علی گڑھ یونیورسٹی سے قائد اعظم کی تصویر اتار دی گئی

2018 ,مئی 2



اتر پردیش(مانیٹرنگ ڈیسک): بھارت  میں حکمران جماعت بی جے پی کے مطالبے کے چند گھنٹوں بعد ہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں آویزاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر غائب کردی گئی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب 48 گھنٹے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ستیش کمار نے علی گڑھ یونیورسٹی میں آویزاں قائد اعظم محمد علی جناح کا پورٹریٹ ہٹانے کے لیے یونیورسٹی کو خط لکھا تھا، خط میں کہا گیا تھا کہ یونیورسٹی  میں بانی پاکستان محمد علی جناح کا پورٹریٹ فوری طور پر اتارا جائے، ستیش کمار نے یونیورسٹی انتظامیہ سے  پوچھا  کہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد جناح کی تصویر کیوں نہیں ہٹائی گئی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی محمد علی جناح کے پورٹریٹ سے متعلق تفصیل جاری کرے ۔

خط موصول ہونے پر ابتدائی بیان میں  یونیورسٹی انتظامیہ  نے پورٹریٹ کی حمایت میں کہا تھا کہ  محمد علی جناح کو 1938 میں علی گڑھ یونیورسٹی کی اعزازی رکنیت دی گئی تھی جبکہ محمدعلی جناح سمیت کئی دیگر رہنماؤں کی تصاویر بھی یونیورسٹی میں لگائی گئی ہیں، لہذٰا رکن پارلیمنٹ کا مطالبہ سراسر غلط اور مسلم دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔میڈیا میں معاملہ آنے کے چند گھنٹوں بعد ہی یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ یونین آفس میں لگی  قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر غائب کردی گئی اور یونیورسٹی نے موقف اپنایا ہے کہ کسی کے مطالبے یا دھمکیوں پر پورٹریٹ نہیں ہٹائی گئی بلکہ صفائی ستھرائی کی وجہ سے عارضی طور پر تصویرکو ہٹاگیا ہے تاہم حیران کن طور پر تازہ تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ قائد اعظم کی پورٹریٹ کے سوا دیگررہنماوں کی تصاویر آویزاں ہیں۔

متعلقہ خبریں