پیپلز پارٹی سب پر بازی لے گئی۔۔۔۔ ننھی فرشتہ کے معاملے پر ایسا اعلان کر ڈالا کہ ساری سیاسی جماعتیں ہکا بکا رہ گئیں

2019 ,مئی 21



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ دس سال کی ننھی فرشتہ مہمند کے لواحقین کو انصاف کب ملے گا ؟ بچی کا معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔  پیپلزپارٹی نے ننھی فرشتہ کا معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھانے کا اعلان کر دیا، اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ دس سال کی معصوم بچی فرشتہ مہمند کو اسلام آباد سے اغواء کیا گیا۔ تین دن تک فرشتہ مہمند کے اہلخانہ بچی کی تلاش کیلئے تھانے کے چکر لگاتے رہے، انہوں نے کہا کہ فرشتہ کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کیوں کی گئی؟ صرف نوٹس لینے سے فرشتہ اور لواحقین کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا، بتایا جائے کہ اس اندوہناک واقعے میں ملوث لوگ کون ہیں، اور ان کس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پولیس نظام میں تبدیلی کے دعوے تو کرتی ہے لیکن عملاً کچھ نہیں کرتی، اس کیس میں حکومت مجرموں پر پردہ ڈالنے سے گریز کرے، شیری رحمان نے کہا کہ بچی اور اس کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی کیلئے یہ معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ واضح رہے کہ ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والی فرشتہ مہمند نامی دس سالہ بچی کو تین روز قبل اغوا کیا گیا جس کا مقدمہ والدین نے درج کروانے کی کوشش کی، والدین کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے غفلت کا مظاہرہ کیا اور ہماری بچی کو تلاش نہیں کیا۔ دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں 10 سالہ فرشتہ مہمند نامی بچی سے زیادتی اور قتل کے الزام میں پولیس نے مقدمہ درج کر کے تین ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والی ’’فرشتہ‘‘ نامی 10 سالہ بچی کو تین روز قبل اغوا کیا گیا جس کا مقدمہ والدین نے درج کروانے کی کوشش کی، والدین کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے غفلت کا مظاہرہ کیا اور ہماری بچی کو تلاش نہیں کیا۔ ملزمان گزشتہ روز فرشتہ کی لاش قریبی جنگل میں پھینک کر فرار ہوگئے تھے، جب لواحقین کو لاش ملنے کی اطلاع ملی تو انہوں نے شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ اسپتال انتظامیہ نے بھی پوسٹ مارٹم کرنے سے انکار کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ساڑھے 6 بجے کے بعد وقت ختم ہوجاتا ہے۔ اہل خانہ نے ’’فرشتہ‘‘ کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا آغاز کیا جس پر وفاقی وزیر داخلہ نے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد سے رپورٹ طلب کی۔ آئی جی نے غفلت برتنے پر تھانہ شہزاد ٹاؤن کے ایس ایچ او کو معطل کردیا۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے زیادتی اور قتل کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کیا جن میں سے دو کا تعلق افغانستان سے ہے۔ اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بلاول ابڑو نے کیس کی جوڈیشل انکوائری قائم کرتے ہوئے 7 روز میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔ نوٹی فکیشن کے مطابق فرشتہ15مئی کومبینہ طورپراغواہوئی،والدنےتھانےمیں اطلاع دی مگر پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا۔ دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا ہے کہ بچی کاپوسٹ مارٹم مکمل ہوچکا اب اس کا فرانزک اور ڈی این اے کرایا جائے گا، مقدمہ درج کر کے تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا گیا جبکہ تفتیش کے لیے 2 ایس پیز کی سربراہی میں کمیٹی بنادی گئی ہے جو 7 روز میں اپنی رپورٹ تیار کرے گی۔

متعلقہ خبریں