’’ آپ یہ لیدر کی جیکٹ اُتار کیوں نہیں دیتے ‘‘ وزیر اعظم عمران خان نے یہ بات کس نے اور کیوں کہی؟ جواب آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کر دے گا

2019 ,فروری 7



لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک) معروف براڈکاسٹر نے ہلکے پھلکے انداز میں وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے لیے یہ بہت غیر منا سب ہے،عمران خان یہ لیدر جیکٹس اتار کیوں نہیں دیتے۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کو وزارت اعظمیٰ کا حلف اٹھائے 5 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے ۔تاہم اس سارے عرصہ میں انکی شخصیت کا ایک اہم پہلو ابھر کر سامنے آیا ہے اور وہ انکی سادہ مزاجی ہے۔انکی سادگی کا عالم یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پینٹ کوٹ پہننے کی بجائے قومی لباس شلوار قمیص پہن کربڑے بڑے ایونٹس میں شرکت کرتے ہیں تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ شلوار قمیض اور پشاوری چپل وزیراعظم عمران خان کی پہچان بن گئی ہے۔گزشتہ ماہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم عمران خان کو ڈریسنگ بہتر کرنے کا مشورہ دیا۔ان کا ایک انٹر ویو کے دوران کہنا تھا کہ میں نے سنا ہے جب عمران خان سعودی عرب گئے تھے تو ایک ہی شلوار قمیض میں گئے تھے اور ان کے کپڑوں پر چائے گر گئی۔مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ یہ بات صحیح ہے یا غلط لیکن میں یہ بات ضرور سنی ہے۔پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ میں عمران خان کو یہی نصیحت کروں گا کہ وہ اپنے پاس تین چار شلوار قمیض رکھیں۔ایک اور موقع پر انکی شلوار قیمص میں موجود سوراخ سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئے تاہم وزیر اعظم عمران خان نے اپنی سادگی کی روایت کو جاری رکھا ۔ڈریسنگ نہ تبدیل نہ ہوئی تاہم سردیوں میں لیدر جیکٹ کا اضافہ ہوگیا۔وزیر اعظم سرکاری اور غیر سرکاری میٹنگز میں معمولی لیدر جیکٹ زیب تن کئیے ہوتے ہیں جس پر معروف برطانوی براڈکاسٹر جو اب پاکستانی شہری بن چکے ہیں نے وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنادیا۔جارج کا کہنا تھا کہ عمران خان یہ لیدر جیکٹس اتار کیوں نہیں دیتے ، کسی بھی ملک کے وزیر اعظم کے لیے ہر وقت غیر رسمی لباس میں رہنا بڑ ی عجیب بات ہے۔

متعلقہ خبریں