یہ تو ہونا ہی تھا: فاروق ستار نے ایم کیو ایم کے حوالے سے نا قابل یقین یوٹرن لے لیا

2019 ,اپریل 6



کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رہنما فاروق ستار نے ایم کیو ایم پر رائے دینے کے معاملے میں دہرا رویہ اختیار کیا۔باہر کچھ اندر کچھ والی پالیسی اختیار کرتے ہوئے فاروق ستار نے عدالت سے باہر ایم کیو ایم پاکستان کے اراکین پر تنقیدکی ۔فاروق ستار نے کہاکہ مئیر کراچی اور دیگر نے عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے کچھ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے وزرا نے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام نہیں کیا۔فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم اقتدار میں ہے عوام پوچھے کہ پانی کے مسئلے پر اس نے کیا کیا۔عدالت کے اندر جاکرفاروق ستار نے متحدہ رہنمائوں کی تعریف کے پل باندھ دیئے ۔فاروق ستار وزیر اعظم کے خالد مقبول اور فروغ نسیم کو نفیس ارکان کہنے پربولے ابھی تو انھوں نے دیگ کے دو دانے چکھے ہیں،ابھی تو دیگ باقی ہے،میں ان سے الگ تو نہیں۔کراچی کی انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں بانی ایم کیو ایم کی اشتعال انگیز تقاریر اور 22 اگست کو میڈیا ہاؤسز پر حملے سے متعلق دو مقدمات کی سماعت ہوئی تو فاروق ستار اور ایم کیو ایم کے رہنما عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے فاروق ستار اور عامر خان کو دیر سے آنے پر 5 سو روپے جرمانہ کرتے ہوئے ڈیم فنڈ میں جمع کرانے کا حکم دیا۔دوران سماعت ملزمان کی شناختی پریڈ کرنے والے جوڈیشل مجسٹریٹ نے بیان قلمبند کرایا جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے بیان پر ملزمان کے وکلاء نے جرح مکمل کرلی۔عدالت نے سماعت13مئی تک ملتوی کرتے ہوئے مزید گواہوں کو طلب کرلیا۔ اور اب خبر یہ ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رہنما فاروق ستار نے ایم کیو ایم پر رائے دینے کے معاملے میں دہرا رویہ اختیار کیا۔باہر کچھ اندر کچھ والی پالیسی اختیار کرتے ہوئے فاروق ستار نے عدالت سے باہر ایم کیو ایم پاکستان کے اراکین پر تنقیدکی۔

متعلقہ خبریں