“The Honey Trap “

2019 ,مئی 27



میرے پاس ایسی بہت سی وڈیوز ہیں میں چیئرمین نیب کے پول کھول رکھ دوں گی میں چیلنج کرتی ہوں کہ ان وڈیوز کو جعلی ثابت کریں کیا قانون اندھا ہوگیا میرے خلاف اورمیرے خاندان کے خلاف تین مقدمات اسلام آباد میں درج کیے جاچکے ہیں" وہ وزیراعظم عمران خان عالمی اداروں سے مدد کی اپیل کر رہی ہیں یہ طیبہ گل ہیں جوبڑٰی دلیری سے نئی وڈیو میں جناب جسٹس جاوید اقبال کو چیلنج کررہی ہیں ویسے اس ہائی پروفائل ڈرامے کا سکرپٹ رائٹر بھی کوئی باکمال فنکار ہے جو تمام آئینی اور قانونی نزاکتوں کو بخوبی سمجھتا ہے ۔ عہدہ بچ بھی جائے کیا ہوا ماتھے کا اقبال تورخصت ہوچکا! جسٹس جاوید اقبال کا پر شکوہ اورشاندار کیرئیرعجیب المناک موڑ پر ختم ہورہا ہے۔ یہ تو طے شدہ حقیقت ہے کہ جج صاحب گہری منصوبہ بندی کے تحت کی گئی سازش کا شکار ہوئے ہیں سیاسی اور خون آشام مافیاز ان کے تعاقب میں تھے یہ سازش اس مبینہ انٹرویو سے شروع ہوئی جس کے بارے میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہا کہ یہ سب"کس"کی ہدایت پر کیا گیا تھا اس کے پس پردہ اصل محرک کون سی متبرک ہستیاں تھیں۔ یہاں بہت سے ماہرین اپنے اہداف اورمقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں اس کا ان سے معمولی شناسائی رکھنے والوں کوبخوبی اندازہ ہے اچھی شرائط پر کرائے کے قاتل کا کردار ادا کرنا اسے ہمیشہ مرغوب رہا ہے یہ طے شدہ امر ہے کہ جج صاحب نے کالم نگار بلا کر خود مصیبت کو دعوت دی ورنہ اگر وہ اپنے مشیر اطلاعات ‘ہمہ پہلو، نوازش علی خان عاصم سےمشورہ کرلیتے تو اس خوامخواہ کی مصیبت سے بچ جاتے نیب کے سربراہ ہمہ جہتی سازش کا شکار ہوئے ہیں جس میں

(Honey Trap)

