پاکستانی معیشت لڑکھڑا گئی ۔۔۔۔ ڈالر کی قیمت میں خوفناک حد تک اضافہ ، سرمایہ کاروں نے سر پکڑ لیے

2019 ,مئی 14



کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) اوپن مارکیٹ میں ڈالر مزید ایک روپے مہنگا ہوگیا، آج (منگل کو) ڈالر، پاؤنڈ، ریال، درہم ، دینار اور یورو سمیت دیگر کرنسیوں کے نرخ یہ رہے۔ دوسری جانب پاکستانی روپے کو رگڑا لگنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ڈالر روز بروز تگڑا ہوتا جا رہا ہے۔ روپے کی بے قدری کی وجوہات کیا ہیں اور کیوں ڈالر کی قدر آسمان کو چھو رہی ہے؟ ذہنو میں ابھر ہوئے سوالات۔ اصل وجوہات کا پتہ چل گیا۔ ڈالر رے ڈالر تیری کون سی کل سیدھی؟ آخر پاکستان میں ڈالر کیوں بیش قیمت ہوا جا رہا ہے؟ روپیہ کیوں اپنی قدر کھوتا جا رہا ہے؟ یہ ہیں وہ سوال جو آج کل ہر ذہن میں ابھر رہے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ڈالر مہنگا نہیں ہو رہا بلکہ روپیہ ناتواں ہو رہا ہے۔ ماہرین معاشیات کی رائے میں اس کی وجہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی غلط معاشی پالیسیاں اور نگران حکومت کا انکو ٹھیک نہ کرنا ہے۔ عالمی مارکیت میں لین دین عموما ڈالرز میں ہوتا ہے۔ اگر برآمدات کم ہوں اور درآمدات زیادہ تو برآمدات کے عوض کم ڈالرز وصول ہوتے ہیں جبکہ درآمدات کی مد میں زیادہ ڈالرز خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ یوں ملک میں ڈالرز کی کمی ہو جاتی ہے جس کے باعث یہ مہنگا ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر ملک میں مہنگائی زیادہ ہو تو اس کا مطلب ہے زیادہ پیسے خرچ کر کے کم چیزیں آتی ہیں۔ یعنی ملکی کرنسی اپنی قدر کھو رہی ہے۔ یوں ڈالر مہنگا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر ملک میں زر مبادلہ کے ذخائر مناسب سطح پر نہ ہوں تو روپے کی قدر مستحکم نہیں رہتی۔ وطن عزیز کے عوام کے ساتھ بھی یہی ہاتھ ہوا ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے غلط معاشی اقدامات نے روپے کی قدر .کو متاثر کیا ہے۔ اگر درست مالی پالیسیاں بنائی جاتیں اور روپے کو مستحکم کرنے کے اقدامات کیے جاتے تو آج روپیہ اتنا لاغر نہ ہوتا۔ اسحاق ڈار کے بعد نہ تو مفتاح اسماعیل اور نہ ہی نگران وزیر خزانہ نے اس طرف توجہ دی۔ بس یہ کیا کہ ڈالر کو بے لگام چھوڑ دیا اور روپے کی بے قدری کو روکنے کے لئے عملی اقدامات نہ کیے۔

 

متعلقہ خبریں