نواز شریف نے خود کو مائنس کر لیا اجلاس کے اندر کی کہانی

2018 ,مارچ 2



لاہور(تحریر:اسلم خان ): نوازشریف چارو نچار پارٹی کی کُرسی صدارت سے الگ تو ہوگئے لیکن ان کے دل پر کیابیت رہی ہے،وہ سب کچھ ان کے چہرے عیاں ہے۔ چہرہ آئینہ دل ہوتا ہے۔ اور جناب نواز شریف کےایک مصاحب زکوٹا کا کہنا ہے کہ ٹولہ مصاحبین صرف جھلک دیکھ کر "صاحب" کے موڈ کا اندازہ لگا لیتے ہیں عاملہ کے اجلاس کی اندرونی کہانی بڑی دلچسپ اور عبرتناک ہے۔ کہتے ہیں کہ وفاشعار پرویز رشید کے صبر کے سارے بندھن ٹوٹ گئے تھے ان کا دھاڑیں مار مارکررونا نوازشریف سے محبت کی علامت ہو سکتا ہےماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ ان کا گریہ بنیادی طور پر مستقبل میں اپنی محرومیوں کا آئینہ بھی ہوسکتا ہے۔ نجانے ان کے دل اور دماغ میں کیا تھا کہ آنسو نہ روک پائے۔ ماضی کی طاقتور ناہید خان کا سیاسی انجام بی بی شہید کے بعد قیادت بدلتے وقت فریقین کو یاد آ جاتاہے اور بے اختیار آنسو نکل آتے ہیں نوازشریف نے جس طرح بجھے دل اور مختصر الفاظ میں شہباز شریف کا نام قائم مقام صدر تجویز کیا، اُسے سن کر اور دیکھ صاف پتہ چل رہا تھا کہ ’بڑی مشکل سے منوایا گیاہوں‘ اب سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا شہباز شریف کی مستقل صدر کے طورپر تقرری تک نوازشریف صبر کا دامن برقرار رکھ پائیں گے یا پھر اس عرصہ کے دوران پرویز رشید کی دھاڑیں انہیں بے چین کردیں اور وہ کوئی اور ’گیم پلان‘ میں مرتب کرکے اپنے ہی برادر خورد کو شہہ مات دے کر پنجاب سے بھی آﺅٹ کردیں گے۔ سدابہار ناراض اور اداس چوہدری نثار علی خان کو پارٹی سے دھکا مارنے کی بازگشت کا چہار سو چر چا سنائی دے رہی ہے۔ کہتے ہیں کہ نوازشریف نے چوہدری نثار کے خلاف دل کھول غصہ نکالا۔ ان کا شکوہ ہے کہ چوہدری نثار نے ان کا دل دکھایا ہے۔ پہلی بار ایسا ہوا کہ چکری کے چالباز چوہدری کو توہین آمیز طریقے سے نظر انداز کرکے پارٹی کے اہم ترین اجلاس میں نہیں بلایا گیا "جوتے کھانے والے سیاستدانوں کےعالمی کلب" میں نئے نئے شامل ہونے کے بعد پہلے اہم سیاسی بیان میں پروفیسر آحسن اقبال نے انکشاف کیا ہے چکری کا چکرباز چودھری عاملہ کا رکن ہی نہیں ہے اس لئے اسے بلانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی وہ دن گئے جب خلیل خان فاختائیں آڑایا کرتے تھے چوہدری نثار کو جب پارٹی سے نکالنے کی قائد مسلم لیگ (ن) کی خواہش کی اطلاع ملی تو بتانے والے بتاتے ہیں کہ راجپوت خون کا ابال دیدنی تھا۔ ان کا جواب تھا کہ میں پریس کانفرنس کررہا ہوں۔ جس پر بیچ بچاﺅ والی پارٹیاں متحرک ہوگئیں۔ مریم نوازاور پھر نوازشریف کی طرف سے تردید جاری ہوئی۔ شہباز شریف اور چوہدری نثار ’اندر‘ سے ایک ہیں'یہ کوئی راز نہیں۔ دونوں نے ہمیشہ مل کر سیاسی گیم ’سیٹ‘ کی ہے۔ گمان ہے کہ شہباز شریف کا صدارت پر بادل ناخواستہ براجمان ہونا، دراصل چوہدری نثار علی خان کے لئے نعمت غیرمترقبہ ثابت ہوسکتاہےکیونکہ نثار مدٹوں سے پنجاب پر حکمرانی ' نہیں جناب مکمل حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے موجودہ صورتحال اس کےلئے ایک نئے امکان کی کھڑکی یا دریچہ بن سکتی ہے۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ کیا شہباز شریف نے صرف ’چھوٹے‘ کا کردار ادا کرنا ہے یاپھر پارٹی پالیسی پر اپنا اثر اور رنگ پر بھی جمانا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو چوہدری نثار کے لئے اپنی سیاست کو ایک نئے انداز میں سامنے لانے کا موقع مل سکتا ہے۔ توقع ہے کہ شہبازشریف ناراض ہوکر گھر بیٹھ جانے والے چوہدری کو پارٹی کے اندر کوئی عہدہ دے کر ان کی ’صلاحیتوں‘ اور ’رابطوں‘ سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ ایک امکان یہ بھی ظاہر کیاجاتا ہے کہ شہبازشریف کی نمائشی ’گدی نشینی‘ اگر عملا ’عباسی خلیفہ‘ کے نقش قدم پر ہوئی تو پھر چوہدری نثار کے لئے کافیہ مزید تنگ ہوتا جائے گا۔ جس میں توہین کی اذیت کا پہلو دنوں کی طوالت بڑھائے گا اور چوہدری کے پیمانہ صبر کو لمحہ لمحہ چھلک چھلک جانے پر اکسائے گا۔ اس توازن پر کسی راجپوت کا پورا اترنا کسی معجزے اور ’کڑے چلے‘ سے کم نہیں ہوگا۔ ایسا ’صوفیانہ ذہد‘سیاست کے کلیجے میں عموما ہوتا نہیں۔ سیاست کی اس نئی بساط پر مریم نوازشریف کی گنجائش کس خانے میں ہوگی اور شطرنج کی چالیں ہر کوئی اپنی مرضی سے الگ الگ سمت میں چلے گا تو پورا کھیل ہی بگڑ جائے گا۔ بڑے اور چھوٹے شریف کے دلوں کے درمیان فاصلہ پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ خود پارٹی کے اندر بہت سے لوگ اس کھینچا تانی کی بنا پر خود کو یتیم اور بے بس خیال کرتے ہیں۔ بعض کا تویہاں تک کہنا ہے کہ اگر ایک دوسرے کو کسی کے ساتھ الگ ملاقات کرتا دیکھ لے تو اس کے دل میں ’شریفانہ پیار‘ پارٹی راہنما کی زندگی اجیرن بنادیتا ہے۔ دونوں اسے شک کی نظر سے اور دوسرے کا ’بندہ‘ سمجھ کر اپنے اپنے ہُجرے سے دور کردیتے ہیں۔ پھر اس سے ملاقات کرنا طلسم ہوشربا میں شہزادی کو جن کی قید سے چھڑانے کے مترادف ہوتا ہے۔ ایک سوال اور بھی زیرغور ہے کہ کیا شہبازشریف کی تعیناتی اسٹیبلشمنٹ کو دھوکہ دینے کی چال تو نہیں۔ کیا اس کے نتیجے میں شریف خاندان کے لئے اجتماعی ذہن میں بسے فیصلے میں کوئی ردوبدل ممکن ہے۔ کیا فیصلہ ساز شہباز شریف کو رعایت دے کر مسلم لیگ (ن) کے اندر موجود بے بسی کو نئے روشن کل کی نئی امید دینے کا ’رسک‘ لینے کو تیار ہیں۔ ماضی میں یہی شہبازشریف اور چوہدری نثار علی خان نے ’بڑے بھائی‘ کی نمائندگی میں کئی بار ’زبان‘ دی جو بعد میں پوری نہ ہوئی اور اعتماد کا ملیا ملیٹ ہوگیا۔ شہبازشریف کی بطور صدر مسلم لیگ (ن) تاجپوشی شاہی رسم دکھائی دی۔ نوازشریف کسی عرب ملک کا بادشاہ تصور کرتے ہوئے انتظامی امور چلانے کے لئے ایک ’تقرر‘ کررہے تھے۔ جیسے برطانیہ میں بادشاہ کی حیثیت اور مقام برقرار رکھتے ہوئے ’وزیراعظم‘ عوام کے نمائندہ کو انتظامی امور چلانے میں آزادی دی گئی۔ شہبازشریف بھی مستقبل کے ’مقرن‘ ثابت ہوں گے؟ مریم کی صورت میں ’شہزادہ محمد‘ کا کردار بحرحال چچا کے سر پر لٹکتی تلوار ہے۔ مریم کی چچا سے لپٹنے کی تصویر شہزادہ محمد کی طاقتور شہزادہ مقرن کے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتی تصویر کی یاد دلارہی تھی۔ مریم نوازنے پیغام جاری کیا کہ ہم ایک ہیں۔ واہ واہ' قوم کو درس جمہوریت کے اور اقدام بدترین موروثیت کے کئے جا رہے ہیں ۔ عمران کو جہانگیر ترین کا طعنہ دینے والے بتائیں گے کہ ’بڑے بھائی‘ سے ’چھوٹے‘ کو کون سی جمہوریت منتقل ہوئی؟۔ یہ کون سا روشن جمہوری باب ہے کہ جس کا مملکت خداداد پاکستان میں اضافہ کیا گیا ہے؟ ماڈل ٹاﺅن کے قتل کے ملزم کی تاجپوشی چہ معنی دارد؟ ابھی احد چیمہ کی صورت امکانی سلطانی گواہ کی لب کشائی باقی ہے۔ یہ منہ کھُل گیا تو سب کچھ کھُل جائے گا۔ شاید ہمارے مقدر میں ایسے ہی سانحے لکھے ہیں۔ ایک کے بعد ایک دریا کا سامنا رہتا ہے ۔۔۔ فرماتے ہیں عدل کی تحریک چلاﺅں گا۔ واہ جی واہ۔ کیا کہنے۔ مقرر ارشاد۔۔میاں صاحب پارٹی اور گھر میں عدل کر نہ سکے۔ اور چلے ہیں معاشرے میں عدل کی تقسیم کرنے' جو 35 طویل ماہ و سال میں توعدل کرنہ سکے ’اندھوں کی طرح ریوڑیاں‘ اپنوں میں بانٹنے سے قائم ہوتا ہے؟ بس یہی اک کسر رہ گئی تھی۔ایسے فلسفے اور تاریخ پر بلڈوزر چلانا آپ ہی کے ذہن رسا کا کمال ہوسکتا ہے۔ پہلے نظریہ پاکستان کی ’کلوننگ‘ کرنے کی حماقت سوجھی تھی۔ پھر اللہ، رام اور بھگوان کا ’گاندھی مارکہ‘ دورہ پڑا تھا۔ یہ دراصل ’صحبت‘ کا اثر ہوتا ہے۔ بزرگوں نے فرمایا تھا کہ جیسی صحبت ہوتی ہے، ویسے ہی مزاج، خیالات اور کرادر پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس گویا محسوس ہوتا تھا کہ شاہ سلمان کے درباری بادشاہ سلامت کے اقبال کی سلامی کے لئے تالیاں پیٹ کر اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کررہے ہوں۔ جمہوریت کی چیخ وپکار تالیاں پیٹنے والوں کے منہ سے سجتی نہیں۔ کون الوداع ہوگا کون مرد میدان ثابت ہوگا آئندہ چند ہفتے میں واضح ہو جائے گا لیکن جناب نواز شریف کے مستقبل کا فیصلہ ہو چکا وہ رہبر بن کر رہنمائی کریں گے انہوں نے خود مائنس نواز شریف فارمولا تسلیم کر لیا ہے

متعلقہ خبریں