رمیزہ نظامی نے اپنے ہی میڈیا گروپ کے 4 صحافیوں کے خلاف مقدمہ کیوں درج کروایا؟ اس کام کے لیے انہوں نے کسی تبدیلی والے سے سفارش ڈلوائی؟ بالاخر کہانی منظر عام پر آگئی

2019 ,مئی 14



لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) بہت سارے لوگ مجھ سے روزانہ سوال کررہے ہیں کہ یہ نوائے وقت میں کیا ہو رہا ہے؟ چند روز قبل نوائے وقت کی ایم ڈی رمیزہ کی طرف سے سینئر صحافی خواجہ فرخ سعید سمیت آدھ درجن کے قریب صحافیوں پر ایف آئی اے میں درج کرائے گئے مقدمے پر نامور صحافی اور کالم نگار جمال احمد نظامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ملک بھر کی صحافتی برادری کا شدید ردعمل سامنے آیا‘ اس سلسلے میں مجھے بھی ملک بھر سے روزانہ متعدد ٹیلی فون کالز موصول ہورہے ہیں‘میں اپنے تمام دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں‘تاہم جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ نوائے وقت میں کیا ہورہا ہے تو اس کی ذمہ دار خود رمیزہ نظامی ہے اور اب وہ شائد سمجھتی ہے کہ جعلی مقدمات کا اندراج کروا کر وہ صحافیوں کو ڈرا دھمکا سکتی ہے‘میں اس سلسلہ میں اسے اتنا بتاتا چلوں کہ ایسے مقدمات کا سامنا کرنے کی ہمت ہمارے اندر موجود ہے اور وہ معمار ایڈیٹر نوائے وقت مجید نظامی صاحب کی پیدا کردہ ہے‘ اگر وہ یہ سمجھتی ہیں کہ وہ مجھے اس طرح ڈرالیں گی تو یہ ان کی خام خیالی ہے‘نوائے وقت میں جتنا ظلم وہ ورکرز پر کررہی ہیں اس سے وہ خود بھی کبھی خوش نہیں رہ سکتیں کیونکہ اللہ پاک کا ایک آفاقی نظام ہے جو ہر وقت حرکت میں رہتا ہے‘نوائے وقت میں کیا کچھ ہورہاہے‘ اس پر آنے سے پہلے ایف آئی اے کے گزشتہ روز کے تماشے کا ذکر کرتا چلوں‘رمیزہ نے وزیر داخلہ اعجاز شاہ کے ذریعے صحافیوں پر پرچہ کروایا‘اس پرچے کی بنیاد مبینہ طور پر ایک قادیانیوں کیخلاف سوشل میڈیا پوسٹ بنی‘اس پوسٹ کے بارے میں میری اطلاعات کے مطابق 6ستمبر 2018ء کو نوائے وقت میں شائع ہونیوالا قادیانی گروہ احمدیہ جماعت کا اشتہار اس کی سب سے بڑی وجہ ہے جس کے بعد ملک بھر میں لوگ یہ کہنے لگے کہ رمیزہ کا سسرال قادیانی ہے‘اس کا برملا اظہار گزشتہ روز خواجہ فرخ سعید نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں کیا‘رمیزہ کو چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اپنے سسرال کے بارے میں بلا خوف و خطر تردید کرکے سب کے منہ بند کردیتی مگر اس نے عجیب و غریب ہتھکنڈے استعمال کرکے لوگوں کو مزید شک وشبہ میں مبتلا کردیا‘اس لئے اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ اس کا خاوند خود اس بارے میں تردید کیوں نہیں کررہا ہے‘لہذا یہ معاملہ رہا جس کی بنیاد پر صحافیوں پر مقدمہ درج کروایا گیا‘اب رہا سوال نوائے وقت کا تو ہوس یقینی طور پر انسان کو اندھا بنا دیتی ہے‘مجید نظامی مرحوم کی کوئی اولاد نہیں تھی‘انہوں نے رمیزہ کو گود لیا‘جس کے بعد رمیزہ نے پہلے اپنے خاندان جو کہ مجید نظامی مرحوم کا سسرال تھا‘ اس کے ساتھ سازش کرتے ہوئے بانی نوائے وقت حمید