ڈونلڈ ٹرمپ بھی تمہیں نہیں بچا سکتا اگر تم نے یہ کام نہ کیا تو ۔۔۔ عمران خان کو یہ سنگین دھمکی کس نے دے ڈالی ؟ جانیے

2019 ,جولائی 26



کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک): پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا کہ حکومت کے رویے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کو راضی کرکے آئے ہیں تو نعوذباللہ اللہ کو راضی کر لیا ہے امریکہ سپر پاور ضرور ہوگا لیکن امریکا سے بہت بڑی سپر پاور اللہ تعالی کی ذات ہے جو آپ سے ناراض ہے کیونکہ یہاں پر انسانوں کو انسان نہیں سمجھا جا رہا،حکمران روزانہ جھوٹ بول رہے ہیں، انکے قول و فعل میں تضاد ہے، اگر اللہ ناراض رہے گا تو ڈونلڈ ٹرمپ بھی حکمرانوں کو نہیں بچا پائے گا،اب بھی وقت ہے حکمران اپنی اصلاح کریں،حکمران اس بات پہ جشن منا رہے ہیں کہ وزیراعظم کا دورہ امریکہ کامیاب رہا، کیا اس سے عوام کے مسائل حل ہو گئے؟کرپشن رکی؟مہنگائی میں کمی آئی؟ لوگوں کو علاج معالجے کی اور تعلیم کی سہولیات ملیں؟ کیا غذائی قلت سے بچے مرنا بند ہوگئے؟سید مصطفی کمال نے پارٹی صدر انیس قائم خانی و دیگر اراکین نیشنل کونسل کے ہمراہ مرکزی سیکرٹریٹ پاکستان ہاس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج مجھے افسوس کے ساتھ ہائی کورٹ سے نیب کے ایک ایسے ریفرنس میں ضمانت لینا پڑی جس کا کوئی سر پیر نہیں ہے،کہتے ہیں کہ مصطفی کمال نے غیر قانونی طور پر ایک زمین الاٹ کردی جبکہ میرے پاس الاٹ منٹ کا اختیار ہی نہیں تھا اور نہ میں نے کوئی الاٹمنٹ کی ہے،وہ زمین 1982 میں الاٹ کی گئی تھی جبکہ میں 2005 میں آکر 2010 میں چلا گیا، پھر یہ کہتے ہیں کہ ہم ریاست مدینہ بنائیں گے،میرے اوپر یہ جعلی مقدمہ بنا کر ڈی جی نیب نے خود نیب کی کارروائیوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے،اب اگر وہ چوروں کو بھی پکڑ کر لائیں گے تو وہ بھی چور نہیں کہلائیں گے،پاکستان کے لوگ اب انہیں چور نہیں مانیں گے۔ میرا کردار اور میری دیانتداری ہی میرا اثاثہ ہے،اس کیس میں سرکاری خزانے کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا نہ کوئی پیسے کی لین دین کی گئی، 3 پلاٹ ایک ہی شخص کی ملکیت تھے جنہیں بلدیاتی کانسل کی منظوری کے بعد ایک کردیا گیا تھا لیکن بعد میں جب اس پر اعتراض اٹھا تو عدالت میں اس شخص نے ان کو دوبارہ علیحدہ تین پلاٹس کی صورت میں بحال کروا لیا۔ جس پورے معاملے میں کہیں کوئی الاٹمنٹ نہیں ہوئی، کسی کے لیے یہ بہت چھوٹی بات ہوگی لیکن میرے لئے یہ بہت بڑی بات ہے، کیا دن رات جاگ کر ملک کی خدمت کرنے کا یہی صلہ ہے؟ میرے لیے یہ انتہائی شرم کی بات ہے کہ مجھے ایک ایسے الزام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے جس کا کوئی وجود نہیں۔

متعلقہ خبریں