الحمرا آرٹس کونسل،لاہور

2018 ,جنوری 25



ثقافت کی وسعتیں اور مقصدیت لامحدود ہیں۔ مختصراً ثقافت کا مقصد جہاں ماضی کو حال سے جوڑ کر اپنی شناخت کا ادراک حاصل کرنا ہے۔ وہاں اس کا مقصد بہترین معاشرے کی تشکیل بھی ہے کیونکہ تہذیبی قدروں کے وجود اور ان میں ترقی و ترویج سے زندگی میں حرارت بھی پیدا ہوتی ہے اور توازن بھی۔
الحمرا ہماری تہذیب و ثقافت کا گہوارہ ہے۔ 10دسمبر 1949ءکو وجود پذیر ہونے کے بعد اس نے مختلف ادوار دیکھے۔ 1970ءکی دہائی میں حکومت کی جامع ثقافتی پالیسی کے تحت حکومتِ پنجاب کی تحویل میں آیا اور 1983ءمیں پنجاب آرٹس کونسل کی ڈویژنل شاخ بنا۔ حکومت نے اسے تعمیر و تشکیل اور کارکردگی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا ثقافتی ادارہ بنایا اور اسے بین الاقوامی شناخت دی۔ اور گذشتہ 50برسوں میں ملک گیر شہرت اور اہمیت کا کوئی ایسا فنکار، مصور، موسیقار، گلوکار یا تخلیق کار ایسا نہیں جس نے براہ راست یا بالواسطہ الحمرا سے فیض حاصل نہ کیا ہو۔
پاکستان کے ثقافتی دارالخلافے لاہور کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا کلچرل کمپلیکس تکمیلی مراحل کو پہنچا جس کا ڈیزائن معروف ماہر تعمیرات نیئر علی دادا نے تیار کیا۔


فروری 1974ءکے آخری ہفتے کے دوران اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر لاہور قلعہ میں اسلامی مملکت کے سربراہوں کے لیے ڈنر کے بعد ثقافتی شو پیش کرنا تھا۔ کراچی میں پی آئی اے کا ڈانس ٹروپے ضیاءمحی الدین کی سربراہی میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہا تھا۔ الحمراءسے وابستہ اس وقت کے ممتاز اور مایہ ناز فنکاروں نے اپنی تمام تر مہارت کے ساتھ اسلامی سربراہی کانفرنس کے زعما اور معزز شخصیات کے سامنے اپنی بھرپور فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ الحمرا آرٹس کونسل میں کیا اور بے پناہ داد سمیٹی۔
موسیقی
فیروز نظامی کی سربراہی میں موسیقی کی کلاسز کو سٹریم لائن کیا گیا اور کونسل کے اوپن ایئر تھیٹر کے پروگراموں میں جہاں کلاسیکل اساتذہ ہوتے وہاں موجودہ وقت کے ساتھ ساتھ ابھرتے ہوئے گلوکار اور گلوکارائیں الحمرا کی سٹیج سے اپنی سریلی اور مدھر آوازوں کا جادو جگاتے۔


رقص
مہاراج غلام حسین کتھک کی راہنمائی اور سربراہی میں جہاں کلاسیکی رقص، خاص طور پر کتھک اور لوک رقصوں کی تربیت دی گئی وہاں ایک ٹروپے بھی تشکیل دیا گیا جس کے موضوعات میں انسانی شعور کی بیداری پر خصوصی توجہ دی گئی اس ٹروپے نے سفری تھیٹر کی طرح مختلف جگہوں پر پرفارم کیا۔


