اختلافات کھل کر سامنے آ گئے :میں نہیں چاہتا کہ یہ کام ہو مگر عمران خان ۔۔۔۔ شاہ محمود قریشی نے وزیر اعظم کو 440 وولٹ کا جھٹکا دے ڈالا

2019 ,مارچ 31



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریش ینے کہا ہے کہ وہ ذزاتی طور پر نہیں چاہتے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کیا جائے۔ شاہ محمود قریشی میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے جب انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر نہیں چاہتے کہ بے نظیر انکم سپورٹ کا نام بدلا جائے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم ڈیل کے قائل ہیں نہ ڈھیل پر آمادہ ہیں۔انہوں نے اس وقت بھارت میں موجود ہائی کمشنر سہیل محمود خان کو پاکستان کا نیا سیکرٹری خارجہ بنانے کا بھی اعلان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ نیب ہمارے ماتحت نہیں ہے ، جے آئی ٹی کی رپورٹ آ چکی ہے فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔ انہوں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام کی تبدیلی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ نام کی تبدیلی قانونی معاملہ ہے اور وہ ذاتی طور پر یہ نہیں چاہتے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کیا جائے۔واضح رہے کہ پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ کسی کی خواہش پر جمہوریت نہیں چل سکتی ، میں نہیں مانتا کہ آج ملک میں جمہوریت ہے ۔غلط پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی کا عذاب ہمارے گلے ہے ، ہم کسی کو نہیں پاکستان کے عوام کو بچاناچاہتے ہیں ،پی ٹی آئی کی حکومت نے روزگاراورگھردینے کاوعدہ کیاتھالیکن پی ٹی آئی کی حکومت ملک میں مہنگائی کاطوفان لے آئی ہے۔پیپلزپارٹی کے رہنما پنوعاقل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمران قرضہ لے کرشرمندگی کے بجائے اظہارمسرت کرتے ہیں،ہمارے حکمران کشکول اٹھاکرگھومتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست کو چلانے کیلئے ذوالفقار بھٹو نے آئین دیا،بھٹو نے پاکستان کو نیوکلیئر پاوردی، ذوالفقاربھٹو نے ایٹم بم بناکرسرحدوں کی حفاظت کااعلان کیاتھا،کوئی شمن ملک کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا،پی پی رہنما کا کہناتھا کہ ہم کسی کو نہیں پاکستان کے عوام کو بچاناچاہتے ہیں ،میں نہیں مانتا کہ آج جمہوریت ہے ۔خورشید شاہ نے کہا کہ 2008 سے 2013 تک ماڈل اور بہترین حکومت تھی ،

متعلقہ خبریں