ن لیگ کے ساتھ اتحاد ۔۔۔۔ ؟ چودھری شجاعت اچانک میدان میں آگئے ، پوری قوم کو بڑا سرپرائز دے دیا

2019 ,اپریل 21



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ شہباز شریف سے رابطہ ہوا نہ اس بات کا امکان ہے۔ عمران خان نیک نیتی سے مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اقتصادی مسائل، مہنگائی اور بیروزگاری کے خاتمہ کیلئے سب ان کا ساتھ دیں۔ پاکستان مسلم لیگ کے صدر اور سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف سے مبینہ رابطوں اور شریف برادران کی جانب سے ماضی کی تلخیاں بھلا کر مل کر آگے بڑھنے کی پیشکش کی اطلاعات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میری طرف سے کوئی پیشکش نہیں ہوئی۔ شہباز شریف سے نہ تو رابطہ ہوا ہے اور نہ ہی کوئی امکان ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ نواز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد اجلاس میں جب ان کی خوشامد کی جا رہی تھی تو میں نے کھڑے ہو کر ان کو کہا تھا کہ وہ منافقت سے پرہیز کریں، چاپلوسوں سے دور رہیں، ان میں ’میں‘ نہیں آنی چاہیے لیکن افسوس ہے کہ تینوں میں سے میرے کسی مشورہ پر عمل نہیں کیا گیا۔چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ افہام وتفہیم کی باتیں کرنے سے پہلے شہباز شریف اور ان کے بھائی نواز شریف کو بھی چاہے کہ وہ نواز شریف کو دیے گئے میرے پہلے مشورہ ’’منافقت سے پرہیز‘‘ پر عمل کریں۔ اید رہے کہ یہ خبر ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ شہباز شریف سے رابطہ ہوا نہ اس بات کا امکان ہے۔ عمران خان نیک نیتی سے مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اقتصادی مسائل، مہنگائی اور بیروزگاری کے خاتمہ کیلئے سب ان کا ساتھ دیں۔ یاد رہے کہ آج خبر گردش میں تھی کہ ن لیگ نے چودھری شجاعت سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔

متعلقہ خبریں