بلاول کا آصف زرداری کی گرفتاری پر ردعمل۔۔۔ تفصیلات جانئیے اس خبر میں

2019 ,جون 10



اسلام آباد (مانیٹرنگ رپورٹ) چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت کا رویہ یہ ہے کہ مارتے ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے ، آپ اس بچے کو کیسے ڈرائیں گے ؟ جس نے اپنے باپ کو گیارہ سال جیل میں دیکھا، جس کی والدہ پرجب وہ حاملہ تھیں ، آنسو گیس پھینکی گئی ، موت سے مجھے کیسے ڈرایا جائے گا جس کے نانا کو پھانسی پر چڑھادیا ، والدہ کو شہید کروادیا ،ماموں کوزہردلوادیا، مجھے یہ کیسے ڈرائیں گے ، بزدل جب قانون سے مقابلہ نہیں کرسکتے تو ججوں کو ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ بزدل ہے گھبرا رہاہے ، یہ تنقید برداشت نہیں کرسکتا ، یہ ڈرے ہوئے اور خوفزدہ ہیں ، وہ اس لئے کہ جانتے ہیں ان سے حکومت نہیں چل رہی۔

انہوں نے کہا کہ نیب بغیر آرڈر آصف زرداری کی گرفتاری کیلئے پہنچی، آصف زرداری نے بطور احتجاج گرفتاری دی ہے۔ اسلام آباد میں آصف زرداری کی گرفتاری پرردعمل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بدقسمتی سے قومی اسمبلی میں یہ دوسرا دن ہے جب مجھے بولنے کیلئے وقت نہیں دیا گیا ، پچھلے سیشن میں بھی سپیکر نے وعدہ کیا تھا کہ مجھے بولنے دیں گے لیکن نہیں بولنے دیا گیا ، آج بھی وعدہ کیا گیا کہ مجھے بولنے دیں گے لیکن تحریک انصاف کے تین وزراء نے تقریر نے تقریر کی اور ان کو بولنے کا موقع ملا لیکن مجھے نیشنل اسمبلی کے فلور پر بولنے کا موقع نہیں دیا گیا ۔

ان کا کہنا تھا کہ میں قومی اسمبلی میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی رویے کی مذمت کرتا ہوں، ڈپٹی سپیکر کا رویہ قابل مذمت ہے ، ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتا ہوں، ہم دیکھا ہے کہ جب کو اشارا کیا جاتا ہے تو سپیکر اٹھ جاتا ہے اوربیٹھ جاتا ہے ، جب سابق وزیر داخلہ کوئی چٹ پیش کرتاہے تو ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی اٹھ جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سپیکر سے کہا تھا کہ دو تین ،خواتین ارکان اسمبلی جو سندھ سے تعلق رکھتی ہیں ، ان پر اسلام آباد پولیس نے تشدد کیا ، میں سمجھ رہا تھا کہ یہ صرف پولیس کا قصور ہوگا لیکن اس میں ساری کی ساری حکومت شامل ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات پاکستان کے عوام کے آگے رکھنا چاہتا ہوں۔  انہوں نے کہا کہ جو دورکن قومی اسمبلی شمالی وزیرستان سے تعلق رکھتے ہیںجس پر میں نے سپیکر کوخط لکھا تھا کہ یہ ارکان ہمارے ہاﺅس سے تعلق رکھتے ہیں ، اس کے بارے میں ایوان کوبتایا جائے لیکن بدقسمتی سے آج تک ان دونوں ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہوئے ، جتنے بھی سنگین الزامات ہوں لیکن پاکستان کے ہر شہری کاحق ہے کہ اس کا شفاف ٹرائل ہو۔ انہوں نے کہا کہ جو رویہ موجودہ اسمبلی میں اپنایا جارہاہے ، یہ رویہ ہم نے مجلس شوریٰ ضیاءالحق اور مشرف کی اسمبلی میں بھی نہیں دیکھا تھا لیکن آج نیا پاکستان کی قومی اسمبلی میں دیکھا جارہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح اپوزیشن رہنماﺅں کو گرفتار کیا جارہاہے ، حکومت کا یہ رویہ ہے کہ مارتے ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے ، ہمارے سندھ اسمبلی کے سپیکر کو اسلام آباد سے گرفتار کیاگیا ، اس وقت بھی چادر اورچاردیواری کے تقدس کا خیال نہیں رکھا گیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سازش کے تحت عدلیہ پر حملہ کیا گیا ہے ، اگر کوئی ریفرنس آئین کے تحت بھیجنا ہے تو ہر پاکستانی کو ایک شفاف ٹرائل کاحق ہے کہ اس کو پتہ چلے کے اس پر کیا الزامات ہیں؟ آزاد اور جمہوری ملک میں عدلیہ پر حملے نہیں ہوتے ،ہمارا نیشنل اسمبلی کا اجلاس چل رہا تھا اور بجٹ کا اجلاس شروع ہوگیا ہے لیکن یہ حکومت سلیکٹڈ میڈیا ، سلیکٹڈ عدلیہ اور سلیکٹڈ اپوزیشن چاہتی ہے ، حکومت آزادی اظہار رائے پر پابندی لگا رہی ہے ، اس نئے پاکستان ، مشرف کے پاکستان اور ضیاءکے پاکستان میں کیا فرق ہے ؟ پہلے بھی بولنے کی اجازت نہیں تھی ، آج بھی نہیں ہے ، پہلے بھی عدالتیں آزادی سے فیصلے نہیں دے سکتی تھیں اور آج بھی یہ کچھ کیا جارہاہے ۔

متعلقہ خبریں