جیل میں قید خادم حسین رضوی کے حوالے سے رات گئے اچانک بڑی بریکنگ نیوزآگئی

2019 ,مارچ 16



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی ۔نجی نیوز چینل ڈان نیوز کے مطابقانسداد دہشت گردی کی عدالت کے ججز کی سپریم کورٹ میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کے باعث خادم حسین رضوی سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔ انسداد دہشت گردی عدالت میں ٹی ایل پی کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر اور احتجاجی مظاہروں میں سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کیس پر سماعت ہوئی۔خادم حسین رضوی سمیت دیگر ملزمان کو تھانہ سول لائن میں درج مقدمہ 18/958 میں عدالت میں پیش کیا گیا، اس موقع پر عدالت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔اس کے علاوہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔ عدالت نے خادم حسین رضوی سمیت دیگر ملزمان کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے طلب کر رکھا تھا لیکن ججز کی سپریم کورٹ میں اجلاس میں شرکت کے باعث ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔بعد ازاں خادم حسین رضوی سمیت دیگر ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 30 مارچ تک کے لیے توسیع کردی گئی، یاد رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت 90 سے زائد افراد کو ایم پی او کے تحت گرفتار کر کے انھیں 30 دن تک نظر بند کر دیا گیا ہے، لاہور کی ڈپٹی کمیشنر صالح سعید نے بتایا کہ خادم حسین رضوی، دوسرے لیڈران اور ان کے دیگر ساتھیوں کو پنجاب حکومت کی حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے،یاد رہے کہ قانون کے مطابق ایم پی او میں مزید دو مرتبہ ایکسٹینشن کی جا سکتی ہے، لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت پانچ سے زیادہ افراد ایک جگہ پر اکٹھے نہیں ہو سکتے، اور اب یہ خبر سامنے آئی ہے ۔

متعلقہ خبریں