بھارتی فوج پاکستانی طیارہ گرانے کا ثبوت پیش کرنے میں ناکام

2019 ,مارچ 1



نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک): بھارتی مسلح افواج پاکستانی ایف سولہ طیارہ گرانے کا کوئی ثبوت پیش نہ کرسکی اور اسے پریس کانفرنس میں سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کے ہاتھوں دو طیارے تباہ ہونے کے بعد بھارتی مسلح افواج کے اعلیٰ افسر بوکھلائے ہوئے نظر آئے اور حالیہ کشیدگی کے کئی روز بعد بھارتی فورسز نے نئی دہلی میں میڈیا کو بریفنگ دینے کا حوصلہ کر ہی لیا۔ بریفنگ میں بھارتی آرمی، ائیر فورس اور نیوی کے افسر پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے۔ بھارتی اسسٹنٹ چیف آف ائیرسٹاف آر جی کے کپور اپنے ہی میڈیا کے سوالات پر ٹھوس جوابات دینے میں ناکام رہے۔ بھارت پاکستان میں 350 افراد مارنے کا ڈھنڈورا پیٹ رہا تھا لیکن جب صحافی نے یہ سوال اپنے افسر سے پوچھا تو ان کا جواب تھا کہ انہیں نہیں معلوم کتنے لوگ مارے گئے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں یقین ہے کہ انہوں نے دہشت گرد تنظیم کے مبینہ ٹھکانے تباہ کر دئیے تو ان کے پاس اس کا بھی کوئی واضح جواب نہیں تھا۔ وہ صرف یہ کہہ کر آگے بڑھ گئے کہ جو بھی ان کا ہدف تھا اسے پورا کرلیا گیا ہے۔ ایک صحافی نے پاکستان میں حملے کا ویڈیو ثبوت مانگا تو ان کا جواب تھا کہ ان کے پاس حملے کی ویڈیو موجود نہیں۔ بھارتی پائلٹ کی گرفتاری پر ان کا کہنا تھا کہ پیراشوٹ کی سمت غلط ہونے کے باعث پائلٹ پاکستان میں جا گرا لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ جہاز کس طرح تباہ ہونے کے بعد پاکستانی حدود میں آ گرا۔ بھارتی افسروں نے بار بار پاکستانی ایف سولہ مار گرانے کا دعویٰ کیا اور جب ثبوت دکھانے کی باری آئی تو چلے ہوئے میزائل کا ٹکڑا پکڑ کر دکھا دیا۔ پاکستان کی جانب سے پائلٹ کی رہائی پر ان کا کہنا تھا کہ اس پر انہیں بے حد خوشی ہے تاہم انہوں نے پاکستان کے جذبے کو سراہے بغیر کہا کہ پائلٹ کو جنیوا کنونشن کے تحت رہا کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں