یو اے ای میں آٹھ ماہ کا بچہ ’ خوشی کا سفیر‘ تعینات

2018 ,اپریل 30



ابو ظہبی(مانیٹرنگ ڈیسک) : متحدہ عرب امارات کے ادارے جنرل سول ایوی ایشن میں آٹھ ماہ کے کمسن بچے کو ’خوشی کا سفیر‘ تعینات کرنے پر امارات کی عدالت نے ڈائریکٹر سول ایوی ایشن سے معاملے کی وضاحت طلب کرلی۔ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی کے پراسیکیوٹر جنرل نے سول ایوی ایشن حکام سے آٹھ ماہ کے کمسن بچے کو قومی ادارے میں ’خوشی کا سفیر‘ تعینات کرنے پر عدالت میں وضاحت جمع کروانے کا حکم دے دیا۔جنرل پراسیکیوٹر کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سول ایوی ایشن میں کمسن بچے کو ملازمت دینا اگرچہ تفریحی اقدام ہو، لیکن سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل ہوئی ہیں۔ پراسیکیوٹر کو معاملے کی حقیقت سے آگاہی دینا ضروری ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ابوظہبی کی سول ایوی ایشن حکام کی جانب سے محمد ہاشمی نامی آٹھ ماہ کے کمسن بچے کو ’خوشی کا سفیر‘ تعینات کیا گیا ہے، جو دنیا کا سب سے کم عمر ترین ملازم ہے۔دوسری جانب ابو ظہبی کی جنرل سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل سیف محمد ال سعویدی نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے حوالے سے عوام میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں پر معافی مانگی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  ’ویڈیو میں دکھائی گئی جگہ ادارے کی نرسری ہے جو سول ایوی ایشن میں ملازمت کرنے والی خواتین کے بچوں کے لیے بنائی گئی ہے تاکہ وہ خوشگوار ماحول میں رہ سکیں‘۔ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن نے عوام کی جانب سے کیے گئے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’جنرل سول ایوی ایشن میں کسی بچے کو ملازمت نہیں دی گئی‘۔

متعلقہ خبریں