نواز شریف کے خلاف فیصلہ تو دراصل ۔۔۔۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریٹائرمنٹ کے بعد خاموشی توڑ ڈالی ، ایسا انکشاف کر دیا کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا

2019 ,اپریل 7



لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر) میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ نے نوازشریف کی حکومت کے خلاف فیصلے میں عدلیہ کا کوئی سیاسی کردار نہیں تھا۔جرمن میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران جسٹس(ر) میاں ثاقب نثار نے کہا کہ عدلیہ نے نوازشریف کے خلاف قانون کے مطابق فیصلہ کیا، نوازشریف کی حکومت کے خلاف عدلیہ نے کوئی سیاست نہیں کی، عدالتی فیصلہ پڑھنے سے تمام سوالوں کا جواب مل جائے گا کہ عدلیہ نے اپنا کردار قانون کے دائرے میں رہ کر پورا کیا۔سابق چیف جسٹس نے کہا کہ چند ماہ قبل ڈیم کی آگاہی مہم پر آنے والے اخراجات پر سوالات اٹھائے گئے تھے اور اعتراض کیا گیا کہ اتنے پیسے خرچ کردیے جس پر سپریم کورٹ کے عملدرآمد بینچ نے اپنے حکم میں اور پیمرا نے بھی واضح کیا کہ قانون کے تحت عوامی آگاہی کے لیے متعین کیے گئے وقت میں سے ڈیم کی آگاہی مہم چلائی گئی جو کہ پبلک سروس میسج کے دائرے میں آتی ہے، دوسری جناب خبر یہ ہے کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ذالرز کی ذخیرہ اندوزی، منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کرتے ہوئے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔تفصیلات کے مطابق حکومتِ پاکستان کی ہدایت پر ایف آئی اے نے ڈالرزکی ذخیرہ اندوزی،منی لانڈرنگ،حوالہ ہنڈی کےخلاف ایکشن کا آغاز کردیا، انویسٹی گیشن ایجنسی نے ڈالرزکی قیمتوں میں کمی کی افواہوں کابھی نوٹس لے لیا۔نمائندہ اے آر وائی احمر کھوکھر کے مطابق ایف آئی اےپنجاب کی بینکنگ سرکل،کارپوریٹ کرائم کو ایکشن کی ہدایت کی جس پر عمل کرتے ہوئے 2 ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔ایف آئی اے ہاتھوں گرفتار ہونے والے ملزمان کی شناخت حسن غلام غوث اور عمر ڈار کے ناموں سے ہوئی۔ حکام کے مطابق ملزمان نے روپےکی قیمت گرانےکےلئےڈالرزکی ذخیرہ اندوزی کی جس کے باعث مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہوئی۔

متعلقہ خبریں