سانحہ کرائسٹ چرچ:مسلمانوں پر تنقید کرنے والے آسٹریلوی سیاستدان کو عبرتناک سزا مل گئی

2019 ,مئی 20



کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملہ ہوا تو آسٹریلوی سیاست دان فریزر ایننگ نے مسلمانوں کو کڑی تنقیدکا نشانہ بنایا اور اس حملے کا ذمہ دار مسلمانوں ہی کو قرار دے دیا ۔ اب اس نے اپنی دریدہ دہنی کی کڑی سزا پالی ہے کہ آسٹریلوی انتخابات میں وہ خود تو کیا، اس کی پارٹی ہی کلین سویپ ہو گئی ہے تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملہ ہوا تو آسٹریلوی سیاست دان فریزر ایننگ نے مسلمانوں کو کڑی تنقیدکا نشانہ بنایا اور اس حملے کا ذمہ دار مسلمانوں ہی کو قرار دے دیا۔اب اس نے اپنی دریدہ دہنی کی کڑی سزا پالی ہے کہ آسٹریلوی انتخابات میں وہ خود تو کیا،اس کی پارٹی ہی کلین سویپ ہو گئی ہے اور ایوان بالا یا ایوان زیریں میں ایک بھی نشست نہیں جیت پائی۔دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق اے بی سی نیوز کے اینکر انٹونی گرین نے فریزایننگ کی شکست پر کہا کہ فریزر ایننگ جہاں سے آیا تھا وہیں واپس چلا گیا۔ اب وہ پارلیمنٹ میں نہیں ہو گا۔لبرل پارٹی کے ایم پی ٹرینٹ زیمرمین کا کہنا تھا کہ فریزر اور اس کی پارٹی کا کلین سویپ ہو جانا اس انتخابات کا سب سے بڑا نتیجہ ہے۔واضح رہے کہ مسلمانوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد ایک نوجوان نے بھی اس کے سر پر انڈا پھوڑ دیا تھا۔اس 17سالہ نوجوان کا نام وِل کونیلی تھا۔ واضح رہے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر دو دہشتگرد حملوں میں 49افراد ہلاک اور 20سے زیادہ لوگ شدید زخمی ہوئے تھے ۔وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حملہ آور کے پاس پانچ بندوقیں تھیں اور ان کے پاس اس کا لائسنس بھی تھا۔حملے کے ایک دن بعد کرائسٹ چرچ میں وزیراعظم نے کہا کہ اسلحہ سے متعلق ہمارا قانون تبدیل کیا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ زیر حراست افراد میں سے کسی کا بھی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ملا۔پولیس نے ابھی تک ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ ہسپتال کے چیف سرجن گرگ رابرٹسن نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ 48 افراد حملے کے بعد ہسپتال میں داخل ہوئے۔ چار افراد کی موت راستے میں ہی واقع ہو گئی تھی جبکہ سات افراد کو طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق زیر نگہداشت افراد میں سے 11 کی حالت تشویشناک ہے جن میں ایک دو سال اور ایک تیرہ سالہ بچہ شامل ہیں۔ سرجن رابرٹسن نے بتایا کہ زیادہ تر مریض مرد ہیں جن کی عمریں 30 سے 40 برس کے درمیان ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایک چار سالہ بچی کو بھی آکلینڈ کے ہسپتال میں داخل کیا گیا جن کی حالت خطرے میں بتائی جا رہی ہے۔ بنگلہ دیش، انڈیا اور انڈونیشیا کا کہنا ہے کہ ان کے شہری ان حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی ریڈکراس نے لاپتہ افراد کی فہرست اپنی ویب سائٹ پر شائع کی ہے۔ نیوزی لینڈ میں مختلف ملکوں کے شہری اپنے لاپتہ ہونے والے ساتھیوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر اطلاعات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق نو بھارتی نژاد مسلمان ابھی تک لاپتہ ہیں جبکہ آٹھ بنگلہ دیشی نژاد افراد لاپتہ ہیں۔نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن نے مسجد پر فائرنگ کے واقعے کو دہشتگردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔

متعلقہ خبریں