8 خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے پادری نے ایسی وجہ بتادی کہ جج کے بھی ہوش اُڑادئیے

2018 ,نومبر 24



سیﺅل(مانیٹرنگ رپورٹ) جنوبی کوریا کے ایک پادری کو 8خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے اپنی قبیح حرکت کی ایسی وجہ بتا دی کہ جج کے بھی ہوش اڑ گئے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق جیراک لی نامی یہ پادری دارالحکومت سیﺅل کے من مین سنٹرل چرچ کا سربراہ تھا اور اس کے پیروکاروں کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ اس چرچ کی دنیا میں 10ہزار سے زائد برانچز ہیں۔ جیراک سے جب عدالت میں پوچھا گیا کہ اس نے خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ کیوں بنایا تو اس نے جواب دیا کہ ”میں تو خدا کے حکم پر عمل کر رہا تھا، اسی کی طرف سے مجھے یہ کام کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔“اس کا یہ جواب سن کر عدالت میں موجود ہر شخص سکتے میں آ گیا۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ خواتین نے بھی عدالت میں گواہی دیتے ہوئے کہا کہ ”جیراک نے انہیں کہا تھا کہ خدا کی طرف سے حکم ہے کہ میں تمہارے ساتھ جنسی تعلق قائم کروں۔یہ کرنے سے تم جنت میں جاﺅ گی۔“ پراسیکیوٹرز نے عدالت میں بتایا کہ تمام متاثرہ خواتین ایسی تھیں جو بچپن سے اس چرچ میں آ رہی تھیں اور جیراک کوانتہائی مقدس شخصیت مانتی تھیں۔ وہ اس کی حکم عدولی کو گناہ سمجھتی تھیں چنانچہ انہوں اس کی بات کا اعتبار کر لیا۔وہ نفسیاتی طور پر اس شخص کا حکم ماننے پر مجبور تھیں۔“ رپورٹ کے مطابق عدالت نے پادری کو 15سال قید کی سزا سنا کر جیل بھجوا دیا ہے۔

متعلقہ خبریں