اسحاق ڈار کے بعد مولانا فضل الرحمان بھی پیچھے نہ رہے ، ملک کے معاشی مسائل ختم کرنے کے انوکھے مشورے دے ڈالے

2019 ,اپریل 6



پنو عاقل (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اس حکومت کو مزید ٹائم دینا اس کو تسلیم کرنے کے برابر ہے، ہم تمام مسائل کا حل حکومت کو گرانے میں سمجھتے ہیں۔ پنوعاقل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 8 ماہ میں تاریخی تباہی ہوئی موجودہ حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا قرضہ ليا، ملک کی معیشت تباہ ہو رہی ہیں، تجارتی خسارہ بڑہ رہا ہے، 10 لاکھ نوجوان بیروزگار ہو گئے، لوگوں کے مکانات گرائے گئے، 40 لاکھ لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ گالی اور گولی کا اتحاد ہوگیا ہے، اس حکومت کا ہونا ہی ناجائز ہے، حکومت کو مزید ٹائم دینا اس کو تسلیم کرنے کے برابر ہے، پنجاب میں کچھ ملین مارچ باقی ہیں اس کے بعد اسلام آباد جائیں گے، ہم فکس میچ تسلیم نہیں کرتے اور تمام مسائل کا حل حکومت کو گرانے میں سمجھتے ہیں، حکومت مخالف ہلچل ميں آصف زرداری کئی گنا زیادہ ہم سے پیچھے ہیں۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ نیب ایک انتقامی ادارہ ہے، حمزہ شریف کے گھر پر چھاپے سے انارکی پھیلے گی اور مسلم لیگ (ن) کے کارکن مشتعل ہوں گے۔ دوسری جانب خبر یہ ہے کہ صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال کی زیر صدارت 90شاہرہ قائد اعظم پر کابینہ کمیٹی برائے پرائس کنٹرول کا اجلاس ہوا۔ جس میں رمضان پیکیج 2019ء کو حتمی شکل دینے کیلئے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ رمضان المبارک کے دوران گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ رمضان بازار لگائے جائیں گے اور یوٹیلٹی سٹورز سے بھی فائدہ اٹھایا جائے گا۔ رمضان بازار25شعبان سے کام شروع کر دیں گے اور یہاں فیئر پرائس شاپس پر 19اشیائے ضروریہ رعائتی نرخوں پر دستیاب ہوں گی۔

متعلقہ خبریں