کے خوبصورت پھندوں کے ساتھ ساتھ دیگر ترغیبات کوبھی شاہانہ انداز میں استعمال کیا گیا۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جج صاحب بڑے "والہانہ"اندازمیں خاتون سے گفتگو کررہے ہیں اور وہ خاتون بھی مہارت سے کیمرہ ریکارڈنگ اوروڈیوبنانے کے لیے استعمال کرتی رہیں خاص طورپر اپنے چہرے کوبڑی مہارت سے بے نقاب کرنا ظاہرکرتاہے کہ موصوفہ گذشتہ کئی ماہ سے اعلی تربیت یافتہ ماہرین کی زیرنگرانی موبائل فون کے خصوصی استعمال کی تربیت حاصل کرتی رہی ہیں واشنگٹن میں مقیم ان امور کے ایک ماہر نے بتایا کہ اس خاتون کو فون کیمرے کے استعمال کی مہینوں پر محیط تربیت دی گئی تھی جس سے اس سازش کی گہرائی اور گیرائی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جسٹس جاوید اقبال بری طرح پھنس گئے ہیں ان کے گرد گھیراتنگ ہوتاجارہا ہے۔ ان کے حوالے سے منظرعام پر آنے والی تمام وڈیوز اصلی ہیں اسی لیے مختلف اطراف سے ان کے فرانزگ تجزیے پر زوردیا جارہا ہے اورجناب جسٹس جاوید اقبال کے پاس اپنے دفاع میں کہنے کو کچھ نہیں ہے اب افراتفری میں شاید قانونی تقاضے پورے کیے بغیران "بلیک میلر"جوڑے کے خلاف ریفرنس دائر کردیا گیا ہے۔ جس سے کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوسکتے ایک المیہ یہ بھی ہے کہ نجی مافیا کے ساتھ ساتھ بعض حکومتی اہلکار بھی جج کا سر قلم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ مادام طیبہ کی ایک نئی وڈیو منظرعام پر آئی ہے جس میں انہوں نے جسٹس جاوید اقبال کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ مزید وڈیوزمنظرعام پر لائیں گی اورانہیں بے نقاب کرکے رکھ دیں گی ایک جانے پہنچانے مافیا سے تعلق رکھنے والا اخبارنویس کھل کر میدان میں نکلا ہے۔ جس کے سارے خاندان کو برس ہا برس سے بھائی کی نوکری کی آڑ میں پالا جارہا ہے اب حق نمک ادا کرنے کا وقت آیاہے۔ تو اپنے "شریک کار"کی مدد کے لیے قلم بدست قصیدے پڑھتے ہوئے میدان میں نکلا ہے ۔ سندھ ساگر تہذیب کے راوی فلسفی داستان گو، قانون دان اعزازاحسن نے کہا تھا کہ جسٹس جاوید اقبال کی قانونی پوزیشن پر کوئی اثرنہیں پڑا لیکن اخلاقی پوزیشن مسمار ہوگئی ہے۔ چیئرمین نیب کی اخلاقی پوزیشن خراب ہوئی ہے لیکن قانونی پوزیشن پر کوئی فرق نہیں پڑا،چیئرمین نیب کو اس ٹیپ کا فرانزک کروانا چاہیے، اعتزاز احسن نے کہا کہ اس خاتون نے چیئرمین نیب کو ٹریپ کیا ہے۔ چیئرمین نیب والی ٹیپ میں بظاہر ان کی اپنی آواز لگتی ہے لیکن جب تک ثابت نہ ہو، چیئرمین نیب کو شک کا فائدہ ملے گا۔چیئرمین نیب کو اس ٹیپ کا فرانزک کروانا چاہیے اورایف آئی اے اس کی تہہ تک پہنچے معروف آئینی ماہر وسیم سجاد اور خالد انور نے چیئرمین نیب کو فوری طور پر ہٹانے کی بجائے معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے وسیم سجاد نے کہا کہ وزیراعظم کو تحقیقات کا حکم دینا چاہئے، جسٹس (ر) جاوید اقبال کا طویل اور بے داغ عدالتی کیریئر ہے۔ وسیم سجاد نے کہا کہ تحقیقات کےلئے ایسی اعلیٰ سطح کی ٹیم ہونی چاہیے جس پر کسی کو شک نہ ہو، حکومت چاہے تو اس معاملے میں جوڈیشل انکوائری بھی ہوسکتی ہے۔ معروف قانون دان خالد انور نے کہا کہ چیئرمین نیب عہدہ چھوڑ دیتے ہیں تو ان کی جگہ نئے چیئرمین کا تقرر مشکل کام ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ازخود تحقیقات شروع کیں تو اس پر الزام آئے گا کہ وہ چیئرمین نیب کو ہٹانا چاہتی ہے۔ خالد انور نے کہا کہ چیئرمین نیب کی اس معاملہ میں کردار کشی ہو رہی ہے وہ خود بھی چاہیں گے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات ہو مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی اس ملتا جلتا مطالبہ کیا ہے جن دو چینلوں پر یہ وڈ یو لیک کی گئی ہے ان کا براہ راست تعلق وزیراعظم سے ہے طاہر اے خان اشتہاری دنیا کا مشہور و معروف کردار ہیں انٹر فلُو کے ساتھ ساتھ اپنا چینل بھی چلاتے ہیں ان کو ہمیشہ اقتدار کے ایوانوں میں دست گدا پھیلائے دربدر دیکھا تھا ایک زمانہ تھا کہ “شہید صحافت” خلیل ملک تک رسائی پر اتارتے تھے اب وزیراعظم کے مشیر کہلاتے ہیں دوسرے صاحب بھی اشتہاری دنیا کا کردار ہیں خانوادۂ شریفین کے ذریعے اقتدار کے ایوانوں میں سرنگیں لگانے والے یوسف بیگ مرزا بھی مشیر خاص ہوتے ہیں وزیراعظم ہاوس میں درجنوں مشیروں کا کام کیا ہے یہ ہنوز راز ہے لیکن ان دومشیروں کے ٹی وی اس سازش میں بھرپور طریقے سے استعمال ہوئے ہیں کہ کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے جہاں تک چہارسو سے اعلی سطحی تحقیقات کے مطالبے دراصل جج صاحب کا سر قلم کرنے کے لیے کیے جارہے ہیں۔ جج صاحب کا دفاع کرنے والاکوئی نہیں رہا اب وہ سنگ دشنام اور تیرالزام تن تنہا برداشت کررہے ہیں کہ شکست کاکوئی والی وارث نہیں ہوتا،

متعلقہ خبریں