جی سیون ممالک کے اجلاس میں اختلافات، ٹرمپ تنہا رہ گئے

2018 ,جون 9



کینیڈا(مانیٹرنگ ڈیسک): جی سیون کے اجلاس میں ارکان ممالک کے درمیان روس کی رکنیت بحال کرنے اور ٹریڈ ٹیرف کے معاملے پر اختلافات پیدا ہوگئے جب کہ روس کی حمایت میں ٹرمپ  تنہا رہ گئے۔ جی سیون ممالک کا 44 واں اجلاس کل اور آج کینیڈا میں منعقد ہوا جس میں میزبان سمیت امریکا، اٹلی، جرمنی، فرانس، جاپان اور برطانیہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں ارکان ممالک کے درمیان روس کی معطل شدہ رکنیت کو بحال کرنے اور تجارتی ٹیرف کے معاملے پر اختلافات پیدا ہوگئے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی 7 تنظیم میں روس کی رکنیت کی بحالی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس کو دوبارہ سے جی سیون کا حصہ بن جانا چاہیے اور اس جی سیون سمٹ 2018ء میں روس کو بھی شرکت کرنی چاہیے تھی۔ امریکی صدر نے اپنی اس خواہش کا اظہار اتحادی ممالک کے نمائندگان سے بھی کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم روس کے بغیر سمٹ کا آغاز کیوں کر رہے ہیں؟ اس اہم کانفرنس میں روس کو ضرور موجود ہونا چاہیے تھا جس کے بغیر خطے کے سماجی، جغرافیائی اور دفاعی معاملات سے کچھ حاصل نہیں ہوسکے گا تاہم یورپ، جاپان اور کینیڈا سے گفتگو کے باوجود یہ معاملہ طے نہیں پاسکا اور ارکان ممالک روس کی رکنیت بحالی پر متفق نہ ہوئے، ڈونلڈ ٹرمپ اس موقف پر تنہا رہ گئے۔دوسری جانب روس کے صدر نے امریکی صدر کے بیان کو مثبت قرار دیتے ہوئے تعمیری گفتگو کو خوش آمدید کہا ہے۔قبل ازیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے بھی ملاقاتیں کیں جہاں شمالی امریکا سے تجارتی معاہدے، شمالی کوریا کے صدر سے ہونے والی ملاقات اور دیگر اہم معاملات پر گفت و شنید کی گئی۔واضح رہے کہ جی 8 کے رکن روس نے 2014ء میں خود سے ایک علیحدہ اجلاس طلب کرلیا تھا جس کے بعد دیگر رکن ممالک سے شدید اختلافات پیدا ہوگئے تھے جس کے بعد روس کی رکنیت معطل کردی گئی تھی اور تاحال روس کی رکنیت کو بحال نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اب اسے 7 ممالک کی تنظیم جی سیون کہا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں