خان اعظم ........اور شاہی عمرہ

2018 ,جون 20



خان صاحب لاٹھی کے سہارے چل رہے تھے اسکے باوجود لڑکھڑاتے تو دیوار پر دوسرا ہاتھ رکھ لیتے۔ اگر بال سیاہ کرنے سے بندہ نوجوان بن جاتا ہے تو خان صاحب نوجوان تھے مگر بید مجنوں کی طرح لرزتا بدن آخری عمر کا غماز تھا ۔ یہ منظر بلوچستان کے ایک اندرونی شہر کا تھا۔ میزبان نے خان صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے مہمانوں کو بتایا، خان صاحب نے رسمِ ول ور کے تحت حالیہ دنوں اپنی ایک اور شادی کی ہے۔ اسکے ڈھلتی عمر کے دو بیٹے اور ایک بیٹی شادی کی حسرت لئے گھر میں بیٹھے ہیں۔ پوچھنے پر’ بزرگ نوجوان‘ کا نام خان اعظم بتایا گیا ۔یہ بھی واضح کیا کہ ایسے خان اعظم قبائل میں بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ان کوآسانی سے اندرونی و بیرونی طاقتیں اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہیں۔ بدلے میں بڑی رقم اور طاقت بخش میڈیسن دی جاتی ہے۔ اس رقم کو کئی خان رسم وَل وَر کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ عربوں سمیت مسلم دنیا کے بڑے حصے میں لڑکی یا اسکے گھر والوں کو شادی کیلئے رقم دی جاتی‘ پشتو میں اسے ول ور کہتے ہیں۔اس کا بلوچستان اور افغانستان کے کئی علاقوں میں رواج ہے۔
قبائل کے خان اعظم اور ہمارے خان اعظم ول ور یااسکے بغیر شادی کرتے ہیں تو اس میں کوئی امر مانع نہیں ۔بے جوڑ شادی پر بھی کوئی قدغن نہیں تاہم حسب نسب دیکھنے کو مناسب قرار دیا جاتاہے ۔ خان اعظم عمران خان نے ورلڈ کپ جیتا، بڑے رنز کئے، وکٹیں اڑائیں مگر کبھی ہیٹ ٹِرک نہیں کی البتہ شادیوں کی ہیٹ ٹرک کرلی ۔ اب وزیراعظم بننے کی فل تیاری میں ہیں۔ انکی ایک مطلقہ ریحام خان وزارت عظمیٰ کی راہ کھوٹی کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ عمران خان، انکے صلاح کار حکومت بنانے کا اتنا یقین کئے ہوئے ہیں کہ 100دن کی پلاننگ بھی جاری کردی۔ انتخابات کو محض رسمی کارروائی سمجھتے ہیں۔ ابھی کمند پھینکی ہی نہیں، بام بہت دور ہے ‘کمند تو بام سے دو چار ہاتھ پر بھی ٹوٹ جاتی ہے۔ 1979میں جنرل ضیاءالحق نے انتخابات کرانے کا اعلان کیا ۔ اسلام کے نام پرعوام کو گمراہ کرنےوالے نو جماعتوں کا اتحاد ٹوٹ چکا تھا۔ اصغر خان کی لہر چل نکلی تھی۔ وہ اور انکے ساتھی ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے بالکل آج کے خان اعظم اور حواریوں کی طرح ۔ جنرل ضیا کا دست شفقت بھی تحریک استقلال پر تھا ۔ جنرل ضیاءکی ہدایت پر ان کو مستقبل کے وزیراعظم کے طور پر ایران کے دورے پر بھجوایا گیا۔ جہاں ان کو وزیراعظم اور خورشید قصوری کو وزیرخارجہ کا پروٹوکول دیا گیا مگر واپسی پر جنرل ضیاءالحق نے ائیر مارشل اصغر خان کو ملاقات کا وقت نہیں دیا۔ جلد ہی وہ انتخابات کئی سال کیلئے موخر ہوگئے ۔ اسکے بعد پھرکبھی اصغر خان وزارت عظمی کےلئے فیورٹ نظر نہیں آئے۔ عمران خان بھی آج اسی مقام پر ہیں جس پر اُس دور کے خان اعظم اصغر خان تھے مگر عمران خان کی سیاسی مخالفت کا کوئی انت نہیں ہے جو ان کو لے کر ڈوب بھی سکتی ہے۔ 
