میجر جنرل آصف غفور نے ’ منظور پشتین ، علی وزیر ‘ سمیت ریاست کے خلاف لڑنے والے تمام عناصر کے خلاف بڑا اعلان کر دیا

2019 ,اپریل 29



راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک ) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پی ٹی ایم کو جتنی چھوٹ لینی تھی لے لی، بس بہت ہوگیا، پی ٹی ایم کہتی ہے کہ فوج سے لڑیں گے، لیکن کوئی بھی ریاست سے نہیں لڑ سکتا، جب گلے کاٹے جا رہے تھے تو پی ٹی ایم کہاں تھی؟ ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کا ایک ہی بیانیہ کیوں ہے؟ انہوں نے آج میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ این ڈی ایس اور را نے پی ٹی ایم کو کتنے پیسے دیے؟ کیوں افغانستان کو کہا گیا کہ طاہر داوڑ کی لاش پاکستان کو نہ دینا۔آپ بیرون ملک جا کر پاکستان کے دشمن لوگوں سے کیوں ملتے ہیں؟ منظور پشتین کا کون سا رشتہ دار تھا جو بھارتی قونصل میں گیا؟ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پی ٹی ایم کہتی ہے کہ فوج سے لڑیں گے، لیکن کوئی بھی ریاست سے نہیں لڑ سکتا، پی ٹی ایم پاکستان کا حصہ ہے یا افغانستان کا ؟ ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کا ایک ہی بیانیہ کیوں ہے؟ جب گلے کاٹے جا رہے تھے تو پی ٹی ایم کہاں تھی؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت سے کشیدگی سے متعلق 22 فروری کو بات چیت کی تھی جب انہوں نے ہم پر پلوامہ کے الزامات عائد کیے تھے، میں نے اس وقت وجوہات کا ذکر کیا تھا کہ پاکستان کس طرح اس حملے کے ساتھ ملوث نہیں.انہوں نے کہا کہ بھارت کو یہ بھی کہا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے تحقیقات کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کریں، اس کے بعد 26 فروری کی صبح انہوں نے ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جسے ہم نے ناکام بنایا. ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انہیں میں نے نوٹس بھی دیا تھا کہ اب ہمارے جواب کا انتظار کریں

کیونکہ میرا مطلب تھا کہ ہم جواب دینے کے لیے مجبور ہوں گے،27 فروری کو بھرپور جواب دینے کے بعد ان کے 2 جہاز گرانے اور ایک پائلٹ گرفتار کرنے کے بعد بات چیت کی اور تفصیلات بتائی تھیں.انہوں نے کہا کہ آج 27 فروری کو گزرے 2 ماہ ہوگئے لیکن بھارت ان گنت جھوٹ بولے جارہا ہے، ہم نے ذمہ دار ملک کا ثبوت دیتے ہوئے ان کی لفظی اشتعال انگیزی کا بھی جواب نہیں دیا، یہ نہیں کہ ہم جواب نہیں دے سکتے، وہ جھوٹ بولیں اور ہم ان کا جواب دیں. ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جھوٹ کو سچ کرنے کے لیے بار بار جھوٹ بولا جاتا ہے، سچ ایک مرتبہ کہا جاتا ہے تو ہم نے ان کے ان جھوٹوں کا بھی جواب نہیں دیا.انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کی فضائی کارروائی ناکام بنائی، ہمارا کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ ہم نے میڈیا کو بھی اس جگہ کا دورہ کروایا اور اگر اب بھی انہیں تسلی نہیں تو بھارت اپنا میڈیا یہاں بھیج دے. پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ پاک فضائیہ نے بھارت کے 2 طیارے گرائے لیکن بھارت جھوٹ بولتا رہا لیکن ہم نے ان کے جھوٹ کا جواب نہیں دیا‘انہوں نے کہا کہ بھارت کا کوئی جھوٹ ثابت نہیں ہوا، انہوں نے ہمارے ایف 16 گرانے کا دعویٰ کیا جبکہ ایسا کچھ تھا ہی نہیں کیونکہ جھوٹ کے کوئی پاؤں نہیں ہوتے.بالاکوٹ پر بھارتی دعووں پر انہوں نے کہا کہ آپ نے رات میں کارروائی کی کوشش کی ہم نے دن میں کارروائی کی اور جہاں ہمارے میزائل گرے وہاں کون موجود تھا یہ بھی بتایا جائے، ا?پ کہتے ہیں کہ پاکستان کا رویہ تبدیل کرنا ہے لیکن آپ تو یہ نہیں کرسکے. میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ ہم نے آپ میں تبدیلی ڈال دی ہے لیکن کو آپ ہمارے اندر تبدیلی ڈالنا چاہتے ہیں وہ کبھی نہیں کرسکتے‘انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے جو کردار ادا کیا اگر وہ نہ کرتا تو آج مشرق پاکستان الگ نہ ہوتا جبکہ ہمارے میڈیا نے ذمہ داری کا ثبوت دیا لیکن آپ کے میڈیا کو رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے.ملک کی سیکورٹی صورتحال پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی 25 سے 30 سال کے درمیان ہے، ان بچوں نے اپنے ہوش سنبھالنے کے بعد ملک میں دہشت گردی، آپریشن اور امن و امان کی صورتحال دیکھی. اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 60 اور 70 کی دہائی میں پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن تھا، ہماری جی ڈی پی بہت اچھی تھی، ہمارے یہاں امن و امان کی صورتحال بہت بہتر تھی، بین المذاہب ہم آہنگی تھی لیکن پھر ایسا ہوا جس کی وجہ سے پاکستان کو مشکلات ہوئیں.میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ 4 ایسی وجوہات ہیں جس سے یہ سب ہوا، پہلا یہ کشمیر کا معاملہ کیونکہ کشمیر ہماری رگوں میں دوڑتا ہے اور یہ ہمارے نظریے کے ساتھ ہے، ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے کہ کشمیر کو ہم نے آزاد کرانا ہے، اس کے لیے کئی جنگیں ہوئیں، دوسرا یہ پاکستان کی ایک جغرافیہ ہے. انہوں نے کہا کہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت میں جو اسلام کے خلاف باتیں شروع ہوئی ہیں، اس پر یہاں کے عوام کے دل میں درد ہوتا ہے، ان چیزوں کی وجہ سے 4 دہائیاں پاکستان کو اس دہانے پر لے کر آئیں‘ان تمام چیزوں پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان میں جب دہشت گردی آئی تو پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔

متعلقہ خبریں