ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوﺅں کے بعد صرف ایک ہفتے میں کتنے پاکستانیوں نے ڈارک ویب کے بارے میں سرچ کیا ؟ ہوش اڑا دینے والی تفصیلات نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا کر دیا

2018 ,فروری 1



لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک): ڈاکٹر شاہد مسعود نے معصوم زینب سمیت 10 بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ملزم عمران علی سے متعلق دعویٰ کیا کہ وہ کسی الاقوامی گروہ کا رکن ہے جو ڈارک ویب پر چائلڈ پورنو گرافی کی ویڈیوز کی خرید و فروخت میں ملوث ہے۔
وہ اپنے اس دعوے کو تو اب تک ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے لیکن ان کے دعوﺅں نے پاکستان کے لوگوں میں ڈارک ویب کے بارے میں اتنا تجسس پیدا کیا کہ گزشتہ ہفتے کئی لاکھ لوگوں نے ڈارک ویب کے بارے میں جاننے کی کوشش کی جو غیر قانونی ویب سائٹس پر مشتمل ایک ایسا متوازی نیٹ ورک ہے جہاں غیر اخلاقی اور غیر قانونی کاروبار ہوتا ہے۔ 
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے افسر نے نجی خبر رساں ادارے ’ایکسپریس ٹریبیون‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے مختلف شہروں بالخصوص قصور میں بچوں کیساتھ پیش آنے والے جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات کے بعد ڈارک ویب کے بارے میں لوگوں میں تجسس پیدا ہو گیا ہے جس کے باعث صرف گزشتہ ہفتے کے دوران تقریباً 13 لاکھ پاکستانیوں نے انٹرنیٹ پر ڈارک ویب کے بارے میں سرچ کیا۔ 
گوگل ٹرینڈ سروس کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں ”ڈارک ویب، ڈارک ویب کیا ہے؟، ڈارک ویب سائٹ اور ڈیپ ویب“ سب سے زیادہ سرچ کئے جانے والے کی ورڈز رہے۔ گوگل ٹرینڈ پر گزشتہ پانچ سال کا ڈیٹا دیکھا جائے تو مشکل سے ہی نظر آتا ہے کہ کسی پاکستانی نے 2013ءکے بعد سے ان کی ورڈز کو سرچ کیا ہو، لیکن قصور واقعے اور ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوﺅں کے بعد اچانک لوگوں میں ڈارک ویب کے بارے میں جاننے کا تجسس پیدا ہوا۔ 
سرچ انجن کے ڈیٹا کے مطابق ان کی ورڈز کو سب سے زیادہ بلوچستان میں سرچ کیا گیا اور دوسرے نمبر پر پنجاب رہا جبکہ خیبرپختونخواہ تیسرے، اسلام آباد چوتھے، سندھ پانچویں اور آزاد جموں و کشمیر چھٹے نمبر پر رہا۔ 
پنجاب یونیورسٹی کالج آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پرنسپل ڈاکٹر منصور سرور نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ ڈارک ویب ایک چھپا ہوا نیٹ ورک ہے جو انٹرنیٹ کے ابتدائی دنوں میں ہی بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا ”یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے لیکن اس کے باوجود دنیا میں لوگوں کو مشکل سے ہی اس بارے میں معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہ سرچ انجنز پر نظر نہیں آتا۔“
انہوں نے مزید بتایا کہ ڈارک ویب بنیادی طور پر ایسے کاموں کیلئے استعمال ہوتی ہے جو دنیا کے تقریباً تمام ہی ممالک میں غیر قانونی اور قابل سزا ہیں۔ انہوں نے کہا ”ڈارک ویب بنیادی طور پر غیر قانونی اسلحہ اور منشیات کی تجارت، چائلڈ پورنوگرافی، انتہاءپسندی، دہشت گردی، ہیکنگ اور دیگر غیر قانونی کاموں کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ اس طرح کے تمام کاموں میں کریپٹو کرنسی یعنی بٹ کوئن وغیرہ استعمال کی جاتی ہے کیونکہ اس سے مذکورہ لوگوں کا پتہ چلانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔“

متعلقہ خبریں