پاکستان امن کی بات کر رہا ہے اس پر آپ کیا کہیں گے؟ بھارت کی مسلح افواج کے نمائندے صحافیوں کے سوالوں کے جواب دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئے

2019 ,فروری 28



نئی دلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی مسلح افواج کے نمائندوں کی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بھارتی دفتر خارجہ کے نمائندے نے انہیں پاکستان کی امن کی پیشکش کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب ہی نہیں دینے نہیں دیا۔بھارتی فضائیہ کے ایئر وائس مارشل اے وی ایم کپور، آرمی کے میجر جنرل سریندر سنگھ بہل اور بحریہ کے ریئر ایڈمرل دلبیر سنگھ گجرال نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے پہلے سے لکھے ہوئے مختصر بیانات پڑھے۔ جب سوال جواب کا وقت آیا تو وہ صحافیوں کے سوالوں کے جواب دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئے۔ایک خاتون صحافی پونم پانڈے نے مسلح فورسز کے نمائندوں سے سوال کیا ” عمران خان اور آئی ایس پی آر امن کی بات کر رہے ہیں اس پر آپ کیا کہیں گے ؟‘۔ جب یہ سوال پوچھا گیا اس وقت ڈائس پر ایئر وائس مارشل اے وی ایم کپور موجود تھے، اس سے پہلے کہ وہ اس سوال کا کوئی جواب دیتے دفتر خارجہ کا نمائندہ بیچ میں کود پڑا۔ بھارتی دفتر خارجہ کے نمائندے نے خاتون صحافی کو مخاطب کرکے کہا ’آپ نے غیر متعلقہ سوال پوچھا ہے گورنمنٹ آف انڈیا اس معاملے کو دیکھ رہی ہے اور وہی اس کا جواب دے گی‘۔وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے جذبہ خیر سگالی کے تحت بھارتی پائلٹ کی رہائی کے اعلان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں بھارتی ایئر وائس مارشل نے کہا انڈین ایئر فورس خوش ہے کہ ہمارا پائلٹ واپس آ رہا ہے، جب وہ واپس آئے گا تو اس کے بعد فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے، ہم اسے خیر سگالی کے جذبے کے طور پر نہیں بلکہ جنیوا کنونشن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ایک صحافی نے بھارتی آرمی کے میجر جنرل سریندر سنگھ بہل سے پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے پوچھا کہ ’ اصل صورتحال کیا ہے، کیا کشیدگی مزید بڑھے گی؟‘۔ اس سوال کے جواب میں بھارتی فوج کا نمائندہ صرف ٹامک ٹوئیاں ہی مارتا رہا۔

متعلقہ خبریں