مصوری اور مجسمہ سازی
ان شعبوں کی کلاسیں معمول کے مطابق جاری رہتی ہیں اب تک سینکڑوں مصوروں کے بنائے ہوئے شاہکاروں کے فن پارے الحمرا آرٹس کونسل کے ہال کی زینت بن چکے ہیں اور وقتاً فوقتاً یہ سلسلہ جاری رہتا ہے فن کے قدردان اور ناقدین بڑے ہی انہماک سے ان نمائشوں کا انتظار کرتے اور بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ نئے مصوروں کی بھی باقاعدگی سے نمائشیں منعقد کرکے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
مذہبی تہذیبی پروگرام
مذہب کو ثقافت کا اہم جزو سمجھنے کے باعث مذہبی ثقافتی لگاﺅ کا بھی دل کھول کر اظہار ہوتا ہے مختلف اہم مواقعوں تہواروں پر حسن قرات، نعت اور قوالیوں کے پروگرام منظم اور احسن طریقے سے یہاں پیش کیے جاتے ہیں۔
بچوں کے لیے
بچوں کی مصوری کی کلاسوں پر یہاں خصوصی توجہ دی جاتی ہے ہر تین چار ماہ بعد ان کی چنیدہ تصاویر کی نمائشیں منعقد ہوتی ہیں ۔ قومی موضوعات (قومی دنوں کے حوالے سے) مقابلے منعقد کرائے جاتے ہیں عزیز اثری اور جمیل بسمل کی کاوشوں سے ”چلڈرن تھیٹر“ کا قیام بھی محدود عرصے کے لیے یہاں جاری رہا۔ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (اسلام آباد) سے خالد سعید بٹ کی سربراہی میں جدید پتلی تھیٹر کا یہاں سے باقاعدہ آغاز ہوا جبکہ اس سے قبل بچوں کے لیے آس پاس کے دیہات سے لوک پتلی تماشہ والوں کو خاص طور پر مدعو کیا جاتا رہا۔
بچوں کے تھیٹر کے بینر تلے ”تیرے ہی بچے تیرے ہی بالے“، ”جاگ اٹھا وطن“اور ”آزادی“ جیسے مقصدی اور تفریحی کھیل پیش ہوتے رہے ان کھیلوں میں ماسوائے ایک دو بڑے فنکاروں کے باقی سب کردار بچے ہی ادا کرتے تھے اور بچے ہی پروڈکشن کی ذمہ داریاں بھی سنبھالتے تھے۔
پاکستان ٹیلی ویژن کے پہلے اسٹیشن کے قیام کی ابتدائی تیاریاں 1962-63بھی اسی ”الحمراءمیں ہوئی تھیں ۔ الحمرا کینٹین کے چھوٹے سے ہال میں اسلم اظہر ، فضل کمال، ظفر صمدانی اور آغا ناصر جیسے باکمال لوگ جمع ہو کر نہ صرف ٹیلیویژن کے پروگراموں کے بارے میں پلاننگ کرتے بلکہ میوزک، ڈرامہ اور فائن آرٹس کے فنکاروں کے ساتھ انٹرویوز بھی یہیں کرتے۔ پھر یہیں سے یہ لوگ ٹیلیویژن اسٹیشن کی بلڈنگ میں منتقل ہو گئے۔
پنجاب کا ایک باقاعدہ ثقافتی طائفہ کا قیام بھی الحمراءہی میں معرض وجود میں آیا۔ 33ممبران پر مشتمل اس طائفے نے برسوں تک نہ صرف پاکستان کا دورہ کرنے والے سربراہان مملکت پارلیمانی اور دیگر وفود کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کیا بلکہ 11ممالک کا دورہ بھی کیا۔
فائن آرٹس اکیڈمی
لاہور میں نیشنل کالج آف آرٹس اور پنجاب یونیورسٹی میں ڈرائنگ، سٹل لائف ماڈلنگ، پورٹریٹ، لینڈسکیپ ڈیزائن اور مجسمہ سازی وغیرہ سکھانے کے لیے ایسے لوگوں کے لیے تو انتظام تھا جو ان فنون کو بطور پیشہ اکیڈمی کے تربیت یافتہ طالب علموں کے بنائے ہوئے مجسمے اور آرٹ کے دیگر نمونے اکیڈمی کے اندر بھی زیر نمائش رہنے اور الحمرا کے لان میں دیکھنے کو ملتے تھے نمائشیں منعقد کرانا بھی فائن آرٹس ہی کی ذمہ داری ہوا کرتی تھی۔


میوزک اکیڈمی
موسیقی کی ترقی و ترویج کے لیے یوں تو الحمرا میں مختلف پروگرام ہوتے رہتے تھے کچھ عرصہ بعد اکیڈمی میں موسیقی کا باقاعدہ سلیبسمتعارف کرایا گیا۔ دو اور تین سال کے کورسز مرتب کیے گئے اور کامیاب ہونے والے طلباءکو اسناد دی جاتی تھیں۔ موسیقی کی تعلیم کے علاوہ اکیڈمی، پاکستان کے مشہور و معروف گلوکاروں اور سازندوں کے پروگرام بھی منعقد ہوتے رہتے ہیں جو شائقین موسیقی کی تسکین کا باعث بنتے ہیں۔
الحمرا آرٹس کونسل میں اب تک سینکڑو ں مختلف نوعیت کے سرکاری اور غیرسرکاری سیمینارز، کانفرنسیں،ثقافتی شو، رقص و موسیقی کے پروگرام،ادبی اور سرکاری اجلاس، طارق عزیز شو(نیلام گھر) ،اشتہارات کی بین الاقوامی کانفرنس ایکسپو -89 ،ٹیبلوز، نعتیہ مشاعرے اور دیگر تقریبات اور سرگرمیاں منعقد ہو چکے ہیں۔


قیام پاکستان کے ساتھ ہی ایک ایسی انجمن کی تشکیل کی گئی جو اس نوزائیدہ ملک میں فنون لطیفہ کے استحکام کے لیے کام کر سکے اس کام کے لیے کسی مناسب جگہ کی ضرورت تھی۔ ممتاز دولتانہ، امتیاز علی تاج، جسٹس ایس اے رحمن اور عبدالرحمن چغتائی چاہتے تھے کہ مال روڈ پر واقع ماسٹر تارا سنگھ ڈانس سکول کو اس مقصد کے لیے حاصل کیا جائے جو اس کام کے لیے سب سے موزوں مقام ہو سکتا تھا۔ ایس اے رحمن متروکہ املاک بورڈ کے سربراہ تھے چنانچہ ان کی توجہ سے 68 مال روڈ پر متروکہ املاک کی یہ کوٹھی حکومتی امداد سے خرید لی گئی اور اس جگہ پاکستان آرٹس کونسل کی داغ بیل ڈال دی گئی۔ گورنر جنرل پاکستان خواجہ ناظم الدین نے 10 دسمبر1949ءکو اس جگہ پاکستان آرٹس کونسل کا باقاعدہ افتتاح کیا اس موقع پر عبدالرحمن چغتائی کی تصاویر کی نمائش بھی کی گئی اس نمائش کا افتتاح بھی گورنر جنرل نے کیا تھا آرٹس کونسل کو ”الحمرا“ کا نام دیا گیا اور یہی نام اس کی پہچان رہا ہے۔ پاکستان آرٹس کونسل کے مقامی فنکاروں، چندا افسران اور حکومت کی واجبی سی امداد سے کام کا آغاز کر دیا وقت کے ساتھ ساتھ اس کی خدمات کا دائرہ اور اہمیت میں وسعت آتی رہی یہاں مصوری، موسیقی تھیٹر، رقص، پتلی تماشے اور مجسمہ سازی وغیرہ کی تربیت کا آغاز کیا گیا یوں تو باقاعدہ طلبہ کے لیے نیشنل کالج آف آرٹس اور پنجاب یونیورسٹی فائن آرٹس خدمات سرانجام دے رہے تھے مگر آرٹس کونسل نے عام لوگوں کے ذوق کی تسکین کا سامان مہیا کیا اور ان کی تربیت کا اہتمام کرکے ان فنون کے فروغ میں اہم کر دار ادا کیا۔


 ساٹھ کی دہائی میں پاکستان آرٹس کونسل کی خدمات کا سلسلہ عروج پر تھا فنکار برادری نے اس میں زبردست دلچسپی لی کیونکہ ٹیلی ویژن کی آمد سے قبل صرف فلم اور اسٹیج ہی فنکاروں کی صلاحیتوں کے اظہار کے ذرائع تھے 1957ءمیں یہاں موسیقی کی اکیڈیمی تشکیل دی گئی اس کے انچارج ممتاز موسیقار فیروز نظامی تھے اس زمانے میں الحمرا شہر بھر کے فنکاروں کا مسکن تھا جہاں مصور، گلوکار اداکار اور فنون لطیفہ سے وابستہ افراد ہمہ وقت ڈیرہ ڈالے رکھتے گورنر مغربی پاکستان اختر حسین نے2 نومبر1958ءکو الحمراءمیں نیشنل آرٹ گیلری کا افتتاح کیا۔ حکومت نے اس ادارے کی سرپرستی کی اور یہاں سے ثقافتی طائفے بیرون ممالک بھجوائے علاوہ ازیں بیرون ممالک سے آنے والے وفود کی میزبانی بھی یہی ادارہ کیا کرتا تھا۔ حکومت نے آرٹس کونسل کی عمارت کی تعمیر میں دلچسپی لی اور ایک ایسی عمارت کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا جس میں آڈیٹوریم، آرٹ گیلری سمیت دیگر عمارات اور سہولیات موجود ہوں۔


