وادی کشمیر سے بڑی بریکنگ نیوز: مودی سرکاری عالمی دباؤ کے آگے بے بس ۔۔۔۔۔ مظلوم کشمیریوں کے لیے بڑا اعلان کر دیا گیا

2019 ,اگست 17



جموں (مانیٹرنگ ڈیسک) انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے دفترِ اطلاعات کے مطابق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے رکاوٹیں ہٹانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ اگست کے اوائل سے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں نافذ کیے جانے والے کرفیو اور ذرائع مواصلات کی 12 روزہ بندش کے بعد سنیچر کو بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔ایک پریس ریلیز کے ذریعے حکومتی ترجمان نے بتایا کہ وادی میں مختلف پابندیاں آہستہ آہستہ ختم کی جا رہی ہیں۔اس کے علاوہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکومتی ترجمان اور پرنسپل سیکریٹری روحت کنسال نے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ 35 پولیس سٹیشنز سے رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں اور مختلف علاقوں میں ٹیلی فون لینڈ لائن بحال کر دی گئی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ 17 ٹیلی فون ایکسچینج بحال کر دیے گئے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اتوار کی شام تک تمام نیٹ ورک بحال کر دیے جائیں گے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ جموں ڈویژن میں لینڈ لائن سروس معمول کے مطابق کام کر رہی ہے اور پانچ اضلاع میں موبائل فون سروس بھی بحال کر دی گئی ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کشمیر کے چند علاقوں میں لینڈ لائن فون سروس اب استعمال کی جا سکتی ہے۔ تاہم وادی میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس اب بھی معطل ہے اور صرف کچھ علاقوں تک محدود ہے۔ انڈیا کے حکومتی ترجمان نے بتایا ہے کہ انتظامیہ اور سیکورٹی افواج باریکی سے موجودہ صورت حال کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ انھوں نے بتایا کہ سڑکوں پر معمول کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات ایک مثبت نشانی ہے اور اطلاعات کے مطابق ایسا دیہی علاقوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ سکول، دفاتر اور دیگر تعلیمی اداروں کی بندش کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ پرائمری سطح کے سکول اور تمام سرکاری دفاتر پیر سے کھول دیے جائیں گے۔ پریس کانفرنس میں موجود آئی جی کشمیر پولیس سوائم پرکاش پانی نے کہا کہ انتظامیہ کشمیر کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لے رہی ہے جس کے پیشِ نظر آہستہ آہستہ رکاوٹیں ہٹائی جائیں گی۔ آئی جی کشمیر نے کہا کہ شمالی، جنوبی اور مرکزی کشمیر کے 35 پولیس سٹیشنز سے رکاوٹیں ہٹائی جا چکی ہیں۔ یاد رہے کہ جمعے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد انڈیا کے ترجمان سعید اکبرالدین نے کہا تھا کہ کشمیر میں آہستہ آہستہ بندشیں ختم کی جائیں گی۔ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر کرفیو کے باوجود مختلف علاقوں میں مظاہرے کیے گئے۔ کشمیر کے متعدد سیاسی رہنماؤں کو نظر بند رکھا گیا ہے۔ ایک روز قبل سرینگر میں موجود بی بی سی کے نمائندے عامر پیرزادہ نے جمعے کو شہر کے علاقے صورہ کا دورہ کیا جہاں گذشتہ جمعے کو بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے اور مظاہرین پر حکام کی جانب سے چھرے فائر کیے گئے جس سے کئی افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اسی مقام پر موجود عامر پیرزادہ نے بتایا کہ اس بار بھی وہ اور ان کی ٹیم نے صورہ میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن تمام سڑکیں، گلیاں اور رستے خاردار باڑوں سے بند تھی اور وہاں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی تھیں جبکہ سکیورٹی حکام کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ 16 اگست کو جمعے کی نماز کی بعد ایک بار بڑی تعداد میں مظاہرین باہر نکلے اور انھو ں نے پر امن طریقے سے اپنا اتحجاج کیا جس کی تکمیل کے بعد تمام لوگ روانہ ہو گئے۔البتہ قریبی علاقوں سے کہیں کہیں پر چھرے فائر کرنے اور آنسو گیس فائر کرنے کی بھی آواز سنائی دے رہی تھی جبکہ چند مقامات پر پاکستانی گانوں کی آواز آ رہی تھی جو کشمیر کی آزادی کے حوالے سے ترانے تھے۔بی بی سی کے نمائندے نے تبایا کہ چند مقامات پر لاؤڈ سپیکر سے لوگوں کو مظاہروں میں شرکت کرنے کے پیغامات دیے جا رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ حالات ایسے نظر آ رہے ہیں جہاں لوگوں کے جذبات ڈر و خوف کے بجائے غصے میں تبدیل ہو رہے ہیں اور اس میں صرف اضافہ ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں