سام سنگ کمپنی کے سربراہ اس طرح اپنا سر شرم سے جھکائے کیوں کھڑے ہیں؟ جان کر آپ کو بھی بے حد افسوس ہوگا

2018 ,نومبر 24



سئیول(مانیٹرنگ رپورٹ) سام سنگ کمپنی کے سربراہ نے گزشتہ روز ایک تقریب میں اپنی کمپنی کے ملازمین سے سر جھکا کر معافی مانگی ہے جس کی وجہ ایسی تھی کہ سن کر آپ بھی افسردہ ہو جائیں گے۔ میل آن لائن کے مطابق سام سنگ کی سیمی کنڈکٹر اور لیکوئیڈ کرسٹل ڈسپلے بنانے والی فیکٹریوں میں کام کرنے والے ورکرز کو محفوظ ماحول فراہم نہیں کیا گیا تھا جس کی وجہ سے فیکٹریوں میں استعمال ہونے والے تابکار موادکی زد میں آ کر ہزاروں ورکرز لیوکومینیا(خون کے کینسر کی ایک قسم) سمیت دیگر جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہو گئے اور متعدد کی موت بھی واقع ہوگئی۔ کمپنی کے ورکرز اور انتظامیہ گزشتہ ایک عشرے سے اس معاملے پر آمنے سامنے تھے تاہم اب انتظامیہ نے ورکرز کے آگے سرجھکا دیا ہے۔ گزشتہ روز اس حوالے سے ایک تقریب ہوئی جس میں ورکرز کے نمائندہ گروپ اور کمپنی کی انتظامیہ کے مابین ایک معاہدہ ہوا ہے جس میں فیکٹریوں میں متاثر ہونے والے ورکرز کو زرتلافی کرنے اور آئندہ کے لیے حتی الامکان حفاظتی اقدامات کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

 

    رپورٹ کے مطابق کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کینم کم کی طرف سے سر جھکا کر معافی مانگنا بھی اس معاہدے کا حصہ تھا۔ معاہدے پر دستخط کے بعد کینم کم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم فیکٹریوں میں ورکرز کو محفوظ ماحول دینے میں ناکام رہے ہیں۔جو لوگ بھی وہاں بیمار ہوئے ہم ان سے اور ان کے خاندانوں سے معافی مانگتے ہیں۔“ کمپنی اور ورکرز کے درمیان آمنے سامنے کی یہ صورتحال 2007ءمیں پیدا ہوئی جب فیکٹری کی ایک 23سالہ ورکرلیوکومینیامیں مبتلا ہو کر موت کے گھاٹ اتر گئی اور اس کے باپ نے کمپنی کی طرف سے زرتلافی کے عوض معاملہ طے کرنے سے انکار کر دیا۔رپورٹ کے مطابق کمپنی کے سربراہ کی طرف سے اگرچہ معافی مانگ لی گئی ہے اور معاہدہ بھی کر لیا گیا ہے تاہم کمپنی اب بھی ورکرز کی بیماری اور اموات کی براہ راست ذمہ داری قبول کرنے سے گریزاں ہے۔

    متعلقہ خبریں