ججز کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا معاملہ، تینوں جج صاحبان کیخلاف انتہائی سخت قدم کیوں اٹھایا گیا

2019 ,جون 4



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ججز کے ریفرنس کے معاملے پر وزارت و قانون اور ایسٹس ریکوری یونٹ نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا ہے گیا ہے کہ ایسٹس ریکوری یونٹ کو تین ججوں کے بیرون ملک جائیدادوں کی اطلاع ملی۔اتوار کو جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ججوں سے متعلق معاملہ 1973 کے رولز آف بزنس کے تحت وزارت قانون و انصاف کے دائرہ اختیار میں آتا ہےچناچہ ججز کی جائیدادوں سے متعلق شکایت پر کارروائی کے لیے معاملہ وزارت قانون کو بھجوایا گیا۔اعلامیے کے مطابق وزارت قانون نے ایسٹس ریکوری یونٹ کو شکایت میں درج معاملے کی تصدیق کی ہدایت کی، ایسٹس ریکوری یونٹ نے تصدیق کے لیے ایف بی آر، نیب اور ایف آئی اے سے مل کر معلومات اکٹھی کیں۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ واضح رہے کہ کارروائی صرف تصدیق شدہ اطلاعات پر ہی ہو سکتی ہے اور وزیر اعظم کے ایسٹس ریکوری یونٹ نے ججز کی جائیدادوں سے متعلق تصدیق شدہ رجسٹریز حاصل کیں، یہ رجسٹریاں برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن سے نوٹرائز اور تصدیق شدہ ہیں، یہ اطلاعات ملنے پر معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے رکھا گیا۔اعلامیے کے مطابق صدر، وزیر اعظم، وزارت قانون اور ایسٹس ریکوری یونٹ آئین و قانون اور عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں، آرٹیکل 209 سے متعلق صدر اور وزیر اعظم اقدام نہ کرتے تو اپنے فرائض سے غفلت کے مرتکب ہوتے۔

متعلقہ خبریں