ڈالر کی قیمت میں خوفناک اضافہ ۔۔۔۔ بجلی اور گیس کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگیں ۔۔۔ آئی ایم ایف نے عمران حکومت کو چاروں شانے چت کر دیا، اپنی ظالمانہ شرائط منوا لیں

2019 ,اپریل 29



لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )  ڈالر مہنگا، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں خوفناک اضافہ، آئی ایم ایف کی ظالمانہ ترین شرائط قبول کر لی گئیں، آئی ایم ایف کے مطالبے پر 460 ارب روپے کے ٹیکسز اکٹھے کرنے کیلئے نئے ٹیکسز عائد کیے جائیں گے، بجلی، پیٹرول اور ڈالر کی قیمت کا تعین کرنے والے اداروں میں حکومتی مداخلت ختم کر دی جائے گی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی ظالمانہ شرائط قبول کر لی ہیں ۔ نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومت نے یقین دہانی کروائی ہے کہ آئی ایم ایف کے مطالبے پر 460 ارب روپے کے ٹیکسز اکٹھے کرنے کیلئے نئے ٹیکسز عائد کیے جائیں گے۔ جبکہ بجلی، پیٹرول اور ڈالر کی قیمت کا تعین کرنے والے اداروں میں حکومتی مداخلت ختم کر دی جائے گی۔آئی ایم ایف کی شرائط قبول کرنے کے بعد بجلی اور گیس کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہو گا۔ جبکہ ڈالر کی قیمت میں بھی اضافہ ہو گا۔ ان تمام وجوہات کے باعث ملک میں مہنگائی کا خوفناک طوفان آئے گا۔ اس سے قبل خبر سامنے آئی تھی کہ حکومت آئی ایم ایف سے 7 سے 8 ارب ڈالر قرض کی درخواست کر سکتی ہے، ممکنہ آئی ایم ایف پروگرام کی مدت 3 سال ہوگی. پروگرام کے تحت حکومت کومالی خسارہ پورا کرنے کے اقدامات کرنے ہوں گے، آئی ایم ایف محصولات کے ہدف میں ایک ہزار ارب روپے اضافہ تجویزکرچکا ہے. آئی ایم ایف نے بجلی اور گیس کے نرخوں میں بھی اضافہ تجویز کیا ہے، نقصان میں چلنے والے قومی اداروں کی تنظیم نو اورنجکاری بھی مطالبات میں شامل ہے‘آئی ایم ایف روپے کی قدرمیں مزید کمی اورشرح سود میں اضافے کا مطالبہ کرسکتا ہے. یاد رہے کہ 15 اپریل کو سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق رائے ہو گیا ہے، واشنگٹن میں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور اے ڈی بی حکام سے ملاقات ہوئی، امکان ہے کہ آئی ایم ایف سے 6 سے 8 ارب ڈالر ملیں گے، مجموعی طور پر عالمی بینک سے 15 ارب ڈالر قرضہ ملنے کا امکان ہے. نقصان میں چلنے والے قومی اداروں کی تنظیم نو اورنجکاری بھی مطالبات میں شامل ہے‘آئی ایم ایف روپے کی قدرمیں مزید کمی اورشرح سود میں اضافے کا مطالبہ کرسکتا ہے. یاد رہے کہ 15 اپریل کو سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق رائے ہو گیا ہے، واشنگٹن میں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور اے ڈی بی حکام سے ملاقات ہوئی، امکان ہے کہ آئی ایم ایف سے 6 سے 8 ارب ڈالر ملیں گے، مجموعی طور پر عالمی بینک سے 15 ارب ڈالر قرضہ ملنے کا امکان ہے.

متعلقہ خبریں