عمران خان کے گھر کے باہر لائن آف ٹکٹ متاثرین ہے تو خود خان سیاسی مخالفت کے حوالے سے ان دی لائن آف فائر ہیں۔ انہوں نے رمضان کے آخر دنوں عمرہ کیا ، اس کےلئے سپیشل جہاز کرائے پر حاصل کیا گیا جس کا کرایہ فی گھنٹے پرواز آٹھ لاکھ تھا ۔ اسے شاہی عمرے سے بجا طور پر تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس پر اسی طرح شدید تنقید کی گئی جس طرح میاں نواز شریف کو دل کی تکلیف کے علاج کے بعد لندن سے لانے کے خصوصی جہاز ٹورنٹو سے کراچی منگوا کر اس میں خصوصی نشستیں اور بیڈ لگوا کر لندن بھجوایا گیا تھا۔ اُس وقت تحریک انصاف نے یہ معاملہ اٹھاکر ان کا بینڈ بجایاتو آج مسلم لیگ ن شاہی عمرے کو لے کر پی ٹی آئی اور اسکے ”کفایت شعار“ چیئرمین کا توا لگا رہی ہے۔ جب شاہی عمرے کی چار سو دھول اڑ چکی تو تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم نے انگڑائی لی اور شاہی عمرے کو کچھ اس طرح سے اصلاحی عمرہ ثابت کرنے کی کوشش کی:” عمران خان کی شدید خواہش تھی کہ 25 جولائی کا معرکہ لڑنے سے قبل اللہ کے حضور 27 ویں رمضان کی شب عبادت میں گزاری جائے۔ اس کیلئے مسجد نبوی سے بہتر مقام اور کیا ہوسکتا تھا؟اس مقصد کیلئے سعودی ائیرلائن میں ٹکٹیں بک کروا لی گئیں لیکن امیدواروں کی ٹکٹوںکی تقسیم کی وجہ سے شیڈول میں بار بار تبدیلی کرنا پڑی چنانچہ فلائیٹ کینسل کردی گئی۔قارئین!یہاں ایک ثانیہ رکئے،یہ مو¿قف پی ٹی آئی کاہے،اس سے میرا اور آپکا متفق ہونا ضروری نہیں۔
”رمضان کے دنوں میں بزنس کلاس ٹکٹ تقریباً پونے تین لاکھ سے سوا تین لاکھ روپے کا ملتا ہے۔ اسکے باوجود اسکی دستیابی کی کوئی گارنٹی نہیں چنانچہ عمران خان نے اپنے دوستوں سے مشورہ کیا اور ایک نسبتاً بہتر پلان بنا لیا جس کے تحت دس سیٹوں والا طیارہ ہائر کیا گیا جس کا ریٹ تقریباً 8 لاکھ روپے فی گھنٹہ فلائیٹ کے حساب سے طے ہوا۔عمران خان کیلئے اکیلے یہ خرچ برداشت کرنا اتنا آسان نہ تھا، چنانچہ دوستوں کو شیئر کرنے کی آفر کی ۔علیم خان، عون چوہدری اور زلفی بخاری رضامند ہوگئے۔یوں دس لوگ بشمول عمران خان اور انکی اہلیہ، نے یہ چارٹرڈ طیارہ استعمال کیا جس نے مجموعی طور پر 13 گھنٹے اور چند منٹ کی فلائیٹ کی اور ایک کروڑ چار لاکھ کا بل بنا۔
چارٹرڈ طیارے پر فی بندہ صرف 10 لاکھ روپے خرچ آیا، بزنس کلاس سے زیادہ پرائیویسی اور سہولت علیحدہ سے ملی۔کیا اب بھی آپ کو لگتا ہے کہ یہ شاہی عمرہ تھا“؟
