مودی کی بم کو لات

2019 ,اگست 9



آئو ہانگ کانگ چلیں! کیوں؟ اس لیے کہ وہاں جائیدادیں سستی بلکہ ٹکے ٹوکری ہیں۔ 20 لاکھ ڈالر کا فلیٹ 2 لاکھ ڈالر میں دستیاب ہے۔ باقی جائیدادوں کا بھی یہی حال ہے۔ چین نے ہانگ کانگ 99 سال کی لیز پر برطانیہ کو دیا تھا۔ قوانین کے مطابق برطانیہ عظمیٰ کو 99 سال کے قبضے کے بعد حقِ ملکیت سے دستبردار ہونا پڑا۔ ہانگ کانگ میں برطانوی عملداری کے آخری روز تک شہریوں کو دہی حقوق اور آزادی حاصل تھی جو برطانیہ میں کسی بھی شہری کو میسر ہے مگر سوشلسٹ چین کے شہری جن قوانین کی دل و جاں سے ایک عرصہ سے عادی ہونے کے باعث پابندی کرتے ہیں وہ برطانویوں کے لیے اجنبی اور حبس زدہ ثابت ہو رہے ہیں۔ اس لیے وہ ٹھنڈی ہوائوں کی آرزو لیئے جائیدادیں بیچ کر من پسند ممالک میں جانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ زیادہ تر کا رُخ نارتھ امریکہ کی جانب ہے۔ ہانگ کانگ کی سستی جائیدادوں کی مالیت آج بھی نارتھ امریکہ میں جائیدادوں کی مالیت کے مقابلے میں پرکشش ہے۔ 2 لاکھ ڈالر میں کینیڈا اور میکسیکو میں گھر خریدا اور کاروبار کیا جا سکتا ہے ۔ آج شمالی امریکہ میں چینی کثرت سے نظر آتے ہیں دراصل یہ ہانگ کانگ کے ’’نوآسیر‘‘چینی ہیں۔ تو چلیں پھر ہانگ کانگ! مگر ذرا ان کی بھی سنیئے۔ آج ’’کانگی‘‘حبس زدہ ماحول سے نکلنے کے لیے کوشاں ہیں تو کچھ عرصہ قبل زندگی کو رعنائیوں اور زیبائیوں سے آراستہ و پیراستہ کرنے کی آرزو لیے فلسطینیوں نے بھی اپنی جائیدادیں پُرکشش معاوضوں کے لالچ میں فروخت کیں۔ کوئی کہاں جا بسا کوئی کہاں جا نکلا۔ ان کو اپنی معمولی جائیدادوں کا اس قدر زیادہ معاوضہ ملا کہ وہ دنیا کے کسی بھی عرب اور مغربی ملک میں شاہانہ زندگی گزار سکتے تھے اور یہ لوگ ایسی پُربہار زندگی گزار بھی رہے ہیں۔ فلسطین میں دنیا کے کونے کونے سے یہودی لا کر بسائے گئے۔ اگر کوئی نادار تھا تو اسے ساہوکار یہودیوں نے مالدار بنا دیا تھا۔ دوسرے ممالک سے آنے والے امیر یہودیوں نے فلسطینیوں سے اپنے اور غریب یہودیوں کے لیے جائیدادیں خریدی تھیں۔ ان کو فلسطین کے دامن میں اسرائیل کو داغ بنا کر بسانے والے ممالک کا تعاون بھی حاصل تھا۔ آج بقیتہ الاموال فلسطینی اپنے ہی وطن میں مظلوم، مغضوب مقہور مجبور اور غلام ہیں۔ یہودیوں کو سابق فلسطین میں مصنوعی اکثریت حاصل ہو چکی ہے۔ آج ایسی ہی ہوائیں مقبوضہ کشمیر میں بھی چلتی نظر آ رہی ہیں۔

بھارت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کا خاتمہ کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ حالانکہ بھارت ایسا کرنے کا قطعاً اختیار نہیں رکھتا ، بھارت کے آئین کے تحت مقبوضہ کشمیر میں قانون ساز اسمبلی موجود ہے۔ ایسی ترامیم تبدیلیوں اور قانون سازی کا اختیار مقبوضہ کشمیر اسمبلی کو بھارتی آئین نے تفویض کر رکھا ہے۔ پاکستان اس ایک نکتے کو لے کر اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف میں جا سکتا ہے۔

