دنیا کے سب سے انوکھے انسان

2018 ,مئی 7



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک): یہ دنیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں آپ کو ہر رنگ اور ہر نسل کے انسان ملتے ہیں اور یہ ایسے ایسے عجیب و غریب لوگوں سے بھری پڑی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی  ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جن کے وجود کے متعلق یقین کرنا بہت مشکل کام ہے۔ یعنی ان لوگوں کی جسامت، خدوخال یا رہن سہن ایسا ہے جو انہیں عام انسانوں سے منفرد بناتا ہے۔ ان میں کچھ طبعی مسائل کی جہ سے ایسے ہیں جبکہ چند پیدائشی طور پر ایسی ظاہری وضع قطع کے مالک ہیں جو عام لوگوں سے مختلف ہے۔ ان کی یہی منفرد جسامت اور وضع قطع یا رہن سہن ان کی مقبولیت اور شہرت کا باعث بنی۔ آج ہم آپ کو دور حاضر کے ایسے انسانوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو عام لوگوں سے ذرا ہٹ کر ہیں۔

1۔نتاشا ڈیمکینا (Natasha Demkina)

دنیا کے عجیب و غریب انسانوں کی فہرست میں سب سے زیادہ مشہور شخصیت روس کی 30 سالہ نتاشا ڈیمکینا ہے۔ 17 برس کی عمر سے ہی اس کا دعویٰ ہے کہ اس کی آنکھوں میں ایکس رے  کی طرح کا وژن ہے اور یہ انسان کے جسم میں موجود اعضاء کو کسی مشین کی مدد کے بغیر ہی دیکھ سکتی ہے۔ یہ لڑکی دنیا بھر میں شہرت حاصل کرچکی ہے اور حیرت انگیز طور پر اس کے زیادہ تر دعوے درست ثابت ہوئے ہیں۔ ’’دی گرل ود ایکس رے آئز‘‘  کے نام سے مشہور نتاشا اب باقاعدہ مریضوں کو چیک کرتی ہے۔

اس کے مریضوں میں ڈاکٹرز تک شامل ہیں جو ایکس رے مشین کی بجائے اپنے امراض کی تشخیص کے لیے اس سے رابطہ کرتے ہیں۔ نتاشا کی فیس 50 ڈالرز فی مریض ہے اور یوں یہ اچھے خاص پیسے کمالیتی ہے۔ مارچ 2004ء میں اس کو ڈسکوری چینل نے ایک ڈاکیومینٹری بنانے کے لیے بلوایا اور اس کا ایک ٹیسٹ بھی لیا جس کو نتاشا نے بخوبی پاس کرلیا۔ اس کو برطانیہ بھی لے جایا گیا، جہاں اس نے کئی مریضوں کے امراض کی کامیابی سے تشخیص کی۔ اس نے خاص طور پر مریضوں کے اندر پائے جانے والے ٹیومرز کی درست نشاندہی کی۔ نتاشا کئی ممالک کے دورے بھی کرچکی ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مائنڈ ریڈنگ (ٹیلی پیتھی) بھی ہوسکتی ہے یا پھر کوئی اور سائکک طاقت، لیکن یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ نتاشا دنیا کے عجیب ترین لوگوں میں سے ایک ہے۔

2 ۔ پرتھوی راج پاٹل (Pirthvi Raj Patil)

پرتھوی راج پاٹل کا تعلق بھارت کے شہر ممبئی کے قریب واقع ایک گاؤں سے ہے۔ گیارہ سالہ پرتھوی راج کو ایک بہت ہی یونیک قسم کا ’’جینیٹک ڈس آرڈر‘‘ ہے۔ اس کو ’’ویئر وولف سینڈروم‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے پرتھوی راج کے پورے جسم پر بھیڑیئے جیسے بال اگتے ہیں۔ یہ ایسا ڈس آرڈر ہے جو پوری دنیا میں پچاس سے بھی کم لوگوں میں موجود ہے۔ پرتھوی راج کے خاندان نے جڑی بوٹیوں سے لے کر لیزر ٹریٹمنٹ تک ہر طرح کا علاج کرواکے دیکھ لیا لیکن اس کے جسم پر تیزی سے دوبارہ بال اگ آتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ اپنے گاؤں سے کہیں باہر بھی نہیں جاتا کیونکہ گاؤں کے لوگ تو اسے جانتے ہیں اور سکول میں بھی اس کے دوست اسے ایک عام انسان کی طرح ہی سمجھتے ہیں۔

3۔ گیری ٹرنر (Garry Turner)

انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے گیری ٹرنر اس وقت دنیا کے واحد ایسے انسان ہیں جن کے پورے جسم کی جلد غیر معمولی حد تک پھیل سکتی ہے۔ بچپن میں جب گیری کو اس بات کا احساس ہوا کہ اس کی جلد میں یہ غیر معمولی صلاحیت ہے تو اس کا بے انتہا مذاق اڑایا گیا۔ اس کی جلد اتنی زیادہ غیر معمولی ہے کہ پیٹ پر سے یہ 15 سینٹی میٹرز تک پھیل سکتی ہے۔ دراصل گیری کو ’’ایلرس ڈینلوس سینڈروم‘‘ نامی جلدی بیماری ہے۔ اس بیماری میں جلد بہت زیادہ کمزور اور لچکدار ہوجاتی ہے۔ گیری ٹرنر کی یہی بیماری اس کی مقبولیت اور شہرت کا باعث بنی۔ اس کو ’’الاسٹک مین‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

4۔ ایموحاجی (Amou Haji)

نہانا یا غسل کرنا کسی بھی زندہ انسان کی بنیادی ضرورت ہے لیکن دنیا میں ایک غلیظ انسان ایسا بھی ہے جس نے پچھلے ساٹھ سالوں سے ایک بار بھی غسل نہیں کیا۔ جنوبی ایران کے صوبے فارس کے گاؤں ’’دیزحگاہ‘‘ سے تعلق رکھنے والا 80 سالہ یہ شخص پچھلے ساٹھ سال سے ایک دفعہ بھی نہیں نہایا۔ ایمو حاجی نے بیس برس کی عمر میں ایک گہرا جذباتی صدمہ پہنچنے کے بعد نہانا چھوڑ دیا تھا۔ اسے دنیا کا گندہ ترین انسان کہا جاتا ہے۔  اس سے قبل بھارت کے چھیاسٹھ سالہ کیلاش سنگھ کو دنیا کا گندہ ترین شخص کہا جاتا تھا جو 38 برس تک نہیں نہایا۔

5۔ چندرا بہادر ڈنگی (Chandra Bahadur Dangi)

چندرا بہادر ڈنگی کو انسانی تاریخ کا سب سے چھوٹا انسان ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ 30 نومبر 1939ء کو پیدا ہونے والے نیپال کے اس پست قامت شخص کا قد صرف 54.6 سینٹی میٹرز یعنی ایک فٹ ساڑھے نو انچ جبکہ  اس کا وزن صرف پندرہ کلو گرام تھا۔ 2012ء میں لکڑیوں کے ایک ٹھیکے دار نے جب اسے اس کو گاؤں میں دیکھا تو اس نے عالمی میڈیا کی توجہ اس کی طرف مبذول کروائی۔ یوں چندرا ایک عام بونے انسان سے ’’سپر ہیومن‘‘ کے درجے پر فائز ہوگیا اور اس کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل کرلیا گیا۔ اس نے بھارت کے پست قامت شخص گل محمد، جس کا قد ایک فٹ ساڑھے دس انچ تھا، کا ریکارڈ توڑ کر اپنے نام کیا۔ چندرا کے پانچ بھائیوں میں سے تین کے قد 4 فٹ سے کم تھے جبکہ باقی دو بھائی اور دو بہنیں اوسط قد کاٹھ کے مالک تھے۔ چندرا کا انتقال 3 ستمبر 2015ء کو ہوا۔

6۔ پیٹرک دیول (Patrick Deuel)

23 مارچ 1962ء کو پیدا ہونے والا پیٹرک دنیا کا سب سے زیادہ موٹا اور وزنی انسان تھا۔ امریکی ریاست نبراسکا سے تعلق رکھنے والے  اس شخص، جو ایک ریسٹورینٹ منیجر تھا، کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ سات برس تک مسلسل اپنے بستر پر پڑا رہا اور اس کا وزن بڑھتے بڑھتے ایک ہزار تئیس پاؤنڈ (یعنی چار سو چھیاسی کلو گرام) تک پہنچ گیا حالانکہ اس کا قد اوسط یعنی 5 فٹ 7انچ تھا۔ اس کی جسامت اس قدر بڑھ گئی تھی کہ جب اسے ہسپتال منتقل کیا گیا تو اس کے بیڈروم کی ایک دیوار توڑنی پڑی اور اس کے لیے لائی جانے والی خاصی ایمبولینس کے دروازے بھی عام ایمبولینسوں سے بڑے تھے جس کے ساتھ خاص طور پر ’’ریمپ اینڈ وینچ سسٹم‘‘ بھی نصب کیا گیا تھا جو ٹرالی نما اسٹریچر کو دھاتی روڈز پر لفٹ کی طرح کھینچ کہ ایمبولینس کے اندر پہنچاتا ہے۔ سرجری کے بعد پیٹرک کا وزن کم کرکے ساڑھے تین سو کلو گرام پر لے آیا گیا۔ مگر بدقسمتی سے اس کا وزن ایک مرتبہ پھر بڑھنے لگا کیونکہ  وہ ’’جنک فوڈ‘‘  یعنی فاسٹ فوڈ کھانے کا شوقین تھا۔ بالآخر 29 اپریل 2016ء کو پیٹرک دنیا چھوڑ گیا۔  اس کو ’’ہاف ٹن مین‘‘  بھی کہا جاتا تھا۔

7۔ جیمی کیٹن  (Jamie Keeton)

عجیب و غریب انسانوں کی اس فہرست میں جیمی بھی شامل ہے۔ 47 سالہ اس شخص کا تعلق امریکہ سے ہے اور اس کو ایک عجیب ’’اسکن ڈس آرڈر‘‘ ہے۔ جس کی وجہ سے یہ اپنے جسم پر کوئی بھی چیز چپکا سکتا ہے اور یہ صرف کوئی دعویٰ نہیں بلکہ حقیقت ہے جس کا مظاہرہ یہ کافی عرصے سے کرتا چلا آرہا ہے۔ ڈاکٹر ابھی تک اس کا اندازہ نہیں لگاسکے کہ آخر اس کی جلد میں ایسی کیا بات ہے جو یہ کوئی بھی چیز مقناطیس کی طرح اپنے ساتھ چپکا سکتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ شخص بیمار نہیں بلکہ بالکل صحت مند ہے۔ جیمی کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اس کے سر کے بال گر رہے تھے تو ایک دن اس نے سوچا کہ وہ اپنے سارے بالوں کو شیو کرلے۔ اس دن کافی گرمی تھی اور اس نے اپنا سر ٹھنڈا رکھنے کے لیے سر پر ٹھنڈے سوڈے کا ایک کین رکھ لیا اور بعد میں جب اس نے وہ کین سر پر سے اٹھانے کی کوشش کی تو اسے محسوس ہوا کہ وہ چپکا ہوا ہے۔ اس کے گھر والے بھی بہت حیران ہوئے۔ جیمی کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنے پورے جسم پر سوائے کسی کپڑے کے،کوئی بھی چیز چپکا سکتا ہے ۔ جیمی امریکہ میں بے حد شہرت رکھتا ہے اور یہ اب اس کا فل ٹائم کام بھی بن چکا ہے۔ مختلف کمپنیاں اپنی پروڈکٹس چپکانے کے باقاعدہ اس کو پیسے ادا کرتی ہیں۔

8 ۔ ایڈم رینر (Adam Rainer)

دنیا کی تاریخ میں یہ وہ واحد عجیب و غریب شخص تھا جو اپنی آدھی زندگی میں پست قامت بونا جبکہ بقایا نصف زندگی میں بہت زیادہ طویل القامت رہا۔ آسٹریا سے تعلق رکھنے والے ایڈم رینر کا قد 1917ء میں صرف چار فٹ اور چھ انچ تھا اور اس کو ایک بونا تصور کیا جاتا تھا۔ اس وقت اس کی عمر اٹھارہ برس تھی اور چھوٹے قد کی وجہ سے اسے فوج میں بھی نہیں لیا گیا لیکن پھر ایک دماغی ٹیومر کے باعث اس کا قد حیرت انگیز طور پر بڑھنے لگا۔ 1920ء سے ایڈم کے قد میں اضافہ شروع ہوگیا۔ 1930ء تک اس کا قد 6 فٹ اور 9 انچ ہوچکا تھا اور وہ ابھی مزید بڑھ رہا تھا۔ 1950ء میں موت کے وقت اس کا قد 7 فٹ اور 8 انچ تک بڑھ چکا تھا اور اس کے ہاتھ 9 انچ سے بھی زیادہ لمبے جبکہ پیر 13 انچ کے تھے۔ اس کا وزن دو سو اکتالیس پاؤنڈ تھا۔ کبھی بونا کہلائے جانے والا یہ شخص اس وقت کے دنیا کے لمبے ترین انسانوں میں شمار ہوتا تھا۔

9۔ لیوینڈ سٹیڈنک (Leonid Stadnyk)

یوکرائن سے تعلق رکھنے والا لیونیڈ سٹیڈنک دور حاضر کا سب سے زیادہ لمبا انسان تھا۔ اس کا قد 8 فٹ 5 انچ تھا۔ اس کا قد 14 برس کی عمر میں غیر معمولی طور پر اس وقت بڑھنے لگا جب اس کا ایک چھوٹا سا اپریشن ہوا اور جس کی وجہ سے اس کے گروتھ ہارمونز بڑھنے لگے۔ اس کا وزن ایک سو انسٹھ کلو گرام تھا اور وہ 24.05 (یو ایس سائز) نمبر کا جوتا پہنتا تھا۔ 24 اگست 2014ء کو چوالیس برس کی عمر میں اچانک برین ہیمرج کے باعث اس کی موت واقع ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے اپنا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کروانے کا کوئی شوق نہیں تھا۔

10۔ پاؤل کاراسن (Paul Karason)

کیا آپ نے کبھی گہری نیلی رنگت والا انسان دیکھا ہے؟ اگر گہری نیلی رنگت والے انسان کا تصور بھی کہا جائے تو مختلف فلمی افسانوی کردار ذہن میں آجاتے ہیں لیکن برطانیہ سے تعلق رکھنے والا پاؤل کاراسن حقیقت میں گہری نیلی رنگت کا حامل انسان تھا۔ 2002ء کے لگ بھگ تک پاؤل ایک نارمل شخص تھا اور اس کا رنگ بھی عام لوگوں جیسا ہی تھا۔ پھر ایک دن اس کی جلد پر اچانک سوزش ہوئی۔ جب پاؤل نے اس کا علاج کروایا تو 2007ء میں اس کی جلد کی رنگت تبدیل ہوتے ہوئے نیلی ہونا شروع ہوگئی۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ اس نے ایک دوائی ڈاکٹرز سے پوچھے بغیر ہی استعمال کی تھی جس کی وجہ سے اسے جلد کا ایک سنگین مرض لاحق ہوگیا اور یوں یہی نیلی رنگت والی جلد پوری دنیا میں اس کی شہرت اور پہچان کا باعث بنی۔ پاؤل 23 ستمبر 2013ء کو 62 سال کی عمر میں فوت ہوگیا۔

11۔ رالف بکلز (Rolf Buchhloz)

کیا آپ نے اپنے جسم میں کوئی نوکدار چیز چبھو کر دیکھا ہے؟ عام لوگوں کو تو انجکشن کی سوئی سے بھی ڈر ہی لگتا ہے، مگر رالف بکلز کو صرف دیکھنے سے ہی جسم میں ایک عجیب سی تکلیف کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ جرمنی سے تعلق رکھنے والے اس شخص کے بارے میں کہا جاتاہے کہ یہ دنیا میں اپنے چہرے اور جسم کو سب سے زیادہ چھیدنے والا انسان ہے۔ یہ اپنے جسم کو 453 سے زائد جگہوں سے چھید سکتا ہے۔11 سال قبل اسے اپنی اس صلاحیت کا پتہ چلا۔ اس کی یہی خاصیت دنیا بھر میں اس کی وجہء شہرت ہے اور یہی اس کی گزربسر کا ذریعہ بھی ہے۔ مختلف شوز میں یہ اس صلاحیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ بنیادی طور پر وہ ایک کمپیوٹر ایکسپرٹ ہے۔

12۔ ژو زینہون (Yu Zhenhuan)

