”موت سے زندگی کی طرف“

2018 ,اگست 11



لاہور(مخدوم محمد ذکی): جناب فضل حسین اعوان نے اپنی حیرت اور دلچسپ ”تحقیق“ ”موت سے زندگی کی طرف“ کو ہمارے ذوق مطالعہ کی نذر کیا تو ہمیں ان کی یہ ادا اچھی لگی۔ ”شفق“ کے نیک سیرت مصنف اور تخلیق کار ”شفیق“ بھی ہیں۔ یہ ہمیں ٹیلی فونک مختصرگفتگو میں ہی اندازہ ہوگیا تھا۔ ان کا یہ انداز بھی ہمیں بھا گیا کہ ان میں آگے بڑھنے کی امنگ ہے۔ یہی وہ چنگاری ہے جو شعلہ بن کر جگمگاتی ہے اور چاہار جانب روشنی پھیل جاتی ہے۔ فضل حسین اعوان یوں علم کا نور پھیلا رہے ہیں۔ اللہ جانے کیا یہ کسرنفسی ہے کہ وہ اپنی زبردست کاوش کو تحقیق قرار نہیں دیتے۔ اصل چیز مطالعہ ہے یہ بنیادی چیز ہے مگر یہ کافی نہیں کیونکہ پھر ”مشاہدہ“ اور پھر نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت، جو سب سے زیادہ اہم ہے۔ اعوان صاحب کی جستجو کیا رنگ لائے گی؟.... ہمیں تو انہوں نے چونکا دیا ہے۔ ابھی وہ آگے بڑھیں گے اور بہت آگے تک جائیں گے.... کیا وہ آہستہ آہستہ صوفی ازم کی جانب سفر کر رہے ہیں.... اس سوال کا جواب آنے والا وقت ہی فراہم کر سکتا ہے۔ البتہ وہ قرآن کی بنیادی تعلیم کا نقش بھی بہت خوبصورتی سے مرتب کر رہے ہیں، سوچا کرو، تدبر کرو، تفکر کرو،، .... غار حرا کے مکین آقائے نامدار محمد مصطفیٰ کا بھی یہی سبق ہے۔ اقبال نے بھی کہا تھا
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے تجھ کوعطا حیرت جدت کردار
”موت سے زندگی کی طرف“ کا عنوان دیکھ کر بھی ہمیں بے ساختہ اقبال یاد آ گئے۔ 
موت کو سمجھا ہے غافل اختتام زندگی
ہے یہ شام زندگی صبح دوام زندگی
انتساب دیکھا تو پھر آنکھیں کھلی رہ گئیں‘ یہ کتاب فکر انگیز تحقیق ہے اور دعوت فکر بھی‘ ساتھ ہی پیغام الٰہی بھی اور پیام مصطفیٰ بھی ‘رحمتہ العالمین، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معروف حدیث ”خیرالناس من ینفعُ الناس،، خدمت انسانیت کا پیام و پیغام فکر اور تدبر سے خدمت انسانیت کا سفر! حالی نے کہا تھا 
اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا 
رہا ڈر نہ بیڑے کو موج و بلا کا 
ادھر سے ادھر پھر گیا رخ ہوا کا 
کتاب میں ”روح“ اور ”ہمزاد“ کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں اور ان سوالوں کا جواب فراہم کیا گیا ہے۔ مگر ان جوابات سے بھی کئی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ روح کیا ہے؟.... قرآن نے کہا یہ امر ربی ہے۔ روح کا مسکن کہاں ہے.... کیا روح کی کوئی ابدی صورت ہے ہمزاد نفسیات کی دنیا کا یا کہانیوں کی کوئی تخلیق ہے مشکل یہ ہے کہ ہمارے دینی مشاہیر نے بڑی حد تک ان سوالات کا جواب نہیں دیا جن ”سیکولر“ اصحاب نے ان موضوعات کو چھیڑا، وہ خود بھی بھٹکتے رہے اور اپنے قارئین کو بھی بھٹکاتے رہے۔ جناب فضل حسین اعوان کا اصل مقصد

With mate good

کیونکہ صراط مستقیم

Right path

ہے اس لئے بھٹکنے کا کوئی اندیشہ یا خطرہ نہیں ہے۔ ایک فکر انگیز شعر 
اے رہبر کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے 
اس وقت مجھے بھٹکا دیتا جب سامنے منزل آ جائے 
جناب معاذ ہاشمی کتاب کے ناشر ہیں۔ کتاب کے حوالے سے ایک مشکل دور میں انہوں نے نفسیات اور فلسفے کے حوالے سے ایک خشک موضوع پر کتاب
شائع کرنے کی ہمت کی، یہ ان کے شوق مطالعہ علم سے محبت اور اعلیٰ فہم و دانش کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ انہوں نے جناب فضل حسین اعوان کو ڈاکٹر مجید نظامیؒ کا تربیت یافتہ قرار دے کر اعوان صاحب کا تعارف مکمل کر دیا ہے۔ 
میں تیرا نام نہ لوں پھر بھی لوگ پہچانیں
کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے 
جناب مجید نظامیؒ نظریہ پاکستان کے حوالے سے شمشیر برہنہ تھے۔ ہمیں تو یوں محسوس ہوتا ہے بخدا یقین کیجئے کہ جناب مجید نظامیؒ کی رحلت کے بعد نظریہ پاکستان کا نام لینا ہی بند ہو گیا ہے۔ جب تلک وہ زندہ تھے کسی کی مجال نہیں تھی جو نظریہ پاکستان کے حوالے سے بکواس کر سکے۔ نظریہ پاکستان سے نظامیؒ صاحب کی محبت ناقابل تردید حقیقت ہے ان کا رویہ تو یہ تھا
مجھ کو جو چاہو ناصحو کہہ لو
کچھ نہ کہنا اسے خدا کے لئے
جناب فضل حسین اعوان کا طرز تحریر بہت سادہ مگر دلکش اور خوبصورت ہے ان کی خوبصورت شخصیت کی طرح۔ عجیب بات ہی ہے کہ زندگی کے روز مرہ معاملات کے حوالے سے ان کا انداز فوجیوں جیسا ہے۔ بات اتحاد سے کرتے ہیں مگر مختصر .... ِکھلتے ہیں مگر کُھلتے نہیں ہیں۔ کھلی کتاب بھی ہیں، پراسرار بھی ہیں۔ فضل حسین اعوان نے زندگی کے حوالے سے سب سے نازک اور مشکل موضوع پر گفتگو کرنے کی کوش کی ہے مگر بڑے بھولپن اور سادگی سے ورنہ یہ علمی دنیا نفسیات، فلسفے اور مذہب کا بہت سنجیدہ، موضوع ہے۔ یہاں فضل حسین اعوان کی مہارت کی داد دینی پڑتی ہے۔ ”شہاب نامہ“ جناب قدرت اللہ شہاب کی مشہور کتاب ہے۔ انہوں نے بھی شہاب نامے میں 90 کی پراسرار ہستی کا ذکر کیا ہے جو ان سے خطوط کا تبادلہ کرتی تھی۔ اشفاق احمد بھی آخری دنوں میں زندگی کے پُراسرا واقعات کے قائل ہو چکے تھے۔ مگر ان واقعات کے ظہور کا کوئی لگا بندھا نظام نہیں ہے۔ تلاش کرتے رہیں شاید اسی کا سرا مل جائے۔جناب فضل حسین اعوان کی یہ ادا بھی قابل توصیف ہے کہ ایک مشکل موضوع پر قلم اٹھاتے ہوئے نہ انہوں نے کسی عقیدے سے چھیڑ چھاڑ کی ہے نہ مذہبی نظریات کو موضوع گفتگو بنایا ہے یہاں قلم اور تحریر پر ان کی مکمل دسترس کا اظہار ہوتا ہے....زندگی میں بہت سارے واقعات ایک خاص انداز سے رونما ہوتے ہیں ایک سسٹم کے تحت یہ روزانہ لاکھوں کی تعداد میں ہوتے ہیں۔ مگر کسی گفتگو یا تحریر کا موضوع نہیں بنتے۔ مگر چند پراسرار واقعات قلب و ذہن کو زیادہ متاثر کرتے ہیں بظاہر یہ سب ”غیب“ ہے۔ پردے اٹھتے رہیں گے، راز افشا ہوتے رہیںگے، آج سے 100 سال پہلے کی دنیا تو آج کی دنیا سے زیادہ پراسرار تھی۔ اب تو ہم کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد ہزاروں میل دور بیٹھے تصویر کے ہمراہ کسی ظاہری رابطے کے بغیر گھنٹوں گفتگو کرتے ہیں مگر حیران نہیں ہوتے .... الیکشن میں ووٹ تلاش کرنا ہو تو ایک نمبر لگائیں.... سارا احوال ظاہر ہو جائے گا۔ پھر رب ذوالجلال کے لئے کیا مشکل ہے کہ وہ ایک لمحہ ہمارا نامہ اعمال ظاہر کر دے۔ بالتصویر .... ملاحظہ کیجئے۔ اقبال کے اس شعر پر غور و فکر ناگزیر ہے۔ 
خرد دیکھے اگر دل کی نگاہ سے 
جہاں روشن ہے نور لاالہ سے 
فقط اک گردش شام و سحر ہے 
اگر دیکھے طلوع مہر و ماہ سے

متعلقہ خبریں