میڈیا قلابازیاں اور ڈاکٹر شہباز گل

2019 ,مارچ 20



لاہور(اسلم خان): پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پڑھے لکھوں نے پہنچایا ہے اپنے پیارے اشفاق احمد کا قول سنہری حروف میں لکھا جا ئے گا تلقین شاہ کے روپ میں جناب اشفاق احمد نے بتدریج نسلوں کی آبیاری کی اور ریڈیو پاکستان کے ذریعے دو قومی نظریے اور اس کی عام فہم تشریح و تعبیر کا عظیم الشان کام کیا خاص طور دیہی آبادی میں اتوار کو چھٹی والے نشر ہونے والا ان کا پروگرام لاجواب تھا تازہ ترین پڑھے لکھوں میں غدار وطن حسین حقانی اور کڑاکے نکالنے کے لئے مشہور اور تنخواہ دار مزاحیہ درباری کا کردار ادا کرنے والے مشاہد حسین کا کردار سب کے سامنے ہیں جو کسر رہ گئی تھی وہ امریکی یونیورسٹیوں میں پڑھانے والے ڈاکٹر شہبازگلِ نے پوری کردی ہے جو عمران خان کا ’ابھے نندن‘ ثابت ہوئے ہیں ۔ فیاض الحسن کی چاندماری ختم ہوئی تھی کہ شکاگو کی ’سوغات‘ نے حکومتی ماتھے پر ایک نئے ’جھومر‘ کا اضافہ کردیا۔ سینئر صحافی اور پاکستان کے معتبر ترین مدیر گرامی ایم ضیاء الدین نے نہایت سادگی سے موصوف اور ایسے ہی دیگر ترجمانوں کو سبق دیا کہ اتنا ہی تکلف فرمالیتے، خط لکھنے اور جسے مخاطب کیاگیا، ان سے ہی رابطہ کرلیتے؟ یا کم ازکم اُن میں سے کسی ایک ہی سے دریافت فرمالیتے کہ حقیقت کیا ہے؟ جناب ضیاالدین نے نصف صدی صحافت کے گدلے تالاب میں کنول کے پھول کی طرح گذاری ہے تمام بڑے انگریزی اخبارات کے مدیر رہے اور میڈیا کی الٹی سیدھی قلابازیوں پر اس کالم نگار سے حیران ہو کر استفسار کرتے ہیں یہ کیا ہورہا ہے ؟؟؟ ابلاغ ایسی دودہاری تلوار ہے کہ جس میں ذرا سی بے احتیاطی سے اپنا ہی گلا قلم ہوجاتا ہے۔ سردار عثمان بزدار پہلے سے وزیراعلی کی مراعات اور ارکان کی تنخواہوں کے ’کھوبے‘ میں پھنسے ھوئے ہیں، مصیبت کے ان دنوں میں ان کے ترجمان کی ’ٹویٹرانہ پیش قدمی‘ ان کے لئے وبال جان بن گئی ہے۔ بُرا ہو امریکی سفارت خانے کا’انہوں نے ذرا بھی لحاظ نہ کیا اور فورا ہی تردید کردی کہ مریم نواز سے منسوب خط جعلی ہے۔ راستہ ایک ہی ہے یا ڈاکٹر شہبازگل ایک اور فیاض الحسن چوہان بن کر جہاں سے تشریف لائے تھے، وہیں چلے جائیں اور وہیں ’فرض‘ ادا کریں، جس میں ان کی ’قابلیت‘ ہے، ورنہ ’معتبر صحافی صاحب‘کا نام بتائیں۔ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی فرمائی گئی ہے کہ فتنے ایسے نازل ہوں گے جیسے تسبیح کا دھاگہ ٹوٹنے پر دانے گرنے لگتے ہیں۔ عمران خان کی حکومت کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہورہا ہے۔ دس اچھے کام ہوتے ہیں تو کوئی ایک ایسی ’فنکارانہ حماقت‘ سامنے آتی ہے جو مزہ کرکرا کرکے رکھ دیتی ہے۔وہ حامی بھی ’ایسی محبت سے باز‘ آنے کی دہائیاں دینے لگے ہیں جنہوں نے ابلاغی محاذ پر زیادہ منطقی اور دانشمندانہ طرز عمل سے عمران خان کے سیاسی نظرئیے اور حکومتی اقدامات کو پیش کیا اور ان کا دفاع بھی کیا۔ لیکن حیرت انگیز امر پی ٹی آئی حکومت میں افراد اور ان کی صلاحیتوں کی بنیاد پر ذمہ داریوں کی تفویض سے متعلق ہے۔ نجانے کس بنیاد پر، کیسے اور کس کے کہنے پر چُن کر ایسا انتخاب کیاجاتا ہے جو ٹوکرا اٹھا کر سیدھا عمران خان حکومت کے سر انڈیل دیتا ہے اور پھر اس پر مستزاد ’معصومانہ خطا‘ کی دلیل لاتا ہے ۔۔۔ یہ کہانی ایک خط سے شروع ہوتی۔ مسلم لیگ (ن) کے علامتی نشان کے حامل خط کی عبارت میں امریکی ناظم الامور کو مخاطب کیاگیا تھا۔ ہمارے نوجوان اور نوآموز رپورٹرز عام فہمی کا استعمال کرتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ جب ایک پارٹی سربراہ کی بیٹی جو عملا پارٹی سربراہ کے طور پر بروئے کار رہیں ہیں، اور اب بھی ہیں، جب اس نوعیت کا خط لکھیں تو ناظم الامور کو نہیں بلکہ سفیر کو مخاطب کریں گی۔ ڈاکٹر شہباز گل امریکہ میں پڑھاتے تھے، بطور استاد ہر فرد کا خاص مرتبہ، مقام اور احترام ہے لیکن پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کا انتخاب کس ’میرٹ‘ پر ہوا؟ وہ ’ہیومن ریسورس اور مینجمنٹ‘ کے شعبے میں پی ایچ ڈی ہیں۔ امریکہ سے تشریف لائے اور اب ترجمانی کے فرائض ‘انجام دے رہے ہیں۔ میڈیا اور میڈیا مینجمنٹ اور وہ بھی لاہوری میڈیا کہ جس میں شریفین کا گروپ ناقابل تسخیر ہے کہ جن کی نسلیں آرام سے بیٹھ کر کھائیں کہ مال وزر ختم نہ ہو ایسا میڈیا جو سادہ لوح بزدار کو کھڑے کھڑے خرید سکتا ہے اس کو ہینڈل کرنا شکاگو سے آئے ڈاکٹر شہباز گل کے بس کا روگ نہیں البتہ تنبو قناتوں اور راحت بیکری والے چودھری اکرم کا معاملہ یکسر مختلف ہے جو شاید گجراتی چودھریوں کے اشارے پر ترجمان قرار پائے ہیں ، حکومتی ہزیمت کا باعث بننے والے اس اقدام سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی ابلاغی امور کی انتظام کاری میں صلاحیت اور سمجھ کتنی ہے؟ مزے کی بات ہے کہ اس خط میں امریکی ناظم الامور کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر کا جو معیار ہے، ذرا سی عقل رکھنے والا شخص بھی، اس پر شک میں پڑجاتا۔ سفارتی سطحوں پر جب مراسلے یا خطوط تحریر ہوتے ہیں، وہ لغت کی نزاکت، احتیاط اور باریکی کا پیراہن اوڑھے ہوتے ہیں۔ ’گنگوا تیلی‘ اور ’راجہ بھوج‘ کو مخاطب کرنے کے قرینے الگ الگ ہوتے ہیں۔ پھر عام فہمی ہی کا تقاضا تھا کہ یہ سوچا جاتا کہ کیا ایسے کسی معاملے میں خط کا سہارا لیاجاسکتاہے؟ کیا مسلم لیگ (ن) والے اتنے ہی ’گئے گزرے‘ ہیں کہ اتنے نازک مرحلے میں ’چومُکِھی‘ لڑائی لڑتے ہوئے بھی وہ ایسی ’’حماقت‘‘کرسکتے ہیں؟ ایسا سوچنے والے کی عقل پر فاتحہ ہی پڑھی جاسکتی ہے۔ جب یہ ’چَن‘ چڑھ چکا تھا تو ڈاکٹر شہبازگل صاحب کا جواب ملاحظہ فرمائیے جو ان کی ’ترجمانی‘ اور ’مینجمنٹ‘ کا ایک اور تاریخی شاہکار ہے اور بہتر ہوگا کہ اسے حنوط کرکے کسی عجائب گھر میں سونے کے فریم میں لگا دیا جائے تاکہ آنے والے طالب علم اور نسلیں اس پر تحقیق بھی کریں اور عبرت بھی پکڑیں۔فرماتے ہیں ’’ایک بہت سینئر معتبر صحافی کی طرف سے مریم نوازصاحبہ کے حوالے سے خط ملا مریم صاحب نے تردید کی۔ میری ٹیم نے صحافی سے رابطہ کیا جنہوں نے کہایہ خط درست ہے۔ اگر یہ خط درست نہیں تو مجھے افسوس ہے اور معذرت خواہ ہوں کہ یہ خط عام ہوا۔ میں ہمیشہ سچ پر مبنی خبروں کی ترسیل پر یقین رکھتا ہوں۔‘‘ ابلاغ کے محاذ پر دنیا میں ممالک میں تختے الٹے گئے ہیں۔ تاریخ اور حال کے واقعات اور مثالیں موجود ہیں۔ اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ جس چیز کا شور ہے وہ یہی ’منحوس ففتھ جنریشن وار‘ کی اصطلاح ہے۔ ’سائی اوپس‘ پر لیکچرز کے لیکچرز اور کتابوں کی کتابیں شائع ہورہی ہیں۔ ابلاغیات جو پہلے نشرواشاعت کے نسبتا محدود دائرے میں ہوا کرتی تھی، اب اس کی حدیں اور ’مار‘ سرحدوں کو مٹاکر عالم گیر ہوتی جارہی ہے۔ ایسے میں ایسے ’سادہ مزاج‘ اور ’سادہ لوح‘ ترجمان کو ابلاغ کے محاذ کی ذمہ داری ایسے ہی ہے جیسے جوہری ہتھیار کا بٹن کسی غیر سلیم الطبع کے ہاتھ میں تھمانا۔ غلطیاں ہوتی ہیں اور مسئلہ غلطی کا نہیں۔ اصل ’رونا‘ تو اس ’طرز عمل‘ کا ہے جس کا ڈاکٹر شہبازگل صاحب سے ظہور ہوا ہے۔ عمران خان اگر اتنے ہی سادہ ہیں تو پھر بصد احترام عرض ہے کہ سیانوں کی وہ ضرب المثل اردو میں سمجھ نہ آئے تو انگریزی میں ترجمے سے ذہن میں اتارنے کی کوشش کریں جس میں نصیحت کی گئی تھی کہ ’نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہوتا ہے‘ مقابلہ کرنے آپ نکلے ہیں شیر کا، تیروں کا آپ کو سامنا ہے؟ مسلم لیگ (ن) اقتدار کے کھیل میں نئی نہیں۔ وہ گرم وسرد چشیدہ ہے۔ اس کی ابلاغ کی ٹیم میں آزمودہ کھلاڑی ہیں، اس وقت ترجمانی چھوئی موئی دکھائی دینے والی مریم اورنگزیب کے پاس ہے لیکن الفاظ کو تیر بنانا وہ خوب جانتی ہیں، تاک تاک بیانات کی گولہ باری ٹھیک نشانے پر بیٹھتی ہے۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی سے ڈاکٹر نفیسہ شاہ، مرحومہ فوزیہ وہاب کے فرزند بیرسٹر مرتضی وہاب، بیرسٹر مصطفی نواز کھوکھر کی ٹیم ہے۔ سینئرز کو تو چھوڑیں لیکن بلاشبہ یہ بات ماننا پڑے گی کہ ان نوجوانوں نے بھرپور رنگ جمایا ہے۔ وفاق کی سطح پر چوہدری فواد حسین تنہا تلوار سونتے دن میں کئی وار روکتے ہیں لیکن ان کے درپے کئی اور بلائیں ارشد خان اور ہمنواؤں کی صورت میں منڈلا رہی ہیں۔ پنجاب میں سید صمصام حسین بخاری اب میدان میں اتارے گئے ہیں لیکن وہ دھیمے مزاج کے شائستہ طبع انسان ہیں۔ تازہ واقعہ سے لگتا یوں ہے کہ ڈاکٹر شہبازگل نے اپنے کسی سینئر سے مشورہ کرنے، اسے اعتماد میں لینے کی بھی زحمت بھی گوارا نہیں کی ورنہ سید صمصام بخاری جیسے منجھے ہوئے سیاسی کارکن انہیں ایسی حماقت سے بچالیتے اور اس کے نتیجے میں عمران خان حکومت کی عزت اور نیک نامی پر ایک اور داغ لگنے سے بچ جاتا۔ صمصام بخاری ویسے بھی پیر ہیں۔ پیروں کے پاس دافع بلیات کا کوئی نہ کوئی تعویز ہوتا ہی ہے۔ اصل پریشانی غلطی سے نہیں بلکہ حماقت اور جہالت سے ہے۔ اس واقعے نے پی ٹی آئی اور عمران خان حکومت کی میڈیا مینجمنٹ اور اپوزیشن سے ’ڈیل‘ کرنے کی اپنی ’صلاحیت‘ کا بھرم کھول دیا ہے۔ اس سے اندر کے حالات کھل کر آشکارہ ہوگئے ہیں۔ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے تنخواہوں اور مراعات کے بل کے معاملے میں بھی ایسی ہی اطلاعات آرہی ہیں کہ ان کو یہ دن ’’تنہائی‘‘ میں ہونے والی ملاقات کے نتیجے میں دیکھنا پڑا ہے۔ عمران خان صاحب ایک یوٹرن اس معاملے پر بھی لے لیں تو آپ کے لئے اچھا ہے ورنہ یہ نہ ہو کہ ’اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چُگ گئیں کھیت‘۔ پی ٹی آئی کو عوامی مقبولیت کی معراج بخشنے میں بھی میڈیا اور ان کی ٹیم کا کردار رہا ہے جو بوجوہ ان کے ساتھ نہ رہی لیکن اب بھی وقت ہے کہ وہ اس حساس محاذ پر درست ٹیم کا انتخاب کرلیں ورنہ ایک ایک کرکے ایسی حماقتیں ان کے اقتدار کی اجلی چادر کو اتنا داغدار بنادیں گی جو کسی ڈیٹرجنٹ سے دھلنے والی نہیں۔ عوامی رائے بدل جائے تو پھر وہی حال ہوتا ہے جو مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کا ہوا ہے اور ان کے قصیدہ خواہوں کا۔

متعلقہ خبریں