مزار قائد،کراچی

2018 ,اپریل 23



کراچی شہر میں بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی پیدائش ہوئی اور آپ اس بارونق شہر میں 11ستمبر کو اپنی آخری منزل کو روانہ ہوئے جناب قائد کو کراچی ہی میں سپرد خاک کیا گیا ۔آپ کا خوبصورت مزار شہر کے لیے دل و جان کی حیثیت رکھتا ہے۔
مزار قائد تقریباً چھ لاکھ مربع گز کے رقبہ پر کراچی شہر کے قلب میں واقع ہے اس کا احاطہ چھ ہزار سوفٹ طویل، چھوٹی چار دیواری پر مشتمل ہے اس چار دیواری پر لوہے کی خوبصورت جالیاں نصب ہیں۔


مزار قائد کے احاطہ میں داخل ہونے کے لیے چار بڑے دروازے ہیں ایک دروازے سے صرف غیر ممالک کے سربراہوں اور اعلیٰ سرکاری حکام کی آمد پر کھلتا ہے دوسرا بڑا دروازہ جو ایم اے جناح روڈ پر واقع ہے صبح نو بجے سے دس بجے شب تک کھلا رہتا ہے اس بڑے دروازے سے طویل سیڑھیوں تک پندرہ(15) تالاب بنے ہوئے ہیں ہر تالاب اٹھائیس(28) فٹ چوڑا اور پچاس (50) فٹ لمبا ہے ہر ایک کی گہرائی تین(3) فٹ ہے۔”ہر تالاب میں دو خوبصورت فوارے ہیں او ر فوارے کی لمبائی چار فٹ ہے تالابوں کے دائیں بائیں چھوٹے بڑے 120درخت ہیں ہر درخت کے نیچے دائیںبائیں دو چھوٹی سرخ لائٹیں نصب ہیں۔


مزار قائد کا خوبصورت نمونہ بمبئی کے مشہور ماہر تعمیرات مسٹر یحییٰ مرچنٹ نے تیار کیا اور مزار قائد کا سنگ بنیاد 8فروری 1960ءمیں رکھا گیا۔ مزار کی تعمیر کے پہلے مرحلہ میں اڑھائی سو فٹ وسیع چبوترا تعمیر ہوا جس کے تہہ خانے میں اصل مزار محفوظ کر دیا گیا۔ یہ تہہ خانہ ایک سو چودہ فٹ گہرا ہے مقبرے کی بنیادوں میں 23مارچ 1940ئ¿ کی قرار داد پاکستان (لاہور) کی دستاویزات اور قائد اعظم کی مختصر سوانح عمری بھی لکھی ہوئی ہیں۔ مزار قائد کا گنبد سطح زمین سے 125فٹ بلند ہے آپ کی اصل قبر سنگ مر مر کی ہے جس پر قرآنی آیات کندہ ہیں اور مزار کے ہال کے چار بڑے اور چار چھوٹے دروازے ہیں مقبرے کے گنبد کی تعمیر پر تقریباً چھ لاکھ روپے خرچ ہوئے مقبرے کے مرکزی ہال میں ٹھوس چاندی کا 13فٹ لمبا اور 10فٹچوڑا خوبصورت جالیوں کا بنا ہوا کٹہرا نصب ہے جس کے تقریباً 2فٹ فاصلے پر پیتل کی خوبصورت جالیوں کا 21فٹ 18انچ لمبااور 17فٹ 4انچ چوڑا کٹہرا چاندی کے کٹہرے کی حفاظت کے لیے اس کے اطراف میں نصب کیا گیا ہے چاندی کے کٹہرے کا وزن 18ہزار تولہ اور مالیت 2لاکھ 25ہزار روپے ہے۔

مزار کے مرکزی ہال میں گنبد کے بیچ ایک انتہائی خوبصورت فانوس لگایا گیا ہے یہ فانوس پاکستان کے عظیم دوست ملک چین کے سابق وزیر اعظم جناب چو این لائی نے اپنے عوام کی طرف سے خاص طور پر مزار قائد کے لیے بطور تحفہ حکومت پاکستان کو 20جنوری 1971ءکو پیش کیا۔ فانوس کی لمبائی تقریباً پندرہ فٹ ہے اور اس کا وزن تین ٹن ہے فانوس کے نچلے حصے میں لگے ہوئے ستاروں کی تعداد سترہ ہے یہ فانوس صحیح معنوں میں اپنی مثال آپ ہے مزار کا اندرونی قطر 75فٹ ہے اور بیرونی قطر 72فٹ ہے مزار پر روشنی پھینکنے کے لیے لائٹ کے تقریباً 9بلند لوہے کے چار ٹاور ہیں دو ٹاوروں میںبارہ بارہ سرچ لائٹیں اور دوسرے دو ٹاوروں میں سات سات سرچ لائٹیں ہیں چاروں ٹاور مزار کے چاروں کونوں پر تقریباً سو فٹ کے فاصلے پر نصب ہیں مزار قائد کی عمارت کی صفائی کے لیے ایک خاص مشین در آمد کی گئی جس کی مالیت 25ہزار روپے کے قریب ہے۔
مزار کی دیکھ بھال کے لیے دفتری عملہ ہمہ تن مصروف رہتا ہے مزار قائد پر بری، بحری اور فضائی افواج کے دستے باری باری چار چار ماہ تک پہرہ دیتے ہیں 15جنوری 1971ءکو سب سے پہلے پاک بحریہ کے محافظ مزار قائد پر متعین کیے گئے تھے۔

متعلقہ خبریں