سوشل میڈیا نے خبروں کے حصول میں اخبارات کو پیچھے چھوڑ دیا

2018 ,دسمبر 24



واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک )کسی زمانے میں خبر کے حصول کا واحد ذریعہ اخبارات ہوا کرتے تھے جس میں بعدازاں ٹیلی ویڑن بھی شامل ہوگیا تھا لیکن اب نئی تحقیق یہ کہتی ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس(سوشل میڈیا) نے خبر کے بنیادی ذریعہ کی جگہ لے لی ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی ریسرچ سینٹر (پیو ) کا کہنا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور خبر رساں اداروں کےمشکلات کا شکار حالات اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ریسرچ کے ،مطابق 20 فیصد امریکی شہری سوشل میڈیا سے خبریں حاصل کرتے ہیں جبکہ اخبارات سے خبریں پڑھنے والو ں کا تناسب 16 فیصد ہے۔2016 سروے کے مطابق اخبارات سوشل میڈیاسے زیادہ اہمیت کے حامل تھے جبکہ 2017 میں یہ تناسب دونوں ذرائع کے لیے برابر ہی تھا۔پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق سوشل میڈیا کے عروج کے باوجود اب بھی ٹیلی ویڑن خبروں کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے اور تقریباً 49 فیصد امریکی شہری اس کے ذریعے باخبر رہتے ہیں۔تاہم خبروں کی رسائی کے حوالے سے کی گئی اس ریسرچ میں عمروں کا واضح فرق دیکھا گیا جس میں نوجوان زیادہ تر سوشل میڈیا جبکہ ادھیڑ عمر افراد ٹیلی ویڑن اور اشاعت کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔اس سلسلے میں 18سے 29 سال کے عمر کے افراد کے لیے سوشل میڈیا باخبر رہنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے جبکہ صرف 2 فیصد نے اخبارات کے حق میں رائے دی۔دوسری جانب 65 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی بڑی تعداد (81 فیصد ) ٹیلی ویڑن سے باخبر رہتے ہیں جبکہ 39 فیصد افراد نے کہا وہ اخبارات پڑھتے ہیں جبکہ صرف 8 فیصد افراد سوشل میڈیا سے خبریں حاصل کرتے ہیں۔پیو ریسرچ سینٹر سے وابستہ ایلیسا شیاریر کے مطابق نوجوان امریکی خبر کے سلسلے میں اپنے بڑوں کی طرح ٹیلی ویڑن پر انحصار کرنے کے بجائے صرف ایک پلیٹ فارم پر اکتفا نہیں کرتے۔اسی ادارے کی جانب سے کی گئی ایک ریسرچ میں یہ بات سامنے ا?ئی تھی کہ گزشتہ برس 2017 میں شائع شدہ اورا?ن لائن اخبارات کی سرکولیشن ہفتے کے دنوں میں 3 کروڑ 10 لاکھ تھی جبکہ اتوار کے روز یہ تعداد 3 کروڑ 40 لاکھ ہوجاتی تھی تاہم اب اس میں 10 سے 11 فیصد کی کمی واقع ہوچکی ہے۔

متعلقہ خبریں