 عمارت کے لیے ملکی اور غیر ملکی ماہرین تعمیرات کے ڈیزائنوں پر غور ہوا اور آخر کار نیئر علی دادا کا تیار کردہ ڈیزائن منظور کر لیا گیا تعمیراتی کام میسرز بلڈرز کو سونپا گیا جبکہ میسرز آر ای ایس اس تعمیراتی کام کے کنسلٹنٹ مقرر ہوئے۔
 سابق وزیراعلیٰ محمد حنیف رامے نے یکم جولائی 1975ءکو الحمرا آرٹ کونسل کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا فنڈز کی عدم دستیابی اور سیاسی حالات میں کشیدگی کی وجہ سے کام بار بار بند ہوتارہا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ غلام جیلانی خان، جب پنجاب کے گورنر بنے تو انہوں نے آرٹس کونسل کمپلیکس کے منصوبے میں ذاتی دلچسپی لے کر پہلے مرحلے کو مکمل کرایا اس میں آڈیٹوریم، ورکشاپ اور گرین روم تعمیر کئے گئے ان عمارات کا افتتاح14 اگست 1981ءکو ہوا تھا۔


 ابھی بہت سا کام ہونا باقی تھا سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ جاری تھا مگر آرٹس کونسل نے کسی قسم کی تاخیر کے لئے بغیر الحمرا میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔ شروع میں یہاں آرٹس کونسل کے اپنے ڈرامے اور موسیقی کے پروگرام پیش کئے جاتے تھے بعدازاں پرائیویٹ پروڈکشن کے پروگرام بھی پیش کئے جانے لگے پاکستان آرٹس کونسل بعد میں لاہور آرٹس کونسل کے قالب میں ڈھل گئی تاہم اس کے مقاصد میں کوئی فرق نہ آیا۔
 گورنر غلام جیلانی نے ہی یہاں 1983ءمیں آرٹ گیلری اور انتظامی بلاک تعمیر کرایا اسی سال آرٹس کونسل کا انتظام حکومت پنجاب کو سونپ دیا گیا اور اسے پنجاب کونسل آف دی آرٹس کا ڈویژنل آفس بنا دیا گیا۔ الحمرا ہال کے طرز تعمیر کو بہت پسند کیا گیا یہ مال روڈ کی جاذب نظر عمارات میں سے ایک ہے اس عمارت کو آغا خان ایوارڈ بھی دیا گیا ان خدمات کے طور پر نیئر علی دادا کو پرائیڈ آف پرفارمنس بھی دیا گیا۔
 الحمراءآرٹس کونسل کی عمارات اس وقت چار حصوں میں تقسیم ہیں ہال نمبر 1 ہال نمبر2 ہال نمبر 3 اور آرٹ گیلری معہ ایڈمن بلاک1983ءمیں ہی یہاں الحمرا ہال کی تیاری کا کام شروع ہوگیا جس کے لیے پنجاب حکومت نے خصوصی فنڈز دیئے تھے۔ ہال نمبر ٹو کا ڈیزائن بھی نیئر علی دادا نے تیار کیا تھا اور ان ہی کی نگرانی میں میسرز بلڈرز ایسوسی ایٹس نے تعمیراتی کام مکمل کیا الحمرا ٹو کی تیاری 1985ءمیں تکمیل کو پہنچی اس کی تیاری سے پروگراموں کی پیش کش کے لیے وسیع جگہ دستیاب ہوگئی گورنر غلام جیلانی نے ہی یہاں ایک اور چھوٹے آڈیٹوریم الحمرا ہال تھری کی تعمیر کا منصوبہ بنایا جس میں 225 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ فیروز پور روڈ پر قذافی سٹیڈیم کے پہلو میں اوپن ایئر تھیٹر اور دو چھوٹے آڈیٹوریم کی تعمیر کے لیے بھی ایک قطعہ اراض مختص کر دی۔ اس کا مقصد شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کو تفریح کی سہولیات فراہم کرنے کے علاوہ الحمراءپر دباﺅ کم کرنا تھا۔


 الحمرا کو صدر ایوب، امریکی خاتون اول جیکولین کنیڈی، گورنر گورمانی، نواز شریف، ضیاءالحق، بے نظیر بھٹو سمیت متعدد اہم ملکی اور بین الاقوامی شخصیات کی میزبانی کا شرف حاصل ہو چکا ہے الحمراءآرٹ گیلری میں ہر سال کتاب میلہ بھی منعقد ہوتا ہے۔ الحمرا کے ہال کو نور جہاں کی وفات کے بعد”نور جہاں ہال“ کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔2002ءمیں الحمرا پرفارمنگ آرٹ اکیڈیمی قائم کی گئی جہاں گانا، مصوری، رقص، فوٹو گرافی اور ساز بجانے وغیرہ کی تربیت دی جاتی ہے۔
”نیا لاہور“ تحریر:محمد نعیم مرتضیٰ
 

متعلقہ خبریں