آنندی … 50 لاکھ گھر

2018 ,ستمبر 27



غلام عباس کے شہرہ آفاق افسانے میں ایک شہر کی کہانی بیان کی گئی ہے جس کے عین مرکز میں موجود بازارِ حسن کی وجہ سے شرفا ناک بھوں چڑھاتے ہیں، چنانچہ بلدیہ شہر سے چھ کوس دور ان کو جا بسنے کی راہ دکھادیتی ہے۔ پانچ کوس تک پکی سڑک جاتی تھی ، اس سے آگے کا کچا راستہ تھا۔ کسی زمانے میں وہاں کوئی بستی ہوگی مگر اب تو کھنڈروں کے سوا کچھ نہ رہا تھا۔ جن میں سانپوں اور چمگادڑوں کے مسکن تھے اور دن دہاڑے الو بولتے تھے۔ اس علاقے کے نواح میں کچے گھروندوں والے کئی چھوٹے چھوٹے گاؤں تھے۔ بعض اوقات روز روشن ہی میں گیدڑ اس علاقے میں پھرتے تھے۔
پانچ سو میں سے صرف چودہ ایسی تھیں جو اپنے عشاق کی وابستگی یا خود اپنی دل بستگی یا کسی اور وجہ سے بادل نخواستہ اس علاقہ میں رہنے پر آمادہ ہوئیں۔یہ چودہ اچھی خاصی مالدار تھیں۔ اس پر شہر میں انکے مملوکہ مکانوں کے دام اچھے وصول ہوگئے تھے جبکہ نئے علاقے میں زمین کی قیمت برائے نام تھی۔چنانچہ انہوں نے اس علاقے میں جی کھول کر بڑے بڑے عالی شان مکان بنوانے کی ٹھان لی۔ چابک دست نقشہ نویسوں سے نقشے بنوائے گئے اور چند ہی روز میں تعمیر کا کام شروع ہوگیا۔
دن بھر اینٹ، مٹی، چونا، شہتیر، گارڈر اور دوسرا عمارتی سامان لاریوں، چھکڑوں، خچروں، گدھوں اور انسانوں پر لد کر اس بستی میں آتا۔ غرض سارا دن ایک شور، ایک ہنگامہ رہتا اور سارا دن آس پاس کے گاؤں کے دیہاتی اپنے کھیتوں میں اور دیہاتنیں اپنے گھروں میں ہوا کے جھونکوں کے ساتھ دور سے آتی ہوئی کھٹ کھٹ کی دھیمی آوازیں سنتی رہتیں۔اس بستی کے کھنڈروں میں ایک جگہ مسجد کے آثار تھے اور اسکے پاس ہی ایک کنواں تھا جو بند پڑا تھا۔ راج مزدورں نے کچھ تو پانی حاصل کرنے اور بیٹھ کر سستانے کی غرض سے اور کچھ ثواب کمانے اور اپنے نمازی بھائیوں کی عبادت گزاری کے خیال سے سب سے پہلے اسی کی مرمت کی۔دو تین روز میں مسجد تیار ہوگئی۔دن کو بارہ بجے جیسے ہی کھانا کھانے کی چھٹی ہوئی۔ دو ڈھائی سو،راج، مزدور، میر عمارت، منشی اور ان بیسواؤں کے رشتہ دار یا کارندے جو تعمیر کی نگرانی پر مامور تھے اس مسجد کے آس پاس جمع ہوجاتے اور اچھا خاصا میلہ سا لگ جاتا۔
ایک دن ایک دیہاتی بڑھیا جو پاس کے کسی گاؤں میں رہتی تھی اس بستی کی خبر سن کر آگئی۔ اسکے ساتھ ایک نوعمر لڑکا تھا۔ دونوں نے مسجدکے قریب ایک درخت کے نیچے گھٹیا سگریٹ بیڑی، چنے اور گڑ کی بنی ہوئی مٹھائیوں کا خوانچہ لگا دیا۔ بڑھیا کو آئے ابھی دو دن بھی نہ گزرے تھے کہ ایک بوڑھا کسان کہیں سے ایک مٹکا اٹھا لایا اور کنویں کے پاس اینٹوں کا ایک چھوا سا چبوترا بنا کر پیسے دو پیسے کے شکر کے شربت کے گلاس بیچنے لگا۔ ایک کنجڑے کو جو خبر ہوئی وہ ایک ٹوکرے میں خربوزے بھر کرلے آیا اور خوانچہ والی بڑھیا کے پاس بیٹھ کر، لے لو خربوزے شہد سے میٹھے خربوزے کی صدا لگانے لگا۔ ایک شخص نے کیا کیا۔ گھر سے سری پائے پکا، دیگچی میں رکھ، خوانچہ میں لگا۔ تھوڑی سی روٹیاں مٹی کے دو تین پیالے اور ٹین کا ایک گلاس لے کے آموجود ہوا اور اس بستی کے کارکنوں کو جنگل میں گھر کی ہنڈیا اور مزا چکھانے لگا۔مسجد پہلے آباد ہوچکی تھی،کہیں سے پیش امام بھی آگیا۔قرب میں ایک پرانے مزار کی آرائش ہونے لگی،اس پر مجاور بھی کہیں سے وارد ہوگیا۔دن گزرتے گئے مکانات مکمل ہوگئے اس دوران، سینما ، ڈاکخانہ، شادی حال اور بہت کچھ بھی بن گیا۔شہر کی آبادی سیکڑوں سے ہزاروں ہوگئی۔عشاق کو دور دراز سے آنے کی زحمت اٹھانے کی ضرورت نہ رہی،یہ جنس اسی شہر میں وافر مقدار میں پائی جانے لگی۔اس شہر کے صدقے ،ہزاروں لوگوں کو گھر اور روزگار مل گیا۔