عمران خان اور محمد بن سلمان الگ الگ ملکوں کے حکمران نہیں سگے بھائی بن گئے ، اسلام آباد سے ایسی خبر کہ خوشی سے آپ کی آنکھیں چھلک پڑیں گی

2019 ,فروری 18



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اپنے لگ بھگ 2 روزہ دورے پر کل شام اسلام آباد پہنچ گئے ۔ پرتپاک استقبال کے بعد محمد بن سلمان کو وزیراعظم ہاؤس لے جایا گیا جہاں مختلف شعبوں میں ایم او یوز پر دستخط ہوئے، بعد میں وزیراعظم پاکستان عمران خان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے مشترکہ بات چیت کی ، شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا مستقبل روشن ہے ۔ پچھلے برس بھی پاکستان نے پانچ فیصد شرح کے ساتھ ترقی کی اور عمران خان کی لیڈر شپ کی موجودگی میں پاکستان کا مستقبل انتہائی تابناک ہے۔ بی بی سی کی خصوصی نامہ نگار سحر بلوچ اپنی ایک رپورٹ میں مزید احوال بتاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔انھوں کہا کہ ہم نے اسی لیے 20 ارب ڈالر کے معاہدے کیے ہیں جو پاکستان میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری کا پہلا مرحلہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ولی عہد بننے کے بعد یہ ان کا پہلا باضابطہ غیر ملکی دورہ ہے اور وہ پاکستان آئے ہیں۔ عمران خان سعودی ولی عہد کو اپنی گاڑی میں پی ایم ہاؤس لے کر آئے جہاں ان کےاعزاز میں عشایہ دیا گیا۔ عشایئے میں پاکستانی وزیر اعظم نے تقریر کرتے ہوئے سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی مزدورں کو پیش آنے والی مشکلات کا مسئلہ اٹھایا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پچیس لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں کام کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ لوگ اپنے خاندانوں کو چھوڑ کر وہاں محنت مزدوری کے لیے جاتے ہیں اور ایک عرصے تک گھروں سے دور رہتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ لوگ ان کے دل کے بہت قریب ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ یہ مزدور قانون پسند لوگ ہیں لیکن کچھ عرصے سے انھیں مشکلات کا سامنا ہے اور ان کی ولی عہد محمد بن سلمان سے درخواست ہے کہ وہ اس مسئلے کو اپنی سطح پر دیکھیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا لاکھوں پاکستانی ہر سال فریضہ حج کے لیےسعودی عرب جاتے ہیں لیکن انھیں وہاں امیگریشن کے کچھ مسائل کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم نے سعودی ولی عہد سے درخواست کی کہ عمر رسیدہ حاجیوں کی امیگریشن کا بندوبست پاکستان کے کچھ شہروں میں کیا جائے جس سے ’اللہ تعالی ان سے بہت خوش ہو گا۔‘ وزیر اعظم پاکستان نے سعودی ولی عہد کی توجہ سعودی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی طرف بھی دلوائی۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ تین ہزار پاکستانی سعودی عرب کی جیلوں میں ہیں اگر وہ ان کے لیے کچھ کر سکیں۔ اس پر سعودی ولی عہد نے کہا کہ مجھ سے جو ہو سکا میں ان لوگوں کے لیے کروں گا۔ انھوں نے کہا کہ آپ مجھے سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھیں۔‘ اِس سے پہلے جب شہزادہ محمد بن سلمان اتوار کی شام کو پاکستان پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ وزیرِ اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سعودی مہمان کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ پر موجود تھے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کا طیارہ جب پاکستانی حدود میں داخل ہوا تو پاکستان فضائیہ کے طیاروں نے اسے حفاظتی حصار میں لے لیا۔ پاک فضائیہ کے طیارے مہمان کے طیارے کے دائیں اور بائیں جانب فار میشن میں پرواز کرتے ہوئے انہیں راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر لائے۔

متعلقہ خبریں