زرعی اراضی ہتھیانے کے لیے قبضہ مافیا کے امام مسجد پر ظلم وستم

2018 ,مئی 11



نواںکوٹ (مانیٹرنگ ڈیسک) قبضہ مافیا نے غریب امام مسجد کی زرعی زمین ہتھیانے کی خاطر پوری فیملی پر زمین تنگ کر دی ضلع کی تمام عدالتوں کے فیصلے بزرگ امام مسجد کے حق میں ہونے کے بعد ڈی پی او سرفراز احمد خان ورک نے قبضہ واپس دلوایا مگر ظالم قبضہ مافیا کے ظلم سے نجات نا مل سکی آئے روز تشدد ،گالی گلوچ، گھر میں اخل ہو کر بزرگ خاتون خانہ اور بچوں پر تشدد کپڑے پھاڑنا ، بالوں سے پکڑ کر کھسیٹنا معمول بن گیا جبکہ جانوروں کو زہر دے کر بھی مار دیا گیا مبینہ ساز باز اور پیسے کی چمک سے پولیس خاموش تماشائی بن گئی تھانہ مانانوالہ کے گاﺅں چک نمبر 539 نعرہ کجلیاں کے رہائشی 80 سالہ بزرگ امام مسجد اللہ دتہ ولد شہباز خاں سلہوترا کو انصاف کون فراہم کرے گا ظالم قبضہ مافیا سے تنگ مظلوم خاندان ؛خبریں آفس؛پہنچ گیا بزرگ شخص اللہ دتہ ولد شہباز خاں سلہوتر ا جو کہ تھانہ مانانوالہ کے گاﺅں چک نمبر539 نعرہ کجلیاں کی مسجد میں امامت کے فرائض سر انجام دیتا ہے نے ، اپنی بیوی شمیم اختر اور معصوم بچوں کے ہمراہ خبریںکو اپنی روداد سناتے ہوئے بتایا کہ اس کے بہن بھائی نا ہیں اکیلا ہے والدین بھی وفات پا چکے ہیں وراثت میں ملنے والی ساڑھے پانچ ایکٹر زمین جو کہ گاﺅں کے قریب ہے کو ہتھیانے کے لئے اس کے قریبی رشتہ دار ،ذوالفقار احمد ،بشیر احمد، منیر احمد ،یٰسین احمد اور دیگر اشرف ،منظور، غوث، صادق وغیرہ نے صرف زمین ہتھیانے کی غرض سے مختلف حیلوں بہانوں سے پریشان کرتے اور 2007 میں اپنی ایک عورت سیماں بی بی دختر مرزا کے ذریعے مجھ پر قاتلانہ حملہ کروایا جس نے مجھے بندوق سے سیدھے فائر مارے جن سے میں معجزانہ طور پر بچ گیا جس کا مقدمہ نمبر445/2007بجرم 440 ت پ تھانہ مانانوالہ میں درج رجسٹرڈ ہوا آخر میں نے اپنی جان بچانے کے لئے مخالف ذوالفقار ولد نور سے مورخہ 19/9/2017 کواپنی زمین فروختگی کا سودا مبلغ 18,00,000اٹھارہ لاکھ روپے میں طے کر کے ایک لاکھ روپے بیانہ وصول کیا جبکہ بقایا رقم 17 لاکھ روپے 01/01/2008 کو ادا کی جانی تھی جو ملزمان نے ادا کرنے کے بجائے میری زمین پر قبضہ کر لیا اور زبردستی زمین کے تبادلے کے جھانسے دینے لگے 2011 میں میں نے عدالت میں زمین خالی کروانے کے لئے کیس دائر کیا جو تین سال کے بعد 2014 کو میرے حق میں ہوا اس دوران ملزمان زبردستی میری زمین کاشت کر کے فصل بھی خود اٹھاتے رہے بعد میں ملزمان قبضہ مافیا ذوالفقار ،بشیر وغیرہ نے ایک بیان حلفی و جعلی اقرار نامہ تیار کر لیا اور ایک کیس 2015 میں میرے خلاف دائر کر دیا گیا اس دوران تھانہ میں اکٹھ ہوئے جہاں میں نے بیان حلفی و اقرار نامے کی بابت قسم نیاءدیا مورخہ17/12/15 کو ملزمان کا کیس بھی خارج ہو گیا جس کی ملزمان نے سیشن کورٹ میں اپیل بھی دائر کی جو ایڈیشنل سیشن جج رائے نعیم کھرل صاحب نے خارج کر دی ملزمان نے نگرانی کے لئے بھی کیس دائر کیا