وہ طبقہ بھی کچھ عرصہ بعد جذبات سے مغلوب نظر آیا جو شہر کے وسط میںطوائفوں کے گھروں کونوجوان نسل کی اخلاقیات پر تازیانہ اور ضرب کاری قرار دے کر انہیں شہر بدر کرنے پرزور دیا ۔اس مرتبہ ان عورتوں کے رہنے کیلئے جو علاقہ منتخب کیا گیا وہ شہر سے بارہ کوس دور تھا۔عمران خان نے پانچ سال میں ایک کروڑ افراد کو روزگار اور 50لاکھ بے گھر افراد کو اپنی چھت دلانے کا وعدہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینٹرز کے ساتھ ہر بااثر پارٹی لیڈر کے پاس نوکری اور گھر کے حصول کی درخواستیں پہنچ گئی ہونگی۔ کچھ لوگ اسے ناممکنات میں شامل کرتے ہیں جوکچھ قابل عمل ہو اسے ناممکن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر کوئی کہے کہ سال کے 12کے بجائے 11یا 13مہینے ہو جائیں یہ ناقابل عمل ہے۔ اگر کالا باغ ڈیم کی دو سال میں تکمیل کی بات کی جائے تو یہ قابل عمل اور عین ممکن ہے۔ ایک سال میں ایک کروڑ ملازمتیں اور 50لاکھ گھر قابل عمل منصوبے ہیں۔ ماضی کے حکمرانوں کے ایسے دعوئوں اور وعدوں کی عدم تکمیل کے باعث موجودہ حکمران پارٹی پر بھی بے اعتمادی ظاہر کی جا رہی ہے۔
آنندی بغیر کسی پلاننگ اور منصوبہ بندی کے آباد ہوا ‘اسے گناہوں کی کو کھ سے جنم دیا ہوا، شہر کہا جا سکتا ہے۔ بہت سے شہر متقی اور پارسا انسانوں کے جنگل، ا جاڑ اور بیابانوں میں کسی نہر یا چشمے کے کنارے بسیرا کرنے سے آباد ہو گئے ۔ پلاننگ کی جائے تو اسلام آباد جیسے شہر مثالی شہر بس جاتے ہیں۔ کراچی سے اسلام آباد دارالحکومت لانے کی جو بھی وجوہات ہوں یہ بہرحال خوبصورتی اور انسان دوست ماحول اپنے جلو میں لئے ہوئے ہے۔ ایسا ہی خوبصورت اور دلکش آب و ہوا اور فضا رکھنے والا علاقہ فورٹ منرو بھی ہے۔ یہ علاقہ ڈیرہ غازی خان میں ہے جس کی سرحدیں چاروں صوبوں سے ملتی ہیں۔ پاکستان کے دارالحکومت کیلئے یہ بہترین انتخاب ہونا چاہئے تھا۔ وہ تو نہ ہو سکا مگر یہ قابل عمل ضرور ہے جو قابل عمل ہو وہ ناممکن نہیں ہوتا ، اسکے سرِ دست امکانات کم ہیں۔ البتہ فورٹ منرو کو مجوزہ جنوبی پنجاب صوبہ کے دارالحکومت کے طور پر اسلام آباد کی طرح پلاننگ کرکے نیا شہر تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
جنوبی پنجاب صوبہ تحریک انصاف حکومت اپنے وعدے کے مطابق عملی شکل میں سامنے لاتی ہے تو دارالحکومت کیلئے ملتان اور بہاولپور کے مابین کھینچا تانی نہیں تنازعہ کی صورت میں سامنے آئے گا ۔نفرتوں کی ایک اور داستان جنم لے گی۔ اس تنازع کو ابھرنے سے پہلے فورٹ منرو کو صوبے کا دارالحکومت قرار دے کر دبایا جا سکتا ہے اس شہر کی تعمیر سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کتنے لوگوں کو روزگار ملے گا، کتنے لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا ہونگی اور کتنے لوگوں کو گھر کی چھت میسر ہوگی۔
آج بڑے شہروں کا برا حال ہے، شہر بڑھتے جا رہے ہیں، پھیلتے جا رہے ہیں مگر شہری سہولیات ناپید ہیں۔ کراچی، لاہور، پنڈی، ملتان، فیصل آباد، کوئٹہ، پشاور جیسے شہروں کیلئے اپنا بوجھ برداشت کرنا مشکل ہے۔ نبی کریم ؐ کا فرمان ہے شہر بڑے ہو جائیں تو نئے شہر بسالئے جائیں۔ حکومت کو بڑے شہروں کا بوجھ کم کرنے کیلئے نئے شہر بسانے کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ یہ ایک پلاننگ کے تحت بنیں گے تو خوبصورت ہونگے اور ان شہروں کی تعمیر کے دوران روزگار کیلئے بے شمار مواقع پیدا ہونگے۔ ایسے شہروں میں سرکاری اداروں کے ملازمین کیلئے گھر تعمیر ہونے سے حکومت کا 50لاکھ گھروں کی تعمیر کا وعدہ بھی پورا ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں