حمزہ شہباز گرفتار نہیں ہوئے تو کیا ہوا۔۔۔؟ نیب نے اچانک خواجہ آصف کے خلاف ایسا قدم اُٹھا لیا کہ (ن) لیگ میں ہلچل مچ گئی،

2019 ,اپریل 6



راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) نیب نے دوسری بار خواجہ آصف کو طلب کر لیا۔ نیب راولپنڈی نے سابق وزیر خارجہ کو 9اپریل کو طلب کر لیا ہے۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم خواجہ آصف کا بیان ریکاڈ کرے گی۔ نیب نے خواجہ آصف کو دوسری بار طلب کیا ہے۔ اس سے پہلے نیب نے خواجہ آصف کو یکم اپریل کو طلب کیا تھا لیکن وہ بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے پیش نہ ہو سکے تھے۔نیب نے خواجہ آصف کو آمدن سے زائد آثاثے ہونے کی وجہ سے تحقیقات کے لیے طلب کیا ہے۔ خواجہ آصف 9اپریل کو نیب راولپنڈی میں تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو کر بیان ریکارڈ کروائیں گے۔ یاد رہے کہ نیب نے خواجہ آصف کو دوسری بار طلب کیا ہے اس سے پہلے انہیں یکم اپریل کو طلب کیا تھا لیکن وہ پیش نہ ہوسکے تھے۔ ہفتہ کی صبح نیب ٹیم نے دوسری بار حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپہ مارا عدالت نے انہیں گرفتار کرنے سے روک دیا اور حمزہ شہباز کو سوموار کے روز عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ دوسری جانب تجزیاتی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنماء اور اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی کی گرفتاری کیلئے نیب کے ڈرامہ سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں،کہ اگر نیب کے پاس ٹھوس شواہد نہیں تھے، یا حمزہ شہباز کی گرفتاری کے راستے میں کوئی قانون قدغن تھی، تو نیب کو حمزہ شہبازکے گھر گرفتاری کیلئے چھاپہ نہیں مارنا چاہیے تھا،نیب ٹیم نے قانونی پیچیدگیوں کے باوجود حمزہ شہباز کے گھر پر چھاپہ مارکربطورادارہ نی صرف نیب کا مذاق اڑایا ہے بلکہ ریاستی مشینری کی بے بسی کا تماشا بھی بنایا گیا۔پورے ملک کی عوام کی نظریں اس جانب مرکوز تھیں کہ نیب ٹھوس شواہد کی بنیاد پرابھی اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی کو گرفتار کرلے گی۔ کچھ لوگوں کا یہ خیال بھی تھا کہ نیب شایداپوزیشن رہنماؤں پر سیاسی دباؤ ڈال رہی ہے، کیونکہ اگر حمزہ شہباز کی گرفتاری یکدم اتنی اہم کیوں ہوگئی؟ حمزہ شہباز کو کسی بھی وقت گرفتار کیا جاسکتا تھا، یعنی حمزہ شہباز کواسمبلی میں یا کورٹ میں بھی گرفتار کیا جاسکتا تھا۔کچھ دن یا ایک ہفتہ کی تاخیر سے بھی گرفتار کیا جاسکتا تھا، لیکن حیرانگی والی بات یہ ہے کہ حمزہ شہباز کی گرفتاری کیلئے نیب کو اتنی جلدی کیوں پڑ گئی؟جبکہ حمزہ شہبازکی قانونی ماہرین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ انہیں عدالت نے حفاظتی ضمانت دے رکھی ہے۔پھر نیب کی حمزہ شہبازکے گھر کے باہر موجودگی کے دوران ہی لاہور ہائیکورٹ کا حکمنامہ آتا ہے کہ حمزہ شہباز کو 8اپریل تک گرفتار نہ کیا جائے، بلکہ حمزہ شہبازسوموار کو عدالت میں پیش ہوں۔ جس کے بعد نیب ٹیم وہاں سے خالی ہاتھ واپس چلی جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اتنا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ جس سے آئین وقانون اور ریاستی مشینری کا مذاق اڑایاگیا ہے۔

متعلقہ خبریں