’’ راؤ انوار جنکا بچہ ہے وہی جماعت ’ پی ٹی ایم ‘ کو ۔۔۔۔‘‘ میجر جنرل آصف غفور نے ایسا انکشاف کر دیا کہ ملکی سیاست میں ہلچل مچ گئی

2019 ,اپریل 29



راولپنڈی(مانیرنگ ڈیسک)ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور باجوہ نے کہا ہے کہ ایک جماعت پی ٹی ایم کو سپورٹ کررہی ہے، بچہ تو راو انوار ان کا تھا، اس جماعت نے پی ٹی ایم کو سپورٹ کر کے کئی سوال بھی اٹھا دیے ہیں۔ میڈ یا بریفنگ کے دورا ن نقیب اللہ قتل کیس میں سندھ پولیس کے افسر راﺅانوار کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہونے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ راﺅ انوار کبھی پی ٹی ایم کو سپورٹ کرنے والی ایک سیاسی جماعت کا بچہ تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم جن لوگوں کے مسائل کو بنیاد بنا کر کام کر رہی ہے اس کا وقت ختم ہوگیا، آپ فوج سے کس بدلے کی بات کر رہے ہیں، کوئی ریاست سے لڑائی نہیں کرسکتا۔انہوں نے پی ٹی ایم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو آپ ورغلا رہے ہیں ان کے دکھوں کا احساس ہے، اگر آرمی چیف نے پہلے دن پیار سے بات کرنے کی ہدایت نہ کی ہوتی تو ان سے نمٹنا کوئی مشکل کام نہیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہر کام قانون کے تحت ہوگا، آپ نے جتنی آزادی لینی تھی وہ لے لی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم سے کوئی اعلان جنگ نہیں، حکومت ان سے بات کرنا چاہتی ہے لیکن وہ بھاگ بھاگ کر امریکا، افغانستان اور بلوچستان چلے جاتے ہیں، مسائل فاٹا میں ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہاں کیمپ لگائیں اور بولیں حکومت اور فوج آئے پھر دیکھیں کون نہیں جاتا۔میڈ یا بریفنگ کے دورا ن نقیب اللہ قتل کیس میں سندھ پولیس کے افسر راﺅانوار کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہونے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ راﺅ انوار کبھی پی ٹی ایم کو سپورٹ کرنے والی ایک سیاسی جماعت کا بچہ تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم جن لوگوں کے مسائل کو بنیاد بنا کر کام کر رہی ہے اس کا وقت ختم ہوگیا، آپ فوج سے کس بدلے کی بات کر رہے ہیں، کوئی ریاست سے لڑائی نہیں کرسکتا۔انہوں نے پی ٹی ایم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو آپ ورغلا رہے ہیں ان کے دکھوں کا احساس ہے، اگر آرمی چیف نے پہلے دن پیار سے بات کرنے کی ہدایت نہ کی ہوتی تو ان سے نمٹنا کوئی مشکل کام نہیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہر کام قانون کے تحت ہوگا، آپ نے جتنی آزادی لینی تھی وہ لے لی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم سے کوئی اعلان جنگ نہیں، حکومت ان سے بات کرنا چاہتی ہے لیکن وہ بھاگ بھاگ کر امریکا، افغانستان اور بلوچستان چلے جاتے ہیں، مسائل فاٹا میں ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہاں کیمپ لگائیں اور بولیں حکومت اور فوج آئے پھر دیکھیں کون نہیں جاتا۔

 

متعلقہ خبریں