پابندی کے باوجود بھارت سے کیا چیز لاکر لاہور میں فروخت ہو رہی ہے؟ اہم انکشاف

2019 ,مارچ 8



لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک ) پابندی کے باوجود بھارتی لہسن کی لاہور میں فروخت کا انکشاف ہوا ہے ، سمگل شدہ بھارتی لہسن کے دو ٹرک بادامی باغ سبزی منڈی لائے گئے ، جن میں 50 کلو کے 200 بیگ تھے ، 24 ٹن لہسن کشمیر کے راستے اسلام آباد اوروہاں سے لاہور منگوایا ہے  بادامی باغ سبزی منڈی میں بھارتی لہسن کے دوٹرک جمعہ کی صبح لائے گئے ہیں جن میں 50 کلوکے 200 بیگ تھے ، سبزی منڈی کے ایک آڑھتی نے غیر قانونی طریقے سے 24 ٹن لہسن کشمیر کے راستے اسلام آباد اوروہاں سے لاہور منگوایا ہے جس سے مقامی آڑھتیوں میں تشویش پیداہوگئی ہے۔ ۔لاہورکی سبزی منڈی میں ایک طرف انجمن آرھتیاں کی طرف سے بھارت مخالف نعروں کے بینرزدرج ہیں اور دوسری طرف چند آڑھتی ناجائزمنافع کے لئے بھارتی اسمگل شدہ سبزیاں فروخت کرنے میں مصروف ہیں۔‎ خیال رہے کہ بیس فروری کو مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والے بھارتی کسانوں اور سبزی کے سپلائئرز کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر ظاہر ہوئی جسے خوب دیکھا گیا ۔ ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملے کے بعد اب وہ پاکستان کو ٹماٹر سپلائی نہیں کریں گے ، لیکن وہ کسان شاید معصوم اور بھولے بھالے تھے یا انتہائی مکار جو بڑی صفائی سے جھوٹ بول کر اپنی عیاری دکھا رہے تھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان نے پہلے ہی سے بھارتی ٹماٹر کی درآمد پر بھی پابندی لگا رکھی ہے ۔ اور صرف ٹماٹر ہی نہیں ، بھارت سے آلو سمیت کسی بھی سبزی کی درآمد پر پابندی عائد ہے ، تین سال کی اس پابندی کی بنیادی وجہ بھارتی سبزیوں میں پائے جانے والی بیماری ہے ، آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر وحید احمد نے سماء کو بتایا کہ ٹماٹر کے حوالے سے بھارتی دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے ، صرف پاکستان ہی نہیں، متحدہ عرب امارات، بحرین ، اور کویت نے بھی نیپا وائرس کی وجہ سے بھارتی سبزیوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

متعلقہ خبریں