چین سے تعلق رکھنے والے ’’ژو زینہون‘‘ کی وجۂ شہرت بھی بہت عجیب تھا۔ یہ صرف دو برس کا تھا جب اس کے پورے جسم پر بال بڑی تیزی سے بڑھنا شروع ہوگئے۔ آہستہ آہستہ یہ اتنے بڑھتے چلے گئے کہ اسے پہچاننا مشکل ہوگیا۔ ’’ژو‘‘ کے کل جسم کے 96 فیصد حصے پر غیر معمولی بال ہیں۔ اس نے اس جھنجھٹ سے بچنے کے لیے کئی سرجریز بھی کروائیں مگر بالوں کی بڑھوتری نہیں رکی۔ ’’ژو‘‘ کی یہی مشکل اس کی عالمی شہرت کا باعث بن گئی۔

13۔ ڈیڈی کوسوارا (Dede Koswara)

انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے ڈیڈی کوسوارا کو بھی ایک عجیب و غریب مرض لاحق ہے۔ اس کے گھٹنے پر خارش ہوئی اور اسے کھجلانے کے بعد اس کے جسم، خاص طور پر ہاتھوں اور پیروں پر مسے نکلنا شروع ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ مسے حجم میں بڑھنے کے ساتھ ساتھ لکڑ ی نما عجیب سی شکل اختیار کرتے چلے گئے۔ اب اس کے ہاتھ پیر یوں دکھائی دیتے کہ جیسے کسی درخت کی چھال اور لکڑی۔ اس لیے اسے ’’ٹری مین‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ تصور کیا جاسکتا ہے کہ ’’ڈیڈی‘‘ نے اس مرض سے نجات حاصل کرنے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا ہو گا۔ اس نے بے شمار سرجریز بھی کروائیں تاکہ وہ اپنے بڑھئی کے پیشے کو جاری رکھ سکے۔ مگر فروری 2016ء میں ڈیڈی کی موت واقع ہوگئی۔

14۔ جون ٹیٹر (John Titor)

2000ء تا 2001ء ایک امریکی شخص ’’جون ٹیٹر‘‘ نے عجیب و غریب دعویٰ کیا کہ وہ ایک امریکی فوجی ہے اور اس کا تعلق 2036ء کے زمانے سے ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ ٹائم مشین میں بیٹھ کر ماضی کا سفر کرتا ہوا موجودہ زمانے میں آیا ہے۔ 20 نومبر 2000ء کو اس شخص نے ایک انٹرنیٹ فورم پر لکھا کہ ’’میرا نام جون ٹیٹر ہے اور میں ایک امریکی فوجی ہوں۔ میں سن 2036ء سے ٹائم مشین میں بیٹھ کر 1975ء کے زمانے میں گیا۔ اب سن 2000ء کے اس زمانے میں رکا ہوا ہوں‘‘۔ اس نے کہا کہ وہ ایک حکومتی مشن پر ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ شخص سارے امریکہ میں بے حد مشہور ہوگیا۔ جون ٹیٹر نے ایک مشین کی تصویر بھی انٹرنیٹ پر پوسٹ کی اور دعویٰ کیا کہ یہی ٹائم مشین ہے۔ اس شخص کا امریکہ کے نیشنل ریڈیو پر انٹرویو بھی کیا گیا جس میں اس نے کئی پیش گوئیاں بھی کیں جیسا کہ 2004ء میں امریکہ میں سول وار ہوگی اور اس کے نتیجے میں 2008ء میں امریکہ پانچ حصوں میں تقسیم ہوجائے گا۔ اس کی پیش گوئیوں کے مطابق 2015ء میں تیسری عالمی جنگ عظیم بپا ہوگی وغیرہ وغیرہ (لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ پیش گوئیاں پوری نہیں ہوئیں) اس کے بعد یہ شخص اچانک ہی منظر عام سے غائب ہوگیا۔

15۔ ایڈی ہال (Eddie Hall)

ایڈی ہال جو برطانیہ سے تعلق رکھتا ہے، اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ طاقت رکھنے والا انسان سمجھا جاتا ہے۔ اس کی طاقت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ 500 کلو گرام وزن اٹھا چکا ہے۔ دنیا میں ہر سال ’’مسٹر سٹرونگیسٹ مین‘‘ کی تقریب ہوتی ہے۔ ایڈی اس تقریب کا بے تاج چیمپئن ہے۔ اس کو اتنا وزن اٹھاتا دیکھ کر آنکھوں پر یقین نہیں آتا۔

متعلقہ خبریں