بھارت جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے ظلم کے ضابطے پر عمل پیرا رہا ہے۔ مودی حکومت نے اکثریت کے بل بوتے پر اپنی پارٹی کے منشور کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی اپنے آئین میں خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ اس پر بھارت میں مودی کے حامی حلقے شادیانے بجا رہے ہیں جبکہ اپوزپشن اس اقدام کی مذمت کر رہی ہے۔ کل تک کشمیر میں بھارت کے کٹھ پتلی شیخ اور مفتی خاندان آج دو قومی نظریے سے انحراف پر پچھتا رہے ہیں۔ اس پچھتاوے کا اظہار کرنے پر عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو حراست میں لے کر شاید ’’قصوری چکی‘‘ میں ڈال دیا جو آزادی کا نام لینے والے ہر کشمیری کا مقدر سفاک بھارتی فوج بنا دیتی ہے۔ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی التجا جاوید ’’بی ماں‘‘ کی گرفتاری پر آنسو بہا رہی ہیں۔ کشمیر کے سوداگر خاندان کے چشم و چراغ فاروق عبداللہ ’’ایسا ہندوستان کبھی نہیں دیکھا‘‘ کہتے ہوئے رو پڑے۔ ان کو اپنے والد کی غداری پر رونا چاہئے۔ یہ مگرمچھ کے آنسو کشمیر کی محبت میں نہیں پتر کی گرفتاری پر بہا رہے ہیں۔ سشما سوراج 370 اور 35 اے کی آئین بدری نے شادی مرگ سے ہمکنار کر دیا۔ آنجہانی سوراج نے مودی کو مبارک باد دیتے ہوئے پیغام بھیجا ’’یہ میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش تھی جو پوری ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی کلبھوشن کو بھارت کا بیٹا قرار دینے والی اس کی آتما سوئے نرگ پرواز کر گئی۔ خس کم جہاں پاک بھارتی آئین کے سابق آرٹیکل 370 کے تحت کشمیر میں کرنسی سکیورٹی اور خارجہ امور بھارت ، اس کے سوا تمام اختیارات جموں و کشمیر حکومت کے پاس تھے۔ آرٹیکل 35 اے کے تحت کوئی بھی شخص جموں و کشمیر کا شہری اسی صورت ہو سکتا تھا جب وہ یہیں پیدا ہوا ہو۔ کسی بھی دوسری ریاست اور ملک کا باشندہ جموں و کشمیر میں جائیداد خرید سکتا تھا نہ مستقل شہری بن سکتا تھا نہ ہی ملازمت پر حق رکھتا ۔ کشمیری اس تبدیلی کو ٹھنڈے پیٹوں ہضم کرتے نظر نہیں آ رہے تاہم بھارت کی سازش ہو گی کہ وہ اس آرٹیکل کے خاتمے کے بعد شدت پسندوں کو کشمیر میں لا بسائے اور غریب کشمیریوں کی جائیدادیں منہ مانگے داموں سے بھی ڈبل ریٹ پر خرید لے۔ ایک تو ہندوئوں کی مقبوضہ کشمیر میں آباد کاری اور دوسرے کشمیریوں کی جائیدادیں بیچ کر پرامن اور پر تعیش زندگی کی تمنا لے کر نقل مکانی سے وادی میں آبادی کا توازن بدلنے میں دس بیس حتیٰ کہ پچاس سال لگیں تو بھی شدت پسند بنیئے کے لیے گھاٹے کا سودا نہیں کامیابی و کامرانی کا مژدہ جانفزا ہے۔

کشمیری اس یلغار کو روک سکتے ہیں اور یقیناً روکیں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں تو جدید اسلحہ سے لیس فوج بھی محفوظ نہیں۔ نہتے ساہوکار لالے کیسے محفوظ رہ سکیں گے۔ بدنیتی سے وادی میں داخل ہونے والے پہلے دوسرے اور تیسرے لالے کی لاش لٹکی نظر آئے گی تو چوتھا لالہ جنت نظیر وادی میں قدم رکھنے سے قبل جہاں سے آیا وہیں چلا جائیگا۔ سوَرگ نشیں ہونے کا عزم لے کر آگے بڑھنے والے لالے کا دوسرا قدم نرگ میں ہو گا۔

جس طرح کا مقامی علاقائی اور عالمی ردعمل سامنے آ رہا ہے اس سے بھارت ایکسپوز ہو رہا ہے۔ مودی کا یہ اقدام کھوتی کے بم کو لات مارنے کے مترادف بھی ثابت ہو سکتا ہے، سارے کے سارے کشمیری ایک پیج پر آ گئے ہیں ، اس سے کشمیر کی آزادی کی منزل قریب تر آ سکتی ہے۔ ایک شب خون بھارت نے کشمیر پر دوسرا ہماری اپوزیشن حکومت پر مار رہی ہے۔

متعلقہ خبریں