آج سیتاوائٹ اور اسکی بیٹی ٹیریان پھر خبروں میں ہیں۔ایسے سکینڈل انتخابات کے دنوں میں طوفان اُٹھا دیتے ہیں۔سیتا وائٹ کے حوالے سے پی ٹی آئی مختلف کہانی بیان کرتی ہے:”اپریل1996ءمیں عمران خان نے اپنی سیاسی جماعت تحریکِ انصاف کی بنیاد رکھی۔ اسکے چند ماہ بعد بے نظیر حکومت توڑ دی گئی اور نئے انتخابات کا اعلان ہوا۔ عمران خان نے الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان اور نواز شریف و بے نظیرکو کرپٹ قرار دیتے ہوئے ان کا مقابلہ کرنے کا عزم ظاہرکیا۔دسمبر 1996ءکے آخری ہفتے میں الیکشن کمیشن نے تمام امیدواروں کے کاغذات نامزدگی فائنل کر کے انہیں انتخابی نشانات الاٹ کر دیئے۔یہ وہ دن تھے جب مغربی ممالک میں کرسمس اور نیو ایئر کے سلسلے میں دو ہفتے کی چھٹیاں ہوتی ہیں۔ 6جنوری 1997ءکو پیر کا دن تھا۔ چھٹیاں ختم ہونے کے بعد پہلا ورکنگ ڈے بھی ۔ اسی دن سیتا وائٹ نے امریکہ میںلاس اینجلس کی عدالت میں عمران خان کےخلاف مقدمہ دائر کیا جس میں الزام لگایا کہ وہ اسکی چار سالہ بیٹی ٹیریان کا باپ ہے۔ اس مقدمے کی ٹائمنگ کا اندازہ لگا لیں، جونہی پاکستان میں کاغذات نامزدگی فائنل ہوئے اسکے فوراََ بعد امریکی عدالت میں مقدمہ درج کردیا گیا۔ عمران خان تو سال کے کئی ہفتے لندن میں گزارتا تھااس کاسسرال بھی وہیں تھا۔سیتا وائٹ بنیادی طور پر برطانوی شہری تھی مگر یہ مقدمہ امریکہ میں دائرکیا گیا۔ اگرمقصد اپنی بیٹی کو حق دلانا تھا تو بہترآپشن لندن عدالت تھی جہاں عمران خان کوپکڑنا بہت آسان تھا۔ امریکی عدالت کے فیصلے پرجب سیتا وائٹ نے عمران خان پر مقدمہ کیا، اسے امریکہ آنے کا نوٹس بھجوایا تو عمران خان وہاں جانے کیلئے تیار ہوگئے۔ چونکہ یہ الیکشن کا وقت تھا اس لیے عمران نے مہلت مانگ لی۔اسی دوران سیاسی مخالفین نے عمران خان کیخلاف پروپیگنڈہ شروع کروا دیا۔ مارچ1997ءمیں عمران خان کو اپنے مشترکہ دوست کے ذریعے پیغام ملا کہ وہ امریکہ میں یہ مقدمہ لڑنے گیا تو اسے وہاں قتل کروا دیا جائیگا تو عمران خان نے امریکہ جانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر سیتا وائٹ پاکستان آ کر مقدمہ درج کرنا چاہے تو وہ نہ صرف خرچہ برداشت کرینگے بلکہ بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے اپنی بے گناہی بھی ثابت کرنے کیلئے تیار ہونگے۔ سیتا وائٹ نے یہ پیشکش مسترد کر دی۔
بادی النظر میں سیتا وائٹ کو عمران خان کے مخالفین نے استعمال کیا۔ ان کا مقصد بچی کو حق دلوانا ہوتا تو لندن میں مقدمہ درج کرواتے یا پھر عمران خان کی پیشکش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں مقدمہ کرتے“ ۔ شیخ رشید نے ایک پروگرام میںبار بار حلفیہ کہا کہ اسکے اُس دور کے دوستوں نے سیتا سکینڈل کیلئے ساڑھے چودہ لاکھ روپے جاری کئے تھے۔ شیخ رشید جھوٹ نہیں بول سکتے کیونکہ وہ عدالت کی طرف سے سند یافتہ صادق اور امین ہیں۔سیتاکیس میں صداقت ہوسکتی ہے مگر کیاایسے معاملات کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا مناسب ہے۔اگر مناسب ہے تو یہ کیس عمران اور انکی سیاست کا زندگی بھر تعاقب کریگا حتیٰ کہ خان صاحب اس کا اعتراف کرلیں۔

متعلقہ خبریں