نظامی مرحوم کے بیٹے اور معروف صحافی عارف نظامی کو نوائے وقت سے نکلوایا‘ مجید نظامی مرحوم نے اپنی زندگی میں نوائے وقت گروپ جس میں وقت ٹی وی‘نوائے وقت‘ماہنامہ پھول‘ ہفت روزہ فیملی میگزین‘دی نیشن اورہفت روزہ ندائے ملت کو مجید نظامی ٹرسٹ کے نام سے ایک ٹرسٹ کا حصہ بنادیا‘اس ٹرسٹ میں مجید نظامی مرحوم نے مجھے‘اعظم بدر اور مجاہد حسین سید کو اس کا ٹرسٹی بنایا‘رمیزہ کو بھی اس کا ٹرسٹی بنایا‘اس ٹرسٹ کی بنیاد پر رمیزہ نوائے وقت گروپ کی ایم ڈی ہے‘ویسے تو شروع سے نوائے وقت میں مجھے کھل کر کام نہیں کرنے دیا گیا اور ہر طرف سے رکاوٹیں پیدا کی جاتی رہیں لیکن 27فروری 2019ء کو رمیزہ نے مجھے اپنے لاہور دفتر میں سٹاف کے بارے میں میٹنگ کے بہانے بلا کر جو ڈرامہ کیا‘اس کے بعد نوائے وقت کیلئے بنائے گئے مجید نظامی ٹرسٹ کے تمام ٹرسٹی‘رمیزہ کے علاوہ‘رمیزہ کیخلاف کھڑے ہوگئے‘ رمیزہ نے میرے ساتھ ڈرامہ کرتے ہوئے جھوٹے دستخط کروائے اور پھر ان کاغذات کی فوٹو کاپی دینے کا جھانسہ دیا مگر کوئی فوٹو کاپی نہ دی‘جس پر میں نے اگلے روز ہی لاہور کی عدالت سے اس پر دعوی دائر کرتے ہوئے حکم امتناعی حاصل کرلیا‘اس کے علاوہ انہی کاغذات پر اعظم بدر اور مجاہد حسین سید نے بھی بطور ٹرسٹی دستخط کرنے سے انکار کردیا‘نوائے وقت کے مجید نظامی ٹرسٹ پر تمام ٹرسٹی رمیزہ کیخلاف عدالت میں بھی جا چکے ہیں‘یہ وہ معاملات ہیں جس نے ہوس و لالچ میں رمیزہ کو اندھا کر رکھا ہے‘میں آج کے اپنے اس کالم کے ذریعے بتانا چاہتا ہوں کہ رمیزہ نوائے وقت کے پلیٹ فارم کو غلط استعمال کررہی ہے‘ اس نے ٹرسٹ کے مین نکات کے برعکس ایک دو سرکاری عہدے بھی قبول کررکھے ہیں‘مستحق طلباء‘بیواؤں‘یتیموں اور مسکینوں کے لئے وظائف مقرر کرنے کی بجائے پہلے سے مجید نظامی مرحوم کے لگائے وظائف کو بھی بند کردیا ہے‘ اس کے علاوہ وقت ٹی وی کو بند کردیا ہے‘ میں تاحال ذاتیات پر نہیں آنا چاہتا لیکن رمیزہ نے اپنے طور پر جو اوچھا ہتھکنڈا اپنا سکتی تھی وہ اپنایا ہے وگرنہ کئی باتیں ایسی ہیں کہ اگر میں انکا پردہ چاک کرنے بیٹھوں تو بات بڑی دور تک نکل جائیگی‘بہرحال نوائے وقت کیلئے مجید نظامی مرحوم کے بنائے گئے ٹرسٹ پر عمل درآمد کیلئے اپنے خون کے آخری قطرے تک لڑنے کیلئے تیار ہوں اور مجھے کسی طریقے سے بھی ڈرایا اور مرغوب نہیں کیا جاسکتا‘پولیس‘فوج‘عدلیہ‘حکومت سے اپنے تعلقات کی دھمکیاں کسی اور کو دیجئے گا‘یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں‘ان میں سے بہت سارے تو خود میرے سے رابطہ کرکے اپنی وضاحت پیش کرتے ہیں‘کئی آپ کے مخالف تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہیں لیکن نوائے وقت کیلئے اصولوں پر قائم ہوں اور یہی اصول کئی قانونی محاذوں پر آپ کا بھی دفاع کررہے ہیں وگرنہ جو مخالف ہیں اورجن تنظیموں کی آپ رکن بنی پھرتی ہیں‘ان میں کئی ایسے لوگ جو آپ کو اپنے ہمدرد لگتے ہیں‘وہ ہمارا ساتھ دینے کیلئے مسلسل رابطے کررہے ہیں‘صرف ہمارے ہاتھ بڑھانے کی دیر ہے‘ اس لئے کسی خوش فہمی میں نہ رہیں۔

متعلقہ خبریں