’’ محسن داوڑ اس وقت مسلح تھا اور۔۔۔‘‘ پاک فوج پر حملہ کس وجہ سے کیا گیا؟ پی ٹی ایم رہنماء کا قریبی کا تہلکہ خیز انکشاف

2019 ,مئی 28



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) محسن داوڑ مسلح تھا، پی ٹی ایم رہنما کا قریبی ساتھی بول اٹھا، پی ٹی ایم رہنما مسلح گارڈ کے ہمراہ احتجاجی دھرنے میں پہنچا تھا، ڈاکٹر عالمی نامی شخص پاک فوج کی چیک پوسٹ پر ہوئے حملے سے متعلق تمام حقائق سامنے لے آیا۔ تفصیلات کے مطابق پی ٹی ایم کی جانب سے پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ کرنے سے متعلق محسن داوڑ کا قریبی ساتھی ہی تمام حقائق سامنے لے آیا ہے۔محسن داوڑ کا قریبی ساتھی ڈاکٹر عالم اس حوالے سے حقائق سامنے لے آیا ہے۔ ڈاکٹر عالم نے اعتراف کیا ہے کہ محسن داوڑ پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملے کے وقت مسلح تھا۔ جبکہ جب پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ ہوا، تو محسن داوڑ اس وقت ایک مسلح گارڈ کے ہمراہ وہاں پہنچا تھا۔ بعد ازاں پھر پاک فوج کی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں فوجی اہلکاروں کو بھی جوابی اقدام اٹھانا پڑا۔دوسری جانب کچھ ذرائع کی جانب سے بتایا جا رہا ہے کہ پاک فوج پر بزدلانہ حملے کے بعد محسن داوڑ کے افغانستان فرار ہو گیا ہے۔ پی ٹی ایم رہنما گزشتہ اتوار کو پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ کروانے کے بعد فرار ہو گیا تھا اور تاحال مفرور ہے۔ محسن داوڑ نے اتوار کے روز مظاہرین کو مشتعل کرکے پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ کروایا تھا۔ بعد ازاں پاک فوج کی جوابی کاروائی کے دوران محسن داوڑ بزدلانہ انداز میں انسانی ڈھال کا استعمال کرتے ہوئے فرار ہو گیا تھا۔جبکہ اس کا ساتھی علی وزیر اور دیگر گرفتار کر لیے گئے تھے۔ محسن داوڑ کی تاحال تلاش جاری ہے، تاہم اب کچھ اطلاعات آئی ہیں کہ محسن داوڑ افغانستان فرار ہو گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پاک فوج پر بزدلانہ حملے کے بعد محسن داوڑ افغانستان فرار ہوگیا، پشتون تحفظ موومنٹ کا رہنما افغانستان پہنچ کر سوشل میڈیا پر متحرک ہوگیا ہے۔ محسن داوڑ نے پاکستان مخالف غیر ملکی میڈیا گروپس کو انٹرویو اور سوشل میڈیا کے ذریعے ریاستی اداروں کیخلاف زہر اگلنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں انٹرنیٹ اور مواصلات کے دیگر ذرائع اس وقت کام نہیں کر رہے، ایسے میں سوشل میڈیا استعمال کرنا یا غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دینا ممکن نہیں ہے۔ محسن داوڑ کی جانب سے سوشل میڈیا پر متحرک ہو جانا اور غیر ملکی میڈیا کو انٹرویوز دینا ثابت کرتا ہے کہ پی ٹی ایم رہنما کے افغانستان فرار ہو جانے کی اطلاعات درست ہین۔تاہم اس حوالے سے پاک فوج یا حکومت کی جانب سے تاحال تصدیق نہیں کی گئی۔ دوسری جانب شمالی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر حملے کی ایف آئی آر کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ مقدمے میں دہشتگردی، 302، اور 324سمیت 10دفعات شامل کی گئیں۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق پی ٹی ایم ارکان اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر نے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ایف آئی آرمیں محسن داوڑ اور علی وزیر سمیت 9 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی ایم کے رہنماء اور رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو انسداد دہشتگردی عدالت بنوں میں پیش کردیا گیا، علی وزیرپاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ کرنے کا الزام ہے،خرقمر میں چیک پوسٹ پرحملہ کرنے اور دہشتگردوں کو چھڑوانے کے الزام میں علی وزیر کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔تاہم انسداد دہشتگردی عدالت نے علی وزیر کو 8روزہ جسمانی ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے کردیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ علی وزیر کو پشاور منتقل کردیا جائے گا۔ مزید برآں گزشتہ روز پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے واضح کیا تھا کہ پی ٹی ایم کارکنان مذموم مقاصد کیلئے اُکسایا جا رہا ہے، پی ٹی ایم کے معصوم کارکنان کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے، چند افراد مذموم مقاصد کیلئے انہیں ریاستی اداروں کیخلاف استعمال کر رہے ہیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ شرپسند گروہ نے شمالی وزیرستان کی خاڑ کمر چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ محسن جاوید اور علی وزیر کی سربراہی میں ایک گروہ نے چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ شمالی وزیرستان واقعہ میں پی ٹی ایم کے معصوم کارکنان کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند افراد مذموم مقاصد کیلئے انہیں اُکسا رہے ہیں اور ریاستی اداروں کیخلاف استعمال کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں