کابینہ کمیٹی برائے خزانے کے اجلاس میں اسد عمر شدید برہم ، کھری کھری سنا دیں

2019 ,جولائی 4



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین اور سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے شکوہ کیا ہے کہ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے 10 روز تک ان کی کال کا جواب نہیں دیا۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے دوران اداروں کے افسران اور سینئر عہدیداران کی عدم موجودگی پر اسد عمر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تمام سرکاری بلز موخر کردیے۔ اسد عمر نے کہا کہ مشیر خزانہ کے پاس وقت نہیں ہے انہوں نے 10 دن تک میری کال کا جواب نہیں دیا، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی تو میرے میسج کا 5 منٹ میں جواب دیتے ہیں۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ بجٹ کے بعد سیمنٹ، آٹا، چینی اور فضائی ٹکٹس بہت زیادہ مہنگے ہوگئے ہیں ، لوگوں کے اربوں ڈالرز باہر پڑے ہیں جنہیں واپس نہیں لایا جا رہا ، پاکستان میں عوام پر نہ چاہتے ہوئے بھی اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔اجلاس کے دوران ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بریفنگ بھی دی اور بتایا کہ 28 ممالک سے پاکستانیوں کے ایک لاکھ 52 ہزار اکاﺅنٹس کا ڈیٹا مل چکا ہے ، ان اکاؤنٹس میں 7 ارب 50 کروڑ ڈالرز موجود ہیں، صرف 650 اکاؤنٹس میں 4 ارب 50 کروڑ ڈالرز پڑے ہیں، ان میں سے 60 فیصد افراد نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھایا ہے۔ کمیٹی نے ایف بی آر کی بریفنگ مسترد کردی۔ چیئرمین اسد عمر نے کہا کہ ان میں سے 5 افراد کی خلاف بھی کارروائی ہوتی تو ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو بڑا رسپانس ملتا۔دوسری جانب سابق وزیرخزانہ اور چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اسد عمر نے احتجاجاً تمام حکومتی بلوں کی منظوری مئوخر کردی، سینئر حکام کی عدم شرکت پرتمام حکومتی بلوں کو مسترد کررہے ہیں،کمیٹی وزارت خزانہ کو ڈکٹیٹ نہیں کرسکتی، لیکن کمیٹی کا کام ایڈوائس، سفارش اور مانیٹرنگ کرنا ہے۔،اسد عمر نے اجلاس میں سینئر حکام کی عدم شرکت پر اظہار برہمی کیا۔کمیٹی احتجاجاً سارے حکومتی بلوں کی منظوری مئوخر کردی۔ فارن ایکسچینج ریگولیشن ترمیمی بل 2019 کی منظوری بھی مئوخر کردی۔انسداد منی لانڈرنگ ترمیمی بل 2019 کی منظوری سمیت اثاثے ظاہر کرنے کے آرڈیننس 2019ء پر غور بھی مئوخر کردیا۔

متعلقہ خبریں