یہ جلد ہی پورا کر لیا جائے گا۔

دوسری جانب ایک خبر یہ بھی ہے کہ پاکستان نے ایمنسٹی اسکیم پر انٹرنیشل مانٹیری فنڈ (آئی ایم ایف) کو راضی کرلیا ہے، اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم رواں ماہ متعارف کروائے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کے دوران پاکستان نے ایمنسٹی اسکیم پر آئی ایم ایف کو راضی کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم سے ٹیکس آمدن میں اضافہ ہوسکتا ہے، اسکیم سے 170 ارب روپے کا ٹیکس مل سکتا ہے۔ اسکیم سے 2500 ارب روپے اثاثے قانونی بن سکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم رواں ماہ متعارف کروائے جانے کا امکان ہے۔ اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم آسان اور سہل ہوگی۔ اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم آئی ایم ایف پروگرام سے پہلے جاری ہوگی۔ آئی ایم ایف سے قرض پروگرام لینے کے بعد اسکیم کا اجرا نہیں ہوسکتا۔خیال رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف حکام کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں۔ آئی ایم ایف مشن کی سربراہی ارنستو ریگو کر رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں تکنیکی سطح کے مذکرات کی قیادت حکومت پاکستان کی جانب سے سیکریٹری وزارت خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کر رہے ہیں۔تکینکی مذاکرات میں آئی ایم ایف سے محصولات، ایکسچینج ریٹ، شرح سود، بجلی اور گیس کی قیمتوں پر بات چیت ہوئی۔ آئی ایم ایف کو پاور سیکٹر کے ساتھ سوشل سیفٹی نیٹ پر بریفنگ دی گئی۔آئی ایم ایف کو حکومت کی جانب سے سرکلر ڈیٹ کم کرنے، بجلی و گیس کے نرخ بڑھانے کے لیے حکمت عملی کا بھی بتایا گیا۔ آئی ایم ایف نے نئے مالی سال سے بھرپور ٹیکس اصلاحات پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ آئی ایم ایف کم از کم چھ سو ارب روپے کے نئے ٹیکسوں کا نفاذ چاہتا ہے۔

متعلقہ خبریں