جو سیشن کورٹ نے خارج کر کے فیصلہ میرے حق میں دیااور پولیس کو حکم دیا گیا کہ میرے زمین ملزمان سے واگزار کروائی جائے جس پر کاروائی کرتے ہوئے ڈی پی او سرفرازاحمد خاں ورک نے ڈی ایس پی صفدر آباد رانا جمیل احمد کو حکم دیا کہ فوری زمین کا قبضہ مجھے دلوایا جائے ڈی پی او ،اور ڈی ایس پی صفدر آباد کے حکم پر اس وقت کے ایس ایچ او عدیل شوکت نے پولیس پارٹی کے ہمراہ موقع پر جا کر مورخہ 11.12.17 کو قبضہ دلوا دیا اور پولیس نے اپنی نگرانی میںگندم کی فصل زمین میں کاشت کروائی اب فصل تیار ہو چکی ہے تو ملزمان دوبارہ حرکت میں آ چکے ہیں اور مقامی تھانہ میں تعینات اے ایس آئی محمد ارشد سے ساز باز کر کے اور بھاری رقم دے کر مجھے گندم کی فصل کی کٹائی نہیں کرنے دے رہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ملزمان ذوالفقاروغیرہ نے 6,65,000 چھ لاکھ پینسٹھ ہزار روپے8 200میں ہی ادا کر دیئے تھے اور زمین خرید کر لی تھی رقم ادائیگی کے حوالے سے اپنے دست راست جعلی گواہ تیار کر کے ان سے اسٹام پیپرز تھانہ میں دلوائے گئے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ گھر میں جا کر رقم ادا کی گئی کبھی کہتے ہیں کہ بینک میں رقم ادا کی گئی بزرگ امام مسجد اللہ دتہ اور اس کی بیوی شمیم اختر نے روتے ہوئے بتایا کہ ملزمان کئی سالوں سے انہین ذلیل و خوار کر رہے ہیں اس دوران ملزمان نے متعدد بار تشدد کا نشانہ بنایا جن کے مقدمات نمبری 42/16 بجرم 452/354, / 148,149 337اے1,ایف1,ایل2,ت پ ،مقدمہ نمبر ی 63/18 بجرم 354,109 ،148,149 ت پ ملزمان کے خلاف درج رجسٹرڈ ہیں انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے بارہا مرتبہ تھڑے مار کر تشدد کا نشانہ بنایا، گھر میں داخل ہو کر میری بیوی کے کپڑے پھاڑ ے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا جس کی درخواستیں تھانہ میں دی گئیں مگر مقدمات ہی درج نہ ہو سکے اور ملزمان ساز باز کر کے نکل گئے مظلوم خاندان کے بزرگ افراد نے بتایا کہ ملزمان نے جنوری 2018 میں ہمارے جانوروں کے چارے میں زہر ڈال دیا جس سے ہماری متعد د قیمتی بکریاں ہلاک ہوئیں اور بعض معجزانہ طور پر بچ گئیں جس کی درخواست تھانہ میں دینے پر مقدمہ کا اندراج نا کیا گیا بزرگ اللہ دتہ اور اس کی بیوی نے بتایا ملزمان نے ان پر زمین تنگ کر رکھی ہے گھر میںفاقے ہیں بچے پیسے نا ہونے کی وجہ سے سکول نہیں جا سکتے تھوڑی زمین تھی اس پر بھی ملزمان کا قبضہ ہے ظلم کے شکار میاں بیوی نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، آئی جی پنجاب ،ڈی آئی جی رینج شیخوپورہ ، اور ڈی پی او شیخوپورہ سرفراز احمد خاں سے اپیل کی ہے کہ ان کا ملزمان قبضہ مافیا سے پیچھا چھڑواتے ہوئے زمین واپس دلوائی جائے اور پولیس تھانہ مانانوالہ کو پابند کیا جائے کہ میری گندم کی فصل کی کٹائی مجھے کروائیں بصورت دیگر وہ اس قدر پریشان ہیں کہ اپنے بچوں سمیت خودکشی کر لیں گے

متعلقہ خبریں