پی ٹی آئی حکومت نے پاکستانیوں کو بڑی خوشخبری سنا دی

2019 ,جولائی 26



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اورامریکا امن کیلئے بہت زیادہ قریب ہیں، افغانستان میں دیرپا امن اور استحکام کا حصول فوجی طاقت سے ممکن نہیں، پاکستان نے ہمیشہ افغان مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیا۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ پاکستان اور امریکا افغانستان میں دیرپا امن کیلئے کام کررہے ہیں۔آج دونوں ممالک امن مقاصد کے حصول کیلئے پہلے سے زیادہ قریب ہیں۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں دیرپا امن اور استحکام کا حصول فوجی طاقت سے ممکن نہیں۔پاکستان نے ہمیشہ افغان مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیا۔ دوسری جانب ترجمان امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ مورگن آرٹگس نے پریس بریفنگ کے دوران مختلف سوالات کے جوابات دیے اور اس دوران پاکستان کے معاملے پر بھی بات کی گئی۔مورگن آرٹگس نے کہا کہ عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ پہلی ملاقات تھی، جس نے امریکی صدر اور سیکریٹری کو وزیر اعظم سے ملنے کا موقع فراہم کیا تاکہ وہ ذاتی تعلق اور ہم آہنگی قائم کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ اب ہم سوچ رہے ہیں کہ پہلی ملاقات کی کامیابی پر پیش رفت کریں، وزیر اعظم نے وعدہ کیا کہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے طالبان پر زور دیں گے، ہم سمجھتے ہیں یہ ایک اہم قدم ہے کیونکہ ہم افغانستان میں امن کے لیے پرعزم ہیں۔ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ بہت سے معاملات پر نہ صرف امریکی صدر بلکہ سیکریٹری سے ملاقات کے دوران تبادلہ خیال کیا گیا اور یہ وقت ہے کہ ان اجلاس میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کیا جائے۔دوران بریفنگ صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ پاکستانی وزیر اعظم نے کہاکہ آئندہ 48 گھنٹوں میں امریکی یرغمالیوں سے متعلق اچھی خبر ملے گی تو اب 48 گھنٹے گزر چکے ہیں تو اس بارے میں کیا معلومات ہیں اس پر مورگن آرٹگس نے کہا کہ اس انتظامیہ کا امریکی یرغمالیوں کی واپسی پر ایک مضبوط ریکارڈ ہے، ہم انسانی زندگی کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھتے ہیں اور ہم بیرون ملک یرغمال امریکی شہریوں کی محفوظ واپسی کے لیے ہر ممکن وسائل کا استعمال کریں گے۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے یہ کہا گیا تھا اور بالکل ہم ان کی واپسی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں یہ بیان مدد دیں گے اور ہمیں بالکل امید ہے کہ ان بیانات کے تناظر میں کچھ کارروائی ہوگی۔واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان 21 سے 23 جولائی تک امریکا کے سرکاری دورے پر گئے تھے، جہاں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو سے ملاقات کی تھی۔اس ملاقات میں افغان امن عمل سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا جبکہ امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش بھی کی تھی۔

متعلقہ خبریں