مولانا فضل الرحمان کے اے پی سی بُری طرح ناکام۔۔۔ بلاول بھٹو نے اچانک حکومت کے حق میں فیصلہ کر لیا، مریم نواز بھی منہ دیکھتی رہ گئیں

2019 ,جون 26



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) اے پی سی میں شریک چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت مخالف تحریک کی مخالفت کردی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف تحریک پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے علاوہ تمام جماعتیں متفق ہیں ۔ اے پی سی میں شریک رہنماﺅں کی جانب سے احتجاجی تحریک کیلئے بلاول بھٹو کو قائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری حکومت مخالف تحریک کیلئے رضا مند نہیں ہیں ۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کی بھی مخالفت کردی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوری سسٹم میں رہتے ہوئے جدوجہد کرنا چاہتی ہے، جو بھی اقدام کیا جائے جمہوری انداز میں ہونا چاہیے۔2018 کے عام انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی اور دھاندلی کرتے ہوئے بے شرمی کے سارے ریکارڈ توڑے گئے، جب 2008 میں پی پی اقتدار میں آئی تو سادہ اکثریت دھاندلی سے چھینی گئی لیکن ان انتخابات کے نتائج بھی ہم نے احتجاجاً قبول کیے۔ذرائع کے مطابق اے پی سی میں شریک تمام جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ کوہٹانے پر اتفاق کرلیا ہے ، چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کیلئے پہلے مرحلے میں قرار داد پیش کی جائے گی۔ نئے چیئرمین کے نام کےلئے کمیٹی کے قیام پراتفاق کیا گیا ہے جس میں تمام اپوزیشن جماعتوں کے ارکان شامل ہوں گے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ اے پی سی میں تمام اپوزیشن جماعتوں نے 25 جولائی کو یوم سیاہ منانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ تجویز جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دی تھی اور کہا تھا کہ وہ 25 جولائی کو الیکشن 2018 کا ایک سال مکمل ہونے پر یوم سیاہ اس لیے منانا چاہتے ہیں کیونکہ وہ عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ اس دن بد ترین دھاندلی کی گئی تھی۔ اس حوالے سے دنیا نیوز کے پروگرام ”نقطہ نظر“میں گفتگو کرتے ہوئے حکومت کیخلاف تحریک شروع کرنے کیلئے بلاول بھٹو زرداری کے رضامند نہ ہونے کے حوالے سے سوال پر سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ ہمارا خیال یہ ہے کہ اس وقت بجٹ پیش کیا جا چکاہے ، اس کے اثرات اگلے مہینے سے شروع ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ بجٹ کے اثرات آلینے دیں تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ ہواکیاہے ؟ انہوں نے کہا کہ پھل پک چکاہے کہ حکومت کیخلاف تحریک شروع کی جاسکتی ہے لیکن ابھی ہم انتظار کررہے کہ تاکہ عوام کو بجٹ کے اثرات کے بارے میں اچھی طرح پتہ چل جائے ۔واضح رہے کہ اسلام آبا میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش پر منعقدہ اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں چیئر مین سینیٹ اور ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیاہے ، پہلے ڈپٹی چیئر مین سینیٹ سلیم مانڈی والا اپنے عہدے سے مستعفی ہونگے جبکہ بلاول بھٹو زرداری حکومت کیخلاف تحریک چلانے کیلئے رضا مند نہیں ہوئے ۔

